رواںسال انکم ٹیکس کادائرہ بڑھانے پرتوجہ دینگےوفاقی وزیرخزانہ
حکومت نے تقریباً 3 ہزار عارضی ملازمین کو مستقل کیا جبکہ 30 ہزار برطرف کیے جانے والے ملازمین کو دوبارہ بحال کیا ۔
حکومت نے معیشت کو بہتر بنانے کیلیے کئی مشکل فیصلے کئے، حفیظ شیخ۔ فوٹو: فائل
وفاقی وزیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے کہا ہے کہ حکومت کے ابتدائی ساڑھے چار سال تاریخی ہیں۔
ٹیکسوں سے حاصل ہونے والی آمدن کو 1000 ارب سے بڑھا کر 2300 ارب تک پہنچایا دیا ہے، 2012-13 میں 350 ارب کا ٹیکسوں میں اضافہ کیا گیا جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 21 فیصد زیادہ ہے، حکومت نے تقریباً 3 ہزار عارضی ملازمین کو مستقل کیا جبکہ 30 ہزار برطرف کیے جانے والے ملازمین کو دوبارہ بحال کیا ۔
سرکاری ٹی وی کوخصوصی انٹرویو میں ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے کہا کہ موجودہ جمہوری حکومت جب 2008 میں برسراقتدار آئی تو ہماری شرح نمو کا مومینٹم ٹوٹ چکا تھا اور جی ڈی پی کی شرح کم ہو کر 2 فیصد تک پہنچ چکی تھی جبکہ افراط زر کی شرح 25 فیصد تھی، اسٹاک مارکیٹ میں سرگرمیاں محدود ہو کر رہ گئی تھیں، کرنٹ اکائونٹ اور مالیاتی خسارہ زیادہ تھا جبکہ ز مبادلہ ذخائر کم ہو کر 5ارب ڈالر تک رہ گئے تھے اور ڈالر کے مقابلے میں ملکی کرنسی میں مسلسل گراوٹ آئی، بجلی کا مسئلہ ورثے میں ملا اور ادائیگیوں کے توازن اور دہشت گردی کے باعث سیکیورٹی کے مسائل کا سامنا تھا تاہم حکومت نے ان چیلنجز سے نمٹنے کیلیے جامع اقدامات کئے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے معیشت کو بہتر بنانے کیلیے کئی مشکل فیصلے کئے، ہم آئی ایم ایف کے پاس گئے، تیل کی قیمتوں کو ڈی ریگولیٹ کیا اور بجلی کی قیمتوں پر سبسڈی دی، زری اور مالیاتی پالسیاں اپنائیں، افراط زر کو کم کیا، کفایت شعاری کے اقدامات کیے اور ٹیکسوں کے نظام کو بہتر بنایا۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت کی ان پالیسیوں کے باعث ملک میں اقتصادی استحکام آیا، روزگار کے مواقع فراہم کیے گئے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے موجودہ ٹیکس کنندہ گان پر کوئی اضافی ٹیکس عائد نہیں کیا جبکہ بعض ٹیکسوں کو ختم کر دیا گیا، ایکسائز ڈیوٹی میں کمی لائی گئی۔ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے کہا کہ حکومت خود انحصاری کی پالیسی پر عمل پیرا ہے جس کے باعث زیادہ سے زیادہ لوگوں کو ٹیکس کے دائرہ کار میں لایا جارہا ہے، بعض شعبے جنہیں پہلے رعایت دی گئی تھی اب انہیں ٹیکس کے دائرہ کار میں لایا جارہا ہے،ہم نے جو ٹیکس لگانے ہیں انہیں پارلیمنٹ سے منظور کرانا ہوتا ہے، ہم سیلز ٹیکس کے نظام میں تبدیلی لانا چاہتے تھے مگر اس میں مکمل کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔
تاہم کچھ حد تک بہتری لانے میں کامیاب ہوئے ہیں اور کئی سیکٹرز کو جو ٹیکس ادا نہیںکر رہے تھے ان کو ٹیکس کے دائرہ کار میں لایا گیاہے اور وہ ملازمین جو پہلے ٹیکس ادا کر رہے تھے ان پر ٹیکس کے بوجھ میں کمی لائی گئی ہے اور انہیں سہولت فراہم کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ رواں سال انکم ٹیکس کے دائرہ کار کو بڑھانے پر توجہ دی جائے گی، دوسری طرف حکومت کی قرضے لینے کی شرح میں بھی کمی ہوئی ہے، فوڈسیکیورٹی کیلیے پاکستان نے دوسرے ممالک کی نسبت بہتر اقدامات کیے ہیں۔
ٹیکسوں سے حاصل ہونے والی آمدن کو 1000 ارب سے بڑھا کر 2300 ارب تک پہنچایا دیا ہے، 2012-13 میں 350 ارب کا ٹیکسوں میں اضافہ کیا گیا جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 21 فیصد زیادہ ہے، حکومت نے تقریباً 3 ہزار عارضی ملازمین کو مستقل کیا جبکہ 30 ہزار برطرف کیے جانے والے ملازمین کو دوبارہ بحال کیا ۔
سرکاری ٹی وی کوخصوصی انٹرویو میں ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے کہا کہ موجودہ جمہوری حکومت جب 2008 میں برسراقتدار آئی تو ہماری شرح نمو کا مومینٹم ٹوٹ چکا تھا اور جی ڈی پی کی شرح کم ہو کر 2 فیصد تک پہنچ چکی تھی جبکہ افراط زر کی شرح 25 فیصد تھی، اسٹاک مارکیٹ میں سرگرمیاں محدود ہو کر رہ گئی تھیں، کرنٹ اکائونٹ اور مالیاتی خسارہ زیادہ تھا جبکہ ز مبادلہ ذخائر کم ہو کر 5ارب ڈالر تک رہ گئے تھے اور ڈالر کے مقابلے میں ملکی کرنسی میں مسلسل گراوٹ آئی، بجلی کا مسئلہ ورثے میں ملا اور ادائیگیوں کے توازن اور دہشت گردی کے باعث سیکیورٹی کے مسائل کا سامنا تھا تاہم حکومت نے ان چیلنجز سے نمٹنے کیلیے جامع اقدامات کئے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے معیشت کو بہتر بنانے کیلیے کئی مشکل فیصلے کئے، ہم آئی ایم ایف کے پاس گئے، تیل کی قیمتوں کو ڈی ریگولیٹ کیا اور بجلی کی قیمتوں پر سبسڈی دی، زری اور مالیاتی پالسیاں اپنائیں، افراط زر کو کم کیا، کفایت شعاری کے اقدامات کیے اور ٹیکسوں کے نظام کو بہتر بنایا۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت کی ان پالیسیوں کے باعث ملک میں اقتصادی استحکام آیا، روزگار کے مواقع فراہم کیے گئے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے موجودہ ٹیکس کنندہ گان پر کوئی اضافی ٹیکس عائد نہیں کیا جبکہ بعض ٹیکسوں کو ختم کر دیا گیا، ایکسائز ڈیوٹی میں کمی لائی گئی۔ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے کہا کہ حکومت خود انحصاری کی پالیسی پر عمل پیرا ہے جس کے باعث زیادہ سے زیادہ لوگوں کو ٹیکس کے دائرہ کار میں لایا جارہا ہے، بعض شعبے جنہیں پہلے رعایت دی گئی تھی اب انہیں ٹیکس کے دائرہ کار میں لایا جارہا ہے،ہم نے جو ٹیکس لگانے ہیں انہیں پارلیمنٹ سے منظور کرانا ہوتا ہے، ہم سیلز ٹیکس کے نظام میں تبدیلی لانا چاہتے تھے مگر اس میں مکمل کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔
تاہم کچھ حد تک بہتری لانے میں کامیاب ہوئے ہیں اور کئی سیکٹرز کو جو ٹیکس ادا نہیںکر رہے تھے ان کو ٹیکس کے دائرہ کار میں لایا گیاہے اور وہ ملازمین جو پہلے ٹیکس ادا کر رہے تھے ان پر ٹیکس کے بوجھ میں کمی لائی گئی ہے اور انہیں سہولت فراہم کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ رواں سال انکم ٹیکس کے دائرہ کار کو بڑھانے پر توجہ دی جائے گی، دوسری طرف حکومت کی قرضے لینے کی شرح میں بھی کمی ہوئی ہے، فوڈسیکیورٹی کیلیے پاکستان نے دوسرے ممالک کی نسبت بہتر اقدامات کیے ہیں۔