ہرن کے شکار پر وزیر کا بیٹا بھائی گرفتار

آج کے دور میں جنگلی جانوروں اور مہاجرت کرنے والے پرندوں کا شکار کرنا یقیناً بہت ظلم ہے

مالدار لوگوں کو حراست کے بجائے بھاری جرمانے کی سزائیں ہی ملنی چاہئیں۔ فوٹو: فائل

وہ زمانہ جب انسان نے ابھی کھیتی باڑی شروع نہیں کی تھی تو اسے جنگلی پھلوں پودوں کے ساتھ پیٹ بھرنے کے لیے مجبوراً جانوروں اور پرندوں کا شکار کرنا پڑتا تھا لیکن بعد ازاں جب اس نے بھیڑ بکریاں پالنا شروع کر دیں تو شکار کی ضرورت ختم ہو گئی۔ آج کے دور میں جنگلی جانوروں اور مہاجرت کرنے والے پرندوں کا شکار کرنا یقیناً بہت ظلم ہے اور افسوس کی بات یہ ہے کہ آج اس علت میں زیادہ تر طبقہ اشرافیہ کے لوگ مبتلا ہیں خواہ ان کا تعلق اندرون ملک سے ہے یا بیرون ملک سے جنھیں ہماری انتظامیہ باقاعدہ طور پر شکار کے لائسنس جاری کرتی ہے۔


تازہ خبر کے مطابق بہاولپور کے صحرائی علاقے چولستان میں غیر قانونی طور پر چنکارا ہرن کا شکار کر کے فرار ہونے کی کوشش کے دوران وائلڈ لائف کے اہلکاروں کی گاڑی سے ٹکرا کر چند اہلکاروں زخمی کرنے کے الزام میں 7 شکاری گرفتار کر لیے جن میں ایک وفاقی وزیر کا بیٹا، بھائی سابق ایم پی اے اور دیگر شامل ہیں۔ ان کے قبضے سے غیرقانونی اسلحہ بھی برآمد کیا گیا۔

بالائی طبقہ کے یہ ارکان اپنے شوق کے باعث معصوم جانوروں کا شکار کر رہے تھے جنھیں اس بات کا احساس نہیں تھا کہ آج کی مہذب دنیا میں جنگلی حیات کے تحفظ کی کوشش کی جاتی ہے کیونکہ بے رحمانہ شکار کے باعث کئی جانوروں اور پرندوں کی نسلیں ہی معدوم ہو چکی ہیں۔ نیز وطن عزیز میں جنگلات کے افسوسناک صفایا کی وجہ سے پہلے ہی جنگلی حیات کا دائرہ بہت سکڑ گیا ہے' ایسی صورت میں یہاں شکار پر اور زیادہ سختی سے پابندیاں عائد رہنی چاہئیں اس حوالے سے ہماری وائلڈ لائف ٹیم کی کارکردگی کو بھر پور انداز سے سراہا جانا چاہیے اور ان کو نقد انعامات بھی دینے چاہئیں جو بے شک ملزموں سے بھاری جرمانے کی شکل میں وصول کی جائے۔ مالدار لوگوں کو حراست کے بجائے بھاری جرمانے کی سزائیں ہی ملنی چاہئیں جو اچھی کارکردگی دکھانے والے سرکاری اہلکاروں میں تقسیم کیا جائے تاکہ ان کی حوصلہ افزائی ہو۔
Load Next Story