پاکستان اسٹیل کا آڈٹ شکوک و شبہات کے باعث وزارت صنعت کی درخواست پر شروع ہوا

موجودہ حکومت کے دور میں پاکستان اسٹیل کے خسارے اور واجبات میں 175ارب روپے کا اضافہ ہوا ہے۔

موجودہ حکومت کے دور میں پاکستان اسٹیل کے خسارے اور واجبات میں 175ارب روپے کا اضافہ ہوا ہے۔ فوٹو: فائل

پاکستان اسٹیل کی انتظامیہ پر وفاقی وزارت صنعت و پیداوار کی جانب سے شکوک و شبہات کا اظہار کرتے ہوئے خصوصی آڈٹ کی درخواست کا انکشاف ہوا ہے۔

ایکسپریس کو دستیاب دستاویزات کے مطابق وفاقی سیکریٹری وزارت صنعت و پیداوار کی جانب سے آڈیٹر جنرل رانا اسد امین کو 22فروری 2016کو ارسال کردہ خط میں پاکستان اسٹیل کی انتظامیہ کی جانب سے 3.3ارب روپے کی انوینٹری کی فروخت، پیداوار بند ہونے کے باوجود 79کروڑ روپے کے خام مال کی خریداری اور 1.4ارب روپے کے بلوں کی ادائیگی پر سخت حیرانی اور شکوک وشبہات کا اظہار کیا گیا۔

آزاد ماہرین نے وفاقی حکومت کی جانب سے پاکستان اسٹیل کے جولائی سے دسمبر 2015تک کے امور کا خصوصی آڈٹ کیے جانے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ چھ ماہ کے آڈٹ سے ایسا لگتا ہے کہ جیسے دال میں کچھ کالا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ خصوصی آڈٹ کے ذریعے پاکستان اسٹیل میں گزشتہ دو سال کے دوران کی جانے والی غفلت اور بدانتظامی سمیت مبینہ بدعنوانی پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ موجودہ حکومت کے دور میں پاکستان اسٹیل کے خسارے اور واجبات میں 175ارب روپے کا اضافہ ہوا ہے۔


پاکستان اسٹیل کیلیے قابل اور اہل سی ای او سمیت بورڈ کے اراکین بھی خود حکومت نے نامزد کیے ہیں جو پاکستان اسٹیل کے معاملات کو بہتر بنانے میں مکمل طور پر ناکام رہے۔ خط میں سینیٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی کی جانب سے پاکستان اسٹیل کی انتظامیہ کی کارکردگی پر عدم اطمینان کے اظہار بالخصوص 3.3ارب روپے کی انوینٹری کی فروخت کے باوجود ریٹائرڈ ملازمین کے واجبات کو کسی قسم کی ادائیگی نہ کیے جانے پر سینیٹ کے اراکین کی برہمی کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔

خط میں نج کاری کمیشن کے اس خط کا بھی حوالہ دیا گیا جس میں نج کاری کمیشن نے بھی وفاقی حکومت کی جانب سے 48کروڑ روپے ماہانہ تنخواہوں کا بوجھ اٹھانے کے باوجود انتظامیہ کی جانب سے انوینٹری ٹھکانے لگانے پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔وفاقی سیکریٹری وزارت صنعت و پیداوار کی جانب سے آڈیٹر جنرل کو لکھے گئے خط میں خصوصی آڈٹ کیلیے ٹرم اینڈ ریفرنس بھی فراہم کیے گئے ہیں۔

وفاقی وزارت نے آڈیٹر جنرل سے درخواست کی ہے کہ خصوصی آڈٹ کے ذریعے معلوم کیا جائے کہ سپلائرز کو کی جانے والی ادائیگیاں کس بنیاد پر کی گئیں اور ان ادائیگیوں میں شفافیت پائی جاتی ہے یا نہیں۔ پیداوار بند ہونے کے باوجود 79کروڑ روپے کے خام مال کی خریداری کی ضرورت کیوں پڑی، خام مال کی خریداری کے کنٹریکٹ کب کیے گئے تھے، سپلائرز اور قرض خواہوں کو 1.4ارب روپے کی ادائیگیاں کس بنیاد پر کی گئیں، انتظامیہ کی جانب سے 25کروڑ روپے کی متفرق ادائیگیوں پر بھی سوالیہ نشان لگایا گیا ہے جبکہ یوٹیلٹی بلز کی مد میں 1.6ارب روپے کی ادائیگیوں کی کراس ویریفکیشن کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔

وفاقی وزارت نے فروخت کی جانیوالی انوینٹری کی قیمت کا مارکیٹ کی قیمتوں سے موازنہ کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ وفاقی حکومت نے بند پلانٹ کو چلانے کیلیے درکار افرادی قوت کا تخمینہ لگانے، جون 2015کے بعد سے کنٹریکٹ اور یومیہ اجرت ملازمین کی خدمات کا جواز تلاش کرنے اور پلانٹ کی موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے کنٹریکٹ اوریومیہ اجرات ملازمین کی چھانٹیوں کے بارے میں بھی جائزہ لینے کی سفارش کی ہے۔ واضح رہے کہ وفاقی سیکریٹری وزارت صنعت و پیداوار کی سفارش پر آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے پاکستان اسٹیل کے خصوصی آڈٹ کا آغاز کردیا ہے، آڈٹ کیلیے اسسٹنٹ ڈائریکٹر سعید احمد کو مقرر کیا گیا ہے۔
Load Next Story