جعلی بل آف لیڈنگ کیس ماسٹرمائنڈ مقدمے میں نامزد نہیں
اپنی ہی کمپنی سے مماثل نام پرفرمزبناکربیرونی کلائنٹس اورکاروبارہتھیانا چاہتا تھا
مالکان نے برطرف کردیاتھا،کسٹمزحکام ودیگرکانام بھی شامل نہیں،معاملہ مشکوک ہوگیا،ذرائع۔ فوٹو: محمد عظیم/ایکسپریس/فائل
جعلی بل آف لیڈنگ (شپ کارگولسٹ) کیس میں درج کی گئی2 درجن سے زائد ایف آئی آرز میں کنسائنمٹس کی کلیئرنس کے ذمے دارکسٹمز افسران، متعلقہ شپنگ کمپنی کے سی ای او اور دیگر ذمے داروں کی عدم شمولیت نے معاملے کو مشکوک بنا دیا ہے۔
ذرائع نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ ماڈل کسٹمز کلکٹریٹ اپریزمنٹ ایسٹ اورویسٹ کی جانب سے جعلی بل آف لیڈنگ کے ذریعے متعدد کنسائمنٹس کی کلیئرنس پر 30سے زائد ایف آئی آر درج کی گئی ہیں لیکن جعلسازی کے اس کاروبار کے مبینہ طور پر ماسٹر مائنڈ کا نام اس میں درج نہیں مگرکمپنی میں نچلی سطح پر خدمات انجام دینے والے ایک منیجرکو اس کا نام ایف آئی آر میں درج کرکے گرفتارکرلیاگیا جس نے دوران تفتیش اپنے قلم بند بیان میں انکشاف کیاکہ بل آف لیڈنگ میں ترامیم انھوں نے اس وقت کے چیف ایگزیکٹو کی ہدایات پر کی تھیں لیکن نامعلوم وجوہ کی بنا پر کسٹمزکی جانب سے اس شپنگ کمپنی کے سی ای او اور متعلقہ کسٹمز حکام کیخلاف کارروائی سے گریزکیا جا رہا ہے۔
ذرائع نے بتایاکہ جعلی بل آف لیڈنگ کیس کی مرتکب مذکورہ شپنگ کمپنی کے سی ای اوکچھ عرصہ قبل برطرف کردیے گئے ہیں تاہم اپنی برطرفی سے قبل انھوں نے میسرزاے ایم آئی پاکستان پرائیویٹ لمیٹڈکے بیرونی کلائنٹس اوراس کا چلتا ہوا کاروبار حاصل کرنے کی غرض سے طاہر شفیع نامی شخص کی شراکت سے میسرز اے ایم آئی انٹرنیشنل لاجسٹک (پرائیویٹ) لمیٹڈ نامی شپنگ کمپنی قائم کردی جس کا علم ہونے پر میسرزاے ایم آئی پاکستان پرائیویٹ لمیٹڈ کے مالکان نے ملتے جلتے نام کی اس کمپنی کے خلاف عدالت سے حکم امتناع حاصل کرنے کے بعد فوری طور پرانھیں سی ای اوکے عہدے سے برطرف کردیا تاہم برطرفی کے بعد انھوں نے نے اسی طاہرشفیع نامی شخص کی شراکت داری سے میسرز آئی ایم اے پاکستان کے نام سے ایک اور شپنگ کمپنی قائم کردی۔
ذرائع کے مطابق پاکستان کسٹمز کی جانب سے جعلی بل آف لیڈنگ اسکینڈل کے مقدمے میں متعلقہ شپنگ ایجنٹ کو بھی شامل نہیں کیا گیا جس نے تحریری طور پر اے ایم آئی پاکستان پرائیویٹ لمیٹڈکو امپورٹ جنرل مینیفسٹ (آئی جی ایم) فائل کرنے کی اجازت دی تھی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ جعلی بل آف لیڈنگ کیس میں متاثرہ شپنگ کمپنی میسرز اے ایم آئی پاکستان پرائیویٹ لمیٹڈ میں انتظامی سطح پر بے قاعدگیاں ضرور ہوئیں لیکن اس اسکینڈل میں مبینہ طور پرپوری چین (chain) ملوث ہے جس میں کنسائمنٹس کی کلیئرنس کرنے والے کسٹم حکام وامپورٹرزدیگر شعبے بھی شامل ہیں، ایف آئی آرز میں جب تک تمام ذمے داروں کو شامل نہیں کیا جائے گا اس وقت تک کسٹمز کی تحقیقات یکطرفہ اور مشکوک رہنے کا خدشہ ہے۔
ذرائع نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ ماڈل کسٹمز کلکٹریٹ اپریزمنٹ ایسٹ اورویسٹ کی جانب سے جعلی بل آف لیڈنگ کے ذریعے متعدد کنسائمنٹس کی کلیئرنس پر 30سے زائد ایف آئی آر درج کی گئی ہیں لیکن جعلسازی کے اس کاروبار کے مبینہ طور پر ماسٹر مائنڈ کا نام اس میں درج نہیں مگرکمپنی میں نچلی سطح پر خدمات انجام دینے والے ایک منیجرکو اس کا نام ایف آئی آر میں درج کرکے گرفتارکرلیاگیا جس نے دوران تفتیش اپنے قلم بند بیان میں انکشاف کیاکہ بل آف لیڈنگ میں ترامیم انھوں نے اس وقت کے چیف ایگزیکٹو کی ہدایات پر کی تھیں لیکن نامعلوم وجوہ کی بنا پر کسٹمزکی جانب سے اس شپنگ کمپنی کے سی ای او اور متعلقہ کسٹمز حکام کیخلاف کارروائی سے گریزکیا جا رہا ہے۔
ذرائع نے بتایاکہ جعلی بل آف لیڈنگ کیس کی مرتکب مذکورہ شپنگ کمپنی کے سی ای اوکچھ عرصہ قبل برطرف کردیے گئے ہیں تاہم اپنی برطرفی سے قبل انھوں نے میسرزاے ایم آئی پاکستان پرائیویٹ لمیٹڈکے بیرونی کلائنٹس اوراس کا چلتا ہوا کاروبار حاصل کرنے کی غرض سے طاہر شفیع نامی شخص کی شراکت سے میسرز اے ایم آئی انٹرنیشنل لاجسٹک (پرائیویٹ) لمیٹڈ نامی شپنگ کمپنی قائم کردی جس کا علم ہونے پر میسرزاے ایم آئی پاکستان پرائیویٹ لمیٹڈ کے مالکان نے ملتے جلتے نام کی اس کمپنی کے خلاف عدالت سے حکم امتناع حاصل کرنے کے بعد فوری طور پرانھیں سی ای اوکے عہدے سے برطرف کردیا تاہم برطرفی کے بعد انھوں نے نے اسی طاہرشفیع نامی شخص کی شراکت داری سے میسرز آئی ایم اے پاکستان کے نام سے ایک اور شپنگ کمپنی قائم کردی۔
ذرائع کے مطابق پاکستان کسٹمز کی جانب سے جعلی بل آف لیڈنگ اسکینڈل کے مقدمے میں متعلقہ شپنگ ایجنٹ کو بھی شامل نہیں کیا گیا جس نے تحریری طور پر اے ایم آئی پاکستان پرائیویٹ لمیٹڈکو امپورٹ جنرل مینیفسٹ (آئی جی ایم) فائل کرنے کی اجازت دی تھی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ جعلی بل آف لیڈنگ کیس میں متاثرہ شپنگ کمپنی میسرز اے ایم آئی پاکستان پرائیویٹ لمیٹڈ میں انتظامی سطح پر بے قاعدگیاں ضرور ہوئیں لیکن اس اسکینڈل میں مبینہ طور پرپوری چین (chain) ملوث ہے جس میں کنسائمنٹس کی کلیئرنس کرنے والے کسٹم حکام وامپورٹرزدیگر شعبے بھی شامل ہیں، ایف آئی آرز میں جب تک تمام ذمے داروں کو شامل نہیں کیا جائے گا اس وقت تک کسٹمز کی تحقیقات یکطرفہ اور مشکوک رہنے کا خدشہ ہے۔