نجی اسپتالوں میں وینٹی لیٹر اور انکو بیٹری کمائی کا ذریعہ بن گئے

یومیہ 8 سے12ہزار وصولی،نجی اسپتال یکساں قانون نہ ہونے سے مرضی کی فیس لے رہے ہیں،مہنگی فیس غریبوں کی دسترس سے با ہر.

یومیہ 8 سے12ہزار وصولی،نجی اسپتال یکساں قانون نہ ہونے سے مرضی کی فیس لے رہے ہیں،مہنگی فیس غریبوں کی دسترس سے با ہر. فوٹو فائل

کراچی کے سرکاری اسپتالوں میں انکوبیٹراوروینٹی لیٹرزکی شدیدکمی کے باعث ماہانہ درجنوں بچے زندگی کی بازی ہارجاتے ہیں۔

نجی اسپتالوں میں وینٹی لیٹر اور انکوبیٹرکی مہنگی فیس غریبوں کی دسترس سے با ہر ہوگئی ہے، ان نجی اسپتالوں میں بچے اور بڑوں کووینٹی لیٹرپر منتقل کرنے کی مد میں یومیہ 8 سے12ہزار روپے فیسں وصول کی جارہی ہے، یہ سہولت نجی اسپتالوں میں کمائی کا بڑا ذریعہ بن گئی ہے،صوبائی محکمہ صحت کی جانب سے سرکاری اسپتالوں میں وینٹی لیٹرز اور انکوبیٹرکی فراہمی یقینی بنانے کیلیے کوئی اقدامات نظر نہیں آتے، تفصیلات کے مطابق سرکاری اسپتالوں میں محدود تعداد میں دستیاب وینٹی لیٹرزکے باوجود بھی مستحق مریض وینٹی لیٹرزکی سہولتوں سے محروم ہیں۔


بعض سرکاری اسپتالوں میں وینٹی لیٹر ہونےکے باوجود مریضوںکووینٹ دینے سے انکارکردیا جاتا ہے ایسی صورت میں مریض کے اہلخانہ اپنے پیاروںکی زندگی بچانے کیلیے نجی اسپتالوں کا رخ کرتے ہیں جہاں مریضوں کو وینٹ پر منتقل کرنے کی مد میں 12ہزار روپے یومیہ فیس وصول کی جاتی ہے، ماہرین طب کے مطابق وینٹی لیٹرز اسپتالوں کے میڈیکل آئی سی یو، سرجیکل آئی سی یو، نیوروسرجری یونٹ، نیورولوجی کومہ کیئر یونٹ میں لازمی موجود ہوتے ہیں ایسے مریض جنھیں دماغی چوٹ، پھیپھڑوںکی بیماریاں اور نظام تنفس (سانس کے امراض) ہو ان کو بحال رکھنے کیلیے انھیں وینٹی لیٹرز پر منتقل کیاجاتاہے ۔

نجی اسپتالوں میں یکساں فیس کا قانون نہ ہونے کی وجہ سے ہر اسپتال اپنی مرضی سے فیسں وصول کرنے میں مصروف ہے اوسطاً یومیہ 12ہزارروپے وینٹی لیٹر کی مد میں مریضوں کے اہلخانہ سے وصول کیے جارہے ہیں، غریب مریضوں کی یومیہ 12ہزار روپے دینے کی سکت نہ ہونے کی وجہ سے وہ اپنے پیاروںکواپنے سامنے زندگی کی بازی ہارتے ہوئے دیکھتے ہیں، اس وقت سول اسپتال میں8جناح اسپتال میں10، عباسی اسپتال میں6 وینٹی لیٹرزموجود ہیں جہاں ہر وقت مریضوں کا رش رہتا ہے اور وینٹ مصروف رہتے ہیں۔
Load Next Story