کراچی میں امن پاکستان میں امن
کراچی کی تاجر برادری اورعام شہری کسی حد تک مطمئن ہیں اورشہرقائد میں ماضی کے مقابلے میں امن وامان کی صورت حال بہتر ہے
دہشت گردی کا خاتمہ ایک طویل المدتی عمل ہے اس میں سول اداروں کی زیادہ سے زیادہ شرکت معاون ثابت ہو گی۔ فوٹو؛ فائل
ISLAMABAD:
ڈی جی رینجرز سندھ میجر جنرل بلال اکبر نے اتوار کو رینجرز ہیڈ کوارٹرز سندھ کا دورہ کرنے والے آل پاکستان سیکیورٹی سروسز ایسوسی ایشن کے وفد سے ملاقات کے بعد انھیں بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ رینجرز کا آپریشن کسی ایک گروہ یا پارٹی کے خلاف نہیں' بلکہ یہ جرائم پیشہ عناصر کی سرکوبی تک جاری رہے گا مذہبی اور سیاسی جماعتیں دہشت گرد اور جرائم پیشہ افراد کو اپنی صفوں میں جگہ نہ دیں۔
کراچی میں رینجرز کے آپریشن سے پہلے اور بعد کی صورت حال میں امن و امان کے حوالے سے جو نمایاں بہتری آئی ہے اس کی حقیقت سے کسی کو انکار نہیں۔ آج کراچی کی تاجر برادری اور عام شہری کسی حد تک مطمئن ہیں اور شہر قائد میں ماضی کے مقابلے میں امن وامان کی صورت حال بہتر ہے۔ رینجرز اور دیگر سیکیورٹی اداروں نے بھتہ خور مافیا' جرائم پیشہ گروہ اور دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کر کے شہر قائد کی رونقیں کسی حد تک بحال کر دی ہیں اور شہریوں میں ایک بار پھر تحفظ کا احساس پیدا ہوا ہے۔تاہم ابھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔
جرائم پیشہ عناصر کی سرکوبی کے لیے رینجرز' پولیس اور دیگر سیکیورٹی اداروں نے جو قربانیاں دی ہیں اس کی حقیقت بھی سب کے سامنے ہے۔ جہاں تک مذہبی اور سیاسی جماعتوں کی جانب سے جرائم پیشہ افراد کو پناہ دینے کا تعلق ہے تو یہ باتیں بھی منظرعام پر آ چکی ہیں کہ بعض مذہبی اور سیاسی جماعتیں دہشت گردوں اور جرائم پیشہ افراد کی پشت پناہی کرتی چلی آ رہی ہیں جس کے باعث یہ جرائم پیشہ افراد قانون کی گرفت سے بچ جاتے ہیں، اگر یہ پکڑے بھی جائیں تو ان کی پشت پناہ جماعتیں انھیں رہا کرانے کے لیے تمام تر کوششیں بروئے کار لاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کراچی کے حالات خراب سے خراب تر ہوتے چلے گئے۔
مبصرین کی جانب سے یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ بعض مذہبی اور سیاسی جماعتیں اپنے نظریات کے فروغ کے لیے قانون شکن افراد کا تحفظ کرتیں اور ان کے افعال کو جرائم تصور نہیں کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سیکیورٹی اداروں کی تمام تر کوششوں اور قربانیوں کے باوجود جرائم اور دہشت گردی ختم نہیں ہو رہی۔ جب تک ایسی مذہبی اور سیاسی جماعتیں دہشت گردوں کی پشت پناہی چھوڑ نہیں دیتیں جرائم کا سلسلہ یونہی چلتا رہے گا۔ ملک میں حقیقی معنوں میں امن و امان قائم کرنے کے لیے لازم ہے کہ جرائم پیشہ افراد کی پشت پناہی کرنے والی قوتوں کے خلاف بلا امتیاز کریک ڈاؤن کیا جائے۔
کراچی میں آپریشن کے دوران کچھ سیاسی جماعتوں نے یہ واویلا مچانا شروع کر دیا کہ یہ کارروائی ان کے خلاف کی جا رہی ہے لیکن حکومت کی جانب سے اس موقف کا بارہا اظہار کیا گیا کہ آپریشن کسی خاص جماعت نہیں بلکہ جرائم پیشہ افراد کے خلاف ہے۔ ڈی جی رینجرز سندھ نے بھی اسی موقف کا اعادہ کیا ہے کہ رینجرز کا آپریشن کسی ایک گروہ یا پارٹی کے خلاف نہیں ۔ دہشت گردی پر تنہا کوئی ادارہ قابو نہیں پا سکتا اس کے لیے ناگزیر ہے کہ دیگر اداروں کو بھی اس عمل میں شریک کیا جائے۔
امن و امان پر یقین رکھنے والی جماعتوں پر یہ بھاری ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف عوام کو متحرک کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ دہشت گردوں کی بڑی تعداد بے چہرہ اور بے شناخت ہے، اس صورت حال کے تناظر میں ان کے خلاف کارروائی کا دائرہ وسیع کرنا ضروری ہو گیا ہے اور اس عمل میں عوامی سطح پر سیکیورٹی سروسز فراہم کرنے والے اور بلدیاتی اداروں کو بھی شریک کیا جائے تو جرائم پیشہ افراد پر قابو پانے میں آسانی پیدا ہو سکتی ہے۔
لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس امر کا بھی خاص خیال رکھا جائے کہ سیکیورٹی اداروں میں امیدواروں کی بھرتی کے معیار کے علاوہ ان کے نظریات اور رابطوں کی بھی جانچ پڑتال کی جانی چاہیے کیونکہ ایسی خبریں منظرعام پر آ چکی ہیں کہ ڈکیتی اور جرائم کی بہت سی وارداتوں میں سیکیورٹی اداروں کے کچھ اہلکار بھی ملوث پائے گئے ہیں اس لیے پرائیویٹ سیکیورٹی اداروں کی خدمات حاصل کرتے وقت احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا جائے۔
جرائم پر قابو پانا کوئی آسان کام نہیں خاص طور پر اس وقت جب ان کی پشت پناہی بعض جماعتیں اور بااثر افراد کر رہے ہوں، اسی لیے ڈی جی رینجرز سندھ نے اس حقیقت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ کراچی میں دہشت گردوں کے خلاف شروع کیا گیا آپریشن مدت اور رفتار کی قید سے آزاد ہے اور یہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک جاری رہے گا۔
دہشت گردی کا خاتمہ ایک طویل المدتی عمل ہے اس میں سول اداروں کی زیادہ سے زیادہ شرکت معاون ثابت ہو گی۔ اس کے ساتھ ساتھ پولیس اور دیگر سرکاری اداروں میں موجود کرپٹ لوگوں کا احتساب ہونا چاہیے ۔کراچی میں امن قائم کرنے کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کو اپنا مثبت کردار ادا کرنا چاہیے۔کراچی میں امن ہوگا تو سمجھیں پورے پاکستان میں امن ہوگا۔
ڈی جی رینجرز سندھ میجر جنرل بلال اکبر نے اتوار کو رینجرز ہیڈ کوارٹرز سندھ کا دورہ کرنے والے آل پاکستان سیکیورٹی سروسز ایسوسی ایشن کے وفد سے ملاقات کے بعد انھیں بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ رینجرز کا آپریشن کسی ایک گروہ یا پارٹی کے خلاف نہیں' بلکہ یہ جرائم پیشہ عناصر کی سرکوبی تک جاری رہے گا مذہبی اور سیاسی جماعتیں دہشت گرد اور جرائم پیشہ افراد کو اپنی صفوں میں جگہ نہ دیں۔
کراچی میں رینجرز کے آپریشن سے پہلے اور بعد کی صورت حال میں امن و امان کے حوالے سے جو نمایاں بہتری آئی ہے اس کی حقیقت سے کسی کو انکار نہیں۔ آج کراچی کی تاجر برادری اور عام شہری کسی حد تک مطمئن ہیں اور شہر قائد میں ماضی کے مقابلے میں امن وامان کی صورت حال بہتر ہے۔ رینجرز اور دیگر سیکیورٹی اداروں نے بھتہ خور مافیا' جرائم پیشہ گروہ اور دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کر کے شہر قائد کی رونقیں کسی حد تک بحال کر دی ہیں اور شہریوں میں ایک بار پھر تحفظ کا احساس پیدا ہوا ہے۔تاہم ابھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔
جرائم پیشہ عناصر کی سرکوبی کے لیے رینجرز' پولیس اور دیگر سیکیورٹی اداروں نے جو قربانیاں دی ہیں اس کی حقیقت بھی سب کے سامنے ہے۔ جہاں تک مذہبی اور سیاسی جماعتوں کی جانب سے جرائم پیشہ افراد کو پناہ دینے کا تعلق ہے تو یہ باتیں بھی منظرعام پر آ چکی ہیں کہ بعض مذہبی اور سیاسی جماعتیں دہشت گردوں اور جرائم پیشہ افراد کی پشت پناہی کرتی چلی آ رہی ہیں جس کے باعث یہ جرائم پیشہ افراد قانون کی گرفت سے بچ جاتے ہیں، اگر یہ پکڑے بھی جائیں تو ان کی پشت پناہ جماعتیں انھیں رہا کرانے کے لیے تمام تر کوششیں بروئے کار لاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کراچی کے حالات خراب سے خراب تر ہوتے چلے گئے۔
مبصرین کی جانب سے یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ بعض مذہبی اور سیاسی جماعتیں اپنے نظریات کے فروغ کے لیے قانون شکن افراد کا تحفظ کرتیں اور ان کے افعال کو جرائم تصور نہیں کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سیکیورٹی اداروں کی تمام تر کوششوں اور قربانیوں کے باوجود جرائم اور دہشت گردی ختم نہیں ہو رہی۔ جب تک ایسی مذہبی اور سیاسی جماعتیں دہشت گردوں کی پشت پناہی چھوڑ نہیں دیتیں جرائم کا سلسلہ یونہی چلتا رہے گا۔ ملک میں حقیقی معنوں میں امن و امان قائم کرنے کے لیے لازم ہے کہ جرائم پیشہ افراد کی پشت پناہی کرنے والی قوتوں کے خلاف بلا امتیاز کریک ڈاؤن کیا جائے۔
کراچی میں آپریشن کے دوران کچھ سیاسی جماعتوں نے یہ واویلا مچانا شروع کر دیا کہ یہ کارروائی ان کے خلاف کی جا رہی ہے لیکن حکومت کی جانب سے اس موقف کا بارہا اظہار کیا گیا کہ آپریشن کسی خاص جماعت نہیں بلکہ جرائم پیشہ افراد کے خلاف ہے۔ ڈی جی رینجرز سندھ نے بھی اسی موقف کا اعادہ کیا ہے کہ رینجرز کا آپریشن کسی ایک گروہ یا پارٹی کے خلاف نہیں ۔ دہشت گردی پر تنہا کوئی ادارہ قابو نہیں پا سکتا اس کے لیے ناگزیر ہے کہ دیگر اداروں کو بھی اس عمل میں شریک کیا جائے۔
امن و امان پر یقین رکھنے والی جماعتوں پر یہ بھاری ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف عوام کو متحرک کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ دہشت گردوں کی بڑی تعداد بے چہرہ اور بے شناخت ہے، اس صورت حال کے تناظر میں ان کے خلاف کارروائی کا دائرہ وسیع کرنا ضروری ہو گیا ہے اور اس عمل میں عوامی سطح پر سیکیورٹی سروسز فراہم کرنے والے اور بلدیاتی اداروں کو بھی شریک کیا جائے تو جرائم پیشہ افراد پر قابو پانے میں آسانی پیدا ہو سکتی ہے۔
لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس امر کا بھی خاص خیال رکھا جائے کہ سیکیورٹی اداروں میں امیدواروں کی بھرتی کے معیار کے علاوہ ان کے نظریات اور رابطوں کی بھی جانچ پڑتال کی جانی چاہیے کیونکہ ایسی خبریں منظرعام پر آ چکی ہیں کہ ڈکیتی اور جرائم کی بہت سی وارداتوں میں سیکیورٹی اداروں کے کچھ اہلکار بھی ملوث پائے گئے ہیں اس لیے پرائیویٹ سیکیورٹی اداروں کی خدمات حاصل کرتے وقت احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا جائے۔
جرائم پر قابو پانا کوئی آسان کام نہیں خاص طور پر اس وقت جب ان کی پشت پناہی بعض جماعتیں اور بااثر افراد کر رہے ہوں، اسی لیے ڈی جی رینجرز سندھ نے اس حقیقت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ کراچی میں دہشت گردوں کے خلاف شروع کیا گیا آپریشن مدت اور رفتار کی قید سے آزاد ہے اور یہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک جاری رہے گا۔
دہشت گردی کا خاتمہ ایک طویل المدتی عمل ہے اس میں سول اداروں کی زیادہ سے زیادہ شرکت معاون ثابت ہو گی۔ اس کے ساتھ ساتھ پولیس اور دیگر سرکاری اداروں میں موجود کرپٹ لوگوں کا احتساب ہونا چاہیے ۔کراچی میں امن قائم کرنے کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کو اپنا مثبت کردار ادا کرنا چاہیے۔کراچی میں امن ہوگا تو سمجھیں پورے پاکستان میں امن ہوگا۔