عذر گناہ بدتر از گنا

عرب بہار کے دوران نیٹو کے فوجی طیارے لیبیا وغیرہ پر بمباری کرکے باغیوں کی مدد کرتے رہے

zaheer_akhter_beedri@yahoo.com

امریکا ایک سپر پاور ہے اور سپر پاور کے صدر کی یہ ذمے داری ہوتی ہے کہ وہ کوئی اہم قدم اٹھانے سے پہلے اس کے ہر پہلو اس کے نفع نقصان اپنے ملک اور دنیا پر پڑنے والے اثرات کا جائزہ لے۔ ترقی یافتہ ملکوں میں تھنک ٹینک بھی ہوتے ہیں جو خارجہ امور پر حکومتوں کو ماہرانہ مشورے فراہم کرتے ہیں، ان احتیاطوں کو نظرانداز کرنے کے کیسے سنگین نتائج سامنے آتے ہیں اس کا اندازہ 2011 کی ''عرب بہار'' کے نتائج سے لگایا جاسکتا ہے۔

امریکی صدر بارک اوباما نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ 2011 میں قذافی کے خلاف نیٹو افواج کی مداخلت کی حمایت کرنا میری غلطی تھی، انھوں نے یہ بھی کہا ہے کہ لیبیا میں کشیدگی کے ذمے دار برطانیہ اور فرانس ہیں۔ موصوف نے یہ بھی کہا ہے کہ شامی حکومت کے خلاف بمباری نہ کرنے پر مجھے فخر ہے۔ اوباما نے کہا ہے کہ شامی صدر بشار الاسد کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال پر امریکا کی طرف سے فوجی کارروائی نہ کرنے کا کوئی افسوس نہیں ہے۔

شامی حکومت کی طرف سے سرخ لکیر عبور کرنے کے باوجود شامی حکومت کے خلاف کارروائی نہ کرنا درست فیصلہ تھا، جس پر مجھے فخر ہے۔ شام میں مسلسل خانہ جنگی کی وجہ سے لاکھوں شامی ترک وطن کرکے مغربی ملکوں میں پناہ لے رہے ہیں۔ بچوں کے حقوق کی ایک تنظیم نے انکشاف کیا ہے کہ شام میں ڈھائی لاکھ بچے اپنے خاندانوں سے بچھڑے ہوئے ہیں۔ ترک وطن کرنے والوں میں سب سے بڑی تعداد شامی شہریوں کی ہے۔

عرب بہار کے دوران نیٹو کے فوجی طیارے لیبیا وغیرہ پر بمباری کرکے باغیوں کی مدد کرتے رہے۔ لیبیا، تیونس اور مصر میں عوام نے اس وقت کی حکومتوں کے خلاف جو بغاوت کی اس میں لیبیا کے صدر کرنل معمر قذافی کا بہیمانہ قتل بھی شامل تھا۔ قذافی پر الزام تھا کہ انھوں نے لیبیا میں لوٹ مار کا بازار گرم کیا ہوا تھا، اسی قسم کے الزامات تیونس اور مصر کے صدر حسنی مبارک پر بھی لگائے گئے تھے۔ خلیج میں 2011 کی بغاوتیں دراصل حکمرانوں کی لوٹ مار کے خلاف ایک شدید اور پرتشدد ردعمل تھا، جسے ہم انقلاب فرانس کی پیروی کی جھلک کہہ سکتے ہیں۔

دونوں انقلابوں کی بے معنویت کی ایک بڑی وجہ ایسی قیادت کا فقدان تھا جو انقلابات کی نظریاتی رہنمائی کرتے۔عراق میں صدر صدام کے خلاف امریکا نے جو مداخلت کی اس کے جو جواز بش حکومت نے پیش کیے اس کی تردید خود امریکا کی ایجنسیوں نے کی۔ بش امریکا کا صدر تھا اور ایک سپرپاور کی حیثیت سے اس کے صدر کی یہ ذمے داری تھی کہ وہ جن لغو الزامات کے تحت عراق جیسے آزاد اور خودمختار ملک پر حملہ کر رہا ہے اس سے قبل ان الزامات کی صداقت کی چھان بین کرلے جن کو جواز بناکر اتنا بڑا قدم اٹھایا جا رہا تھا۔ اوباما نے عہدہ صدارت سنبھالنے کے بعد تسلیم کیا کہ عراق پر حملہ بش حکومت کی غلطی تھی لیکن اس غلطی کے دوران عراق میں جو خون خرابا ہوا اور لاکھوں عراقی عوام اپنی جانوں سے گئے اس کا ذمے دار کون ہے؟


عراق میں جو غلطی کی گئی وہی غلطی افغانستان میں دہرائی گئی۔ 9/11 کے مجرمین کے تعاقب کے نام پر افغانستان میں جو کارپٹ بمباری کی گئی، اس کی مثال جنگوں کی تاریخ میں نہیں ملتی۔ اس وحشیانہ بمباری سے افغانستان کے پہاڑ جل کر سیاہ ہوگئے اور پانچ لاکھ سے زیادہ افغان عوام اس طاقت کی اندھی جنگ میں اپنی جانوں سے گئے۔ اس جنگ سے دہشت گردی اور دہشت گردوں میں کمی کے بجائے اس قدر اور ایسا خطرناک اضافہ ہوا کہ اب ساری دنیا اس کی لپیٹ میں ہے اور ہر روز سیکڑوں لوگ اس دہشت گردی کی نذر ہو رہے ہیں۔

عراق پر حملہ ہو یا افغانستان پر قبضہ یہ جمہوری حکمرانوں کے ان آمرانہ فیصلوں کا نتیجہ ہیں جن میں 10 لاکھ بے گناہ انسان جانوں سے گئے۔ یہ ایسا قتل عام ہے جسے محض غلطی کہہ کر نظرانداز نہیں کیا جاسکتا اس دانستہ اور ارادی قتل عام کے مجرموں کے خلاف بین الاقوامی عدالت انصاف میں مقدمہ چلنا چاہیے اور مجرموں کو سخت ترین سزائیں ملنی چاہئیں تاکہ بڑی طاقتوں کے بے لگام حکمرانوں کو لگام دی جاسکے۔ ایک اسامہ بن لادن کو ختم کرنے اور ایک القاعدہ کو روکنے کے لیے جو احمقانہ کارروائیاں کی گئیں، اس کے نتیجے میں درجنوں اسامہ درجنوں القاعدہ پیدا ہوگئے۔

2011 کی عوامی بغاوتیں دراصل حکمرانوں کی بداعمالیوں کا نتیجہ تھیں لیکن جیساکہ ہم نے نشان دہی کی ہے، اگر اس قسم کی عوامی بغاوتیں نظریاتی قیادت سے محروم رہتی ہیں اور ان کی سختیوں کا کوئی تعین نہیں ہوتا، نہ ان کے اہداف ہوتے ہیں، نہ منصوبہ بندی۔ تو ان کا نتیجہ مثبت تو نہیں بلکہ انتہائی منفی نکلتا ہے۔ جس کا اندازہ خلیج کی عوامی بغاوتوں کے منفی اور خطرناک نتائج سے لگایا جاسکتا ہے۔ صدام حسین بڑا ظالم تھا لیکن صدام حسین کے دور میں عراق اس فقہی خانہ جنگی سے بہرحال بچا ہوا تھا، جس کا سامنا عراقی عوام کو امریکا کے عراق پر قبضے کے بعد سے کرنا پڑ رہا ہے۔

اب تک اس وحشیانہ خانہ جنگی یا فقہوں کی جنگ میں لاکھوں عراقی جان سے جاچکے ہیں اور لاکھوں بے وطنی کا شکار ہوکر مغربی ملکوں میں جائے پناہ ڈھونڈتے پھر رہے ہیں اور داعش جیسی وحشی طاقتیں ان ملکوں میں عوام کا بیدردی سے قتل عام کر رہی ہیں۔ کیا اس کی اصل ذمے داری امریکا پر عائد نہیں ہوتی جس نے عراق پر حملہ کرکے ان انتہاپسند تنظیموں کی تشکیل کی راہ ہموار کی؟

مصر میں حسنی مبارک جیسے آمر کی علیحدگی ایک کامیاب عوامی طاقت کا مظاہرہ تھی لیکن عوامی تحریک کی نظریاتی قیادت سے محرومی اور مغربی ملکوں کی احمقانہ حمایت کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہاں اخوان المسلمین جیسی مذہبی انتہا پسند جماعتیں انتخابات کے ذریعے برسر اقتدار آئیں اگرچہ ایک فوجی بغاوت کے ذریعے اخوان المسلمین کے سربراہ مرسی کو ہٹا دیا گیا لیکن ملک نہ صرف حسنی مبارک سے زیادہ بڑی آمریت کی گود میں چلا گیا بلکہ مایوس اور منتشر عوام مرسی کو ووٹ دینے پر مجبور ہوگئے۔

لیبیا میں کرنل قذافی سے نجات تو حاصل کرلی گئی اور نیٹو نے باغیوں کی مدد کی لیکن آج اس بدقسمت ملک پر داعش جیسی وحشی تنظیموں کی بالادستی دکھائی دے رہی ہے ان المیوں کی وجہ سامراجی طاقتوں کی مداخلت اور ان ملکوں میں عوامی سیاست اور عوامی رہنمائی کا فقدان ہے اور یہ صورتحال جلد یا بدیر ان ملکوں میں پیدا ہوسکتی ہے جہاں عوامی طاقتوں کا راستہ جمہوریت کے نام پر روکنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
Load Next Story