افغان مہاجرین کی واپسی…افغان حکومت سے دوٹوک بات کریں
اصل مسئلہ تو پاکستانی حکمرانوں کے سوچنے کا ہے پاکستان میں ایک لابی کے مفادات افغان مہاجرین سے وابستہ ہو چکے ہیں
افغانستان کی حکومت ان مہاجرین کو واپس لینے کے لیے تیار نہیں ہو گی، اس کی کوشش ہو گی کہ ان چالیس پچاس لاکھ افغانوں سے ہمیشہ کے لیے چھٹکارا حاصل کر لیا جائے فوٹو : فائل
پاکستان میں افغان مہاجرین کی وطن واپسی کا مسئلہ خاصا پرانا ہے، کئی بار مختلف افغان مہاجر خاندانوں کو وطن واپس بھجوایا گیا لیکن یہ مسئلہ آج بھی جوں کا توں ہے، اب ایک اخباری خبر کے مطابق وزارت داخلہ نے نیشنل ایکشن پلان کے تحت ملک میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں اور بغیر لائسنس اسلحہ رکھنے والوں کے خلاف ایکشن تیز کرنے کی ہدایات جاری کر دیں ہیں۔
اس قسم کے احکامات اکثر اوقات جاری ہوتے رہتے ہیں لیکن اس کے نتائج کبھی سامنے نہیں آئے، افغان مہاجرین کے حوالے سے جو بھی مہم شروع ہوئی ہے، اس میں یہی کہا جاتا ہے کہ غیر قانونی طور پر مقیم افغان مہاجرین کو ملک سے نکالا جائے گا حالانکہ لاکھوں افغان قانونی مہاجرین کی آڑ میں ملک میں موجود ہیں، اصولی طور پر انھیں واپس بھجوانے کی ضرورت ہے۔
کسی افغان مہاجر کے لیے قانونی مہاجر بننا آسان کام ہے، اصل مسئلہ یہ ہے کہ پاکستانی حکومت رجسٹرڈ افغان مہاجرین کو واپس بھجوانے کے لیے اقدامات کرے۔ افغانستان کی حکومت ان مہاجرین کو واپس لینے کے لیے تیار نہیں ہو گی، اس کی کوشش ہو گی کہ ان چالیس پچاس لاکھ افغانوں سے ہمیشہ کے لیے چھٹکارا حاصل کر لیا جائے تاکہ ان کی معیشت پر بوجھ نہ پڑے، اصل مسئلہ تو پاکستانی حکمرانوں کے سوچنے کا ہے، پاکستان میں ایک لابی کے مفادات افغان مہاجرین سے وابستہ ہو چکے ہیں۔ یہ لابی انھیں واپس بھجوانے کی راہ میں رکاوٹیں ڈالتی ہے۔ پاکستان کے حکمرانوں کو ملک کے وسیع تر مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے صرف غیر قانونی طور پر مقیم افغانوں کو نہیں بلکہ رجسٹرڈ افغانوں کو وطن واپس بھجوانے کا بندوبست کرے۔
اس حوالے سے افغانستان کی حکومت اور اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین سے دو ٹوک انداز سے بات کی جائے۔ افغانستان میں خاصی حد تک امن قائم ہو گیا ہے، وہاں الیکشن بھی ہو رہے ہیں، بے شمار غیر ملکی ہنر مند افغانستان میں کام کر رہے ہیں، تو پھر کیا وجہ ہے کہ افغانستان اپنے باشندوں کو واپس لینے کے لیے تیار نہیں ہو رہا ہے، حکومت پاکستان کو اس حوالے سے دو ٹوک انداز سے افغان حکومت سے بات کرنی چاہیے۔
اس قسم کے احکامات اکثر اوقات جاری ہوتے رہتے ہیں لیکن اس کے نتائج کبھی سامنے نہیں آئے، افغان مہاجرین کے حوالے سے جو بھی مہم شروع ہوئی ہے، اس میں یہی کہا جاتا ہے کہ غیر قانونی طور پر مقیم افغان مہاجرین کو ملک سے نکالا جائے گا حالانکہ لاکھوں افغان قانونی مہاجرین کی آڑ میں ملک میں موجود ہیں، اصولی طور پر انھیں واپس بھجوانے کی ضرورت ہے۔
کسی افغان مہاجر کے لیے قانونی مہاجر بننا آسان کام ہے، اصل مسئلہ یہ ہے کہ پاکستانی حکومت رجسٹرڈ افغان مہاجرین کو واپس بھجوانے کے لیے اقدامات کرے۔ افغانستان کی حکومت ان مہاجرین کو واپس لینے کے لیے تیار نہیں ہو گی، اس کی کوشش ہو گی کہ ان چالیس پچاس لاکھ افغانوں سے ہمیشہ کے لیے چھٹکارا حاصل کر لیا جائے تاکہ ان کی معیشت پر بوجھ نہ پڑے، اصل مسئلہ تو پاکستانی حکمرانوں کے سوچنے کا ہے، پاکستان میں ایک لابی کے مفادات افغان مہاجرین سے وابستہ ہو چکے ہیں۔ یہ لابی انھیں واپس بھجوانے کی راہ میں رکاوٹیں ڈالتی ہے۔ پاکستان کے حکمرانوں کو ملک کے وسیع تر مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے صرف غیر قانونی طور پر مقیم افغانوں کو نہیں بلکہ رجسٹرڈ افغانوں کو وطن واپس بھجوانے کا بندوبست کرے۔
اس حوالے سے افغانستان کی حکومت اور اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین سے دو ٹوک انداز سے بات کی جائے۔ افغانستان میں خاصی حد تک امن قائم ہو گیا ہے، وہاں الیکشن بھی ہو رہے ہیں، بے شمار غیر ملکی ہنر مند افغانستان میں کام کر رہے ہیں، تو پھر کیا وجہ ہے کہ افغانستان اپنے باشندوں کو واپس لینے کے لیے تیار نہیں ہو رہا ہے، حکومت پاکستان کو اس حوالے سے دو ٹوک انداز سے افغان حکومت سے بات کرنی چاہیے۔