پیپلز میڈیکل کالج کے افسر کو معیاری علاج فراہم کرنیکا حکم

چیف جسٹس ہائیکورٹ نے ڈاکٹرکی اہلیہ کی جانب سے ارسال خط درخواست میں تبدیل کردیا

چیف جسٹس ہائیکورٹ نے ڈاکٹرکی اہلیہ کی جانب سے ارسال خط درخواست میں تبدیل کردیا۔ فوٹو: فائل

چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ جسٹس مشیرعالم نے پیپلز میڈیکل کالج کے سینئر افسر کو معیاری علاج فراہم کرنے سے متعلق ان کی اہلیہ عزیز بانوکے خط کو آئینی درخواست میں تبدیل کرتے ہوئے محکمہ صحت کو نوٹس جاری کردیے۔


فاضل چیف جسٹس کو سینئر میڈیکل آفیسر ڈاکٹر بشیر احمد کی اہلیہ نے خط ارسال کیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ ان کے شوہر پیپلزمیڈیکل کالج نواب شاہ میں گریڈ18 کے عہدے پر فائز ہیں ، وہ اپنے فرائض احسن طریقے سے انجام دے رہے تھے کہ خود ہیپاٹائٹس سی کا شکار ہوگئے ، اس کے علاوہ بھی انھیں جگر کے دیگر امراض لاحق ہوگئے ہیں، ان کے علاج کے لیے دو بار میڈیکل بورڈ تشکیل دیا جاچکا ہے اور تیسرا میڈیکل بورڈ حال ہی میں تشکیل دیاگیاتھا ،ایڈیشنل چیف سیکریٹری ہیلتھ کی سربراہی میں اس بورڈ نے سفارش کی ہے کہ ان کے شوہر کا آغا خان اسپتال میں علاج کرایا جائے کیونکہ پیپلزمیڈیکل کالج نوابشاہ میں مطلوبہ سہولتیں نہیں، مسماۃ عزیز بانو کے مطابق انھوںنے اس سفارش کے بعد متعلقہ حکام کو متعدد بار درخواستیں دی ہیں لیکن ان کے شوہر کے بہتر علاج کے لیے اقدامات نہیں کیے جارہے۔

جس کی وجہ سے انکے شوہر کی حالت روز بروز خراب ہوتی جارہی ہے ، مسماۃ عزیز بانو کے مطابق ان کے بچے چھوٹے ہیں اور اسکول جانے کی عمر میں ہیں، شوہر کی بیماری کے باعث انکے بچوں کی تعلیم بھی متاثر ہورہی ہے اس لیے متعلقہ حکام کوہدایت کی جائے کہ وہ ان کے شوہر کے جگر کی ملک یا بیرون ملک پیوند کاری کے لیے انتظامات کریں ، فاضل چیف جسٹس نے اس خط پر ازخود کارروائی کرتے ہوئے اسے آئینی درخواست میں تبدیل کردیا، جسٹس مشیرعالم نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ زندگی ہر شہری کا حق ہے ، فاضل جج نے ہیلتھ سیکریٹری سندھ، ایم ایس پیپلزمیڈیکل کالج اور ایڈووکیٹ جنرل سندھ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئینی درخواست سماعت کے لیے حیدرآباد سرکٹ سندھ ہائیکورٹ کو بھجوانے کی ہدایت کی ہے۔
Load Next Story