حملہ آورنے گاڑی میں داخل ہوکر پوچھا ’’ملالہ کون ہے‘‘ کائنات

ہمیںلگا کہ یہ مذاق ہے کیونکہ ہم تمام سہیلیاں چہرہ ڈھانپتی تھیں ملالہ ایسانہیں کرتی تھی

ملالہ کوشناخت کرنے پرحملہ آورنے فائرنگ کردی، بہت ڈرگئی تھی،سہیلی ملالہ یوسف زئی۔ فوٹو : فائل

گزشتہ ماہ ملالہ یوسف زئی کے ہمراہ طالبان کے حملے میں زخمی ہونے والی اس کی سہیلی کائنات ریاض نے کہاہے کہ جب ایک شخص ہماری گاڑی میں داخل ہوااور پوچھنے لگاکہ ملالہ کہاں ہے؟


ملالہ کون ہے؟تو ہمیں لگاکہ یہ کوئی مذاق ہے،ملالہ کوکوئی بھی باآسانی پہچان سکتاتھاہم سب تواپنے چہرے کوڈھانپ رکھتے ہیں لیکن ملالہ ایسانہیں کرتی تھی ،اس دن کی تمام یادوں پرخوف اور ناسمجھی کی کیفیات غالب ہیں،میں اب تک خوفزدہ ہوں۔برطانوی نشریاتی ادارے کوانٹرویومیں کائنات ریاض نے حملے کے دن کو یادکرتے ہوئے کہا کہ ہر طرف افرا تفری مچ گئی تھی،جیسے ہی ملالہ نے کہاکہ میں ملالہ ہوں تو اس شخص نے اسے گولی ماردی،وہ ایک ہی گولی کے بعدگرگئی۔

جب اس شخص نے گولی چلائی، وہ لمحہ انتہائی خوفناک تھا،وہ شخص ملالہ کے گرنے کے بعد بھی وہاں کھڑارہااور میرے ہاتھ پر گولی مار دی،میں اپنا ہاتھ پکڑے ہوئے تھی اور کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا،سب کچھ بہت تیزی سے ہوا،سب لوگ چِلا رہے تھے،لوگوں سے رونا شروع کردیا، ڈرائیور کو احساس ہو گیاتھا کہ کیاہواہے اس لیے وہ رکا نہیں، ملالہ کی اسکول بس کے ڈرائیور نے بہت ہمت کامظاہرہ کرتے ہوئے اسپتال پہنچایا،ملالہ اور کائنات کے علاوہ ایک اور لڑکی بھی اس حملے میں زخمی ہوئی،کائنات کو یاد ہے کہ وہ بے ہوش ہونے سے پہلے اپنے والد کو دیکھنا چاہتی تھی،اس کے بعد کیاہوا انہیں کچھ یاد نہیں۔کائنات نے کہاکہ میں اب تک خوفزدہ ہوں۔
Load Next Story