سندھ حکومت اور قومی اسمبلی کو مبارکباد

موسمِ بہار کی آمد کوئی نوروز کے نام سے مناتا ہے، کوئی رنگ کی پچکاریاں چلاتا ہے اور اسے ہولی کا نام دیتا ہے

zahedahina@gmail.com

ہندوستان، ایران، افغانستان، سابق سوویت یونین کی بعض ریاستوں اور شرق اوسط کے کئی دوسرے ملکوں میں نوروز منایا جارہا ہے۔ پاکستان میں رہ جانے والے چند سو پارسی اپنے اپنے گھروں میں نوروز کا دسترخوان سجا رہے ہیں۔ اب سے چند برس پہلے نو روز جو آمد بہار کا تہوار ہے، اسے یوں منایا جاتا تھا، جیسے آب و تاب سے آنے والی بہار پر خوش ہونا کوئی جرم ہو۔

اس وقت بھی ترکی سے آنے والی کئی تصویریں شایع ہوئی ہیں جن میں ترک پولیس نو روز منانے کے 'جرم' میں کرد نوجوانوں کو زمین پر گرا کر زدوکوب کررہی ہے اور ان پر ربر کی گولیاں چلا رہی ہے۔ اب سے کچھ دن پہلے جب افغانستان میں طالبان عالی شان کی عملداری تھی، نو روز منانے پر لوگوں کو درے مارے جاتے تھے۔ کم بختو، یہ تہوار منانے کی تمھیں ہمت کیسے ہوئی؟ بعد از مرگ جہنم میں جلائے جاؤ گے اور ہم یہاں تمہارے تکے لگائیں گے، سجی بنائیں گے۔

ارے ہاں بنگلہ دیش کو کیسے بھول جائیں جہاں اسکول، کالج اور یونیورسٹی کی لڑکیاں اور لڑکے گیندے کے پھولوں سے سجے ہوئے تھال لے کر سڑکوں پر نکلیں گے اور دھومیں مچائیں گے۔ پرانی دلی میں منوں مٹی کے نیچے آرام کرتے ہوئے امیر خسرو، سکل بن پھول رہی سرسوں، گنگنائیں گے، یہ گنگناہٹ سن کر ان کے پیرو مرشد حضرت نظام الدین اولیا مسکرائیں گے اور ان کے مزار کے احاطے میں قوال حضرت خواجہ سنگ کھیلیے دھمال، ... گائیں گے... اور انھیں سننے والے بے حال ہوکر دھمال ڈالیں گے۔

موسمِ بہار کی آمد کوئی نوروز کے نام سے مناتا ہے، کوئی رنگ کی پچکاریاں چلاتا ہے اور اسے ہولی کا نام دیتا ہے۔ ہولی کہنے کو ہندوؤں کا تہوار ہے لیکن برصغیر کے عام مسلمان تو ایک طرف رہے، مسلمان بادشاہوں اور نوابوں نے ہولی اور دیوالی کا جشن اپنی ہندو رعایا کے ساتھ مل کر منایا۔ ہماری شاعری میں ان تہواروں کے بارے میں کیسی دل موہ لینے والی نظمیں ہیں۔ اٹھارہویں صدی میں اردو کے پہلے عوامی شاعر نظیر اکبر آبادی نے ہولی پر کیا شاندار مرصع نظمیں لکھی ہیں:

ہوا جو آکے نشان آشکار ہولی کا
بجا رباب سے مل کر ستار ہولی کا
سرود و رقص ہوا بے شمار ہولی کا
ہنسی خوشی میں بڑھا کاروبار ہولی کا
زباں پہ نام ہوا بار بار ہولی کا

ان کی ایک نظم ہندوستان کی مشہور گلوکارہ چھایا گنگولی نے گائی ہے، جسے سن کر طبیعت وجد میں آتی ہے۔ آپ بھی اسے یوٹیوب پر سنیں اور جھوم جھوم جائیں:

جب پھاگن رنگ جھمکتے ہوں، تب دیکھ بہاریں ہولی کی
پریوں کے رنگ دمکتے ہوں، شیشے جام چھلکتے ہوں
محبوب نشے میں جھکتے ہوں، تب دیکھ بہاریں ہولی کی
آدھمکے عیش و طرب کیا کیا، جب حسن دکھایا ہولی نے


نظیر اکبر آبادی نے ہولی، دسہرہ، دیوالی اور عیدالفطر پر کیسی دل کش نظمیں کہی ہیں۔ لفظوں کا ایک دریا ہے جو بہہ رہا ہے، ہر لفظ اور ہر مصرعے سے خوشی جھلکتی ہے:

بازار، گلی اور کوچوں میں غل شور مچایا ہولی نے
ہیں راگ بہاریں دکھلاتے اور رنگ بھری پچکاری ہے
منہ سرخی سے گلنار ہوئے، تن کیسر کی سی کیاری ہے

کسی زمانے میں نظیر کی نظمیں، کبیر کے دوہے، تلوک چند محروم، جگن ناتھ آزاد اور اقبال کی نظمیں 'نانک' اور 'رام' ہمارے نصاب میں شامل تھیں۔ پریم چند کی حج اکبر، رابندر ناتھ ٹیگور کی کہانی، کابلی والا اور کرشن چندر کی موہنجوڈرو کا خزانہ، پڑھ کر ہم نے جانا کہ انسانیت سے بڑا کوئی رشتہ نہیں۔

ایسی ہی تحریریں ایک ایسا سماج بناتی تھیں جس میں تمام مذاہب اور مسلک کے لوگ شامل تھے، پھر آہستہ آہستہ ہمارا نصاب یک رنگ ہوتا گیا، اسی کا نتیجہ ہے کہ پہلے ہم مذہب کے نام پر تقسیم ہوئے، پھر فرقے اور مسلک نے ہمارے پرخچے اڑادیے۔ ہر شہر کی دیواریں ہمیں بتاتی ہیں کہ کس مسلک کے خیال میں کون کافر ہے، پہلے ان دیواروں پر صرف کفر کے فتوے نظر آتے تھے، اس کے بعد یہ مژدہ بھی سنایا جانے لگا کہ کون واجب القتل ہے اور اسے جہنم واصل کرنے والا سیدھا جنت میں جائے گا۔

ایک ایسی فضا میں یہ ناقابل یقین خبر تھی کہ پی ایم ایل (ن) کے رکن اسمبلی ڈاکٹر رمیش کمار ون گوان نے 15 مارچ کو قومی اسمبلی میں ایسٹر، ہولی اور دیوالی کی چھٹی کے بارے میں ایک قرارداد پیش کی جو گزشتہ منگل کو منظور ہوئی۔ قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق نے اس قرارداد کو پڑھتے ہوئے کہا کہ یہ چھٹیاں صرف اقلیتوں کے لیے ہوں گی، ان کا اطلاق پورے ملک کے عوام پر نہیں ہوگا۔

یہاں یہ کہنا ضروری ہے کہ اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے افراد برسوں سے اپنی مذہبی تقریبات کے موقع پر ذاتی طور سے چھٹی لیتے تھے جب کہ بعض اداروں میں یہ چھٹیاں رواداری کے تحت دی جاتی تھیں۔ اراکین نے اسے منظور کرلیا ہے، اب یہ حکومت کی 'اخلاقی ذمے داری' ہے کہ وہ اس بارے میں قانونی کارروائی کرے کیونکہ قومی اسمبلی میں کئی قراردادیں منظور ہوتی ہیں لیکن ان سب پر کارروائی نہیں ہوتی۔ اس قرارداد کی منظوری پر خوشی کا اظہارکیا گیا اور بطور خاص بین الاقوامی میڈیانے اس پر خوشی اور حیرت کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ پاکستانی حکومت ایک ایسے پاکستان کی طرف بڑھ رہی ہے جس میں اکثریت اور اقلیت سب برابری کی بنیاد پر شریک ہوں گے۔

اس کے فوراً بعد خبر آئی کہ حکومت سندھ نے 24 مارچ کو سندھ کے صوبے میں ہولی کی چھٹی کا اعلان کیا ہے۔ ایسے کسی اعلان کی اب سے پہلے کوئی نظیر نہیں ملتی۔ یہ قدم اس وقت اٹھایا گیا ہے جب چند دن پہلے قومی اسمبلی میں دیوالی، ہولی اور ایسٹر کی قومی چھٹی کی قرارداد پیش کی گئی تھی، جو بحث مباحثے کے بعد منظور ہوگئی تھی۔ اس بارے میں ہم خوش تو ہیں لیکن جب تک وزارت داخلہ اسے قانونی شکل نہ دے اس وقت تک ہماری خوشی ادھوری رہتی ہے۔

سید قائم علی شاہ کے ترجمان نے کہا کہ ماضی میں ہولی کی چھٹی صرف ہندوؤں کو دی جاتی تھی لیکن 24 مارچ کو ہولی کی چھٹی پورے صوبہ سندھ میں ہوگی۔ سندھ ہمارا وہ صوبہ ہے جہاں اقلیت میں ہونے کے باوجود سارے ملک کی نسبت ہندوؤں کی آبادی زیادہ ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ اور صوبائی اسمبلی کے اراکین کو جتنی مبارکباد دی جائے وہ کم ہے۔ ہمارے یہاں انتہاپسندی کا جو حال ہے، اسے سامنے رکھتے ہوئے یہ ایک انقلابی قدم ہے۔

اس دفعہ ہولی صرف پاکستان میں ہی نہیں، ہندوستان میں بھی عجب رنگ سے آئی ہے۔ کچھ ہندوستانی خواتین اور حضرات بہت دنوں سے یہ مہم چلارہے تھے کہ بیوہ ہوجانے والی ہندو عورتوں کو بھی خوش ہونے کا حق ہونا چاہیے۔ اس برس ایسا پہلی مرتبہ ہورہا ہے کہ برند ابن میں تنہائی اور غربت کی زندگی گزارنے والی بیوہ عورتیں بھی ہولی منائیں گی، اس کے لیے ایک ہزار کلو رنگ کا انتظام کیا گیا ہے۔ 92 برس کی بندیشوری دیوی جو 25 برس پہلے بیوہ ہوئی تھیں، اس سال پہلی مرتبہ رنگ کھیلیں گی، اسی طرح 102 برس کی کنیکا ادھیکاری جن کے شوہر 17 برس کی عمر میں جان سے گزر گئے تھے، وہ بھی اس مرتبہ ہولی کے جشن میں شریک ہوں گی۔ ان لوگوں کے لیے یہ دوبارہ سے جی اٹھنے کے برابر ہے۔

ہماری قومی اور صوبائی اسمبلی نے ہولی، دیوالی اور ایسٹر کے حوالے سے جو قرارداد منظور کی، وہ دراصل پاکستان کی تمام قومیتوں اور تمام مذاہب کے ماننے والوں کو ایک دائرے میں شامل کرنے کا رویہ ہے۔ ہمارے سماج میں یہ کسی انقلاب سے کم نہیں۔ اس کے لیے ہماری سندھ حکومت اور قومی اسمبلی قابل مبارکباد ہیں۔
Load Next Story