انسانی ظلم کا شکار شاہکار

آج ہم ایک ایسے جانور کی دکھ بھری داستان سنانے جارہے ہیں

barq@email.com

آج ہم ایک ایسے جانور کی دکھ بھری داستان سنانے جارہے ہیں جس کے ''سر پر سر'' تو کیا بے چارے کے سر پر سینگ بھی نہیں ہوتے اور شاید یہی ''غیر مسلح ہونے کی وجہ'' ہے کہ اس بے چارے پر اتنے زیادہ ظلم ہوئے ہیں، ہو رہے ہیں اور ہوتے رہیں گے کہ جنھیں سن کر کلیجہ منہ کو آنے لگتا ہے بلکہ اگر اسے موسیقی سے ذرا بھی شغف ہوتا تو آج یہ گانا گا رہا ہوتا کہ

دو پتر اناراں دے
ساڈا دکھ سن کے روئے پتھر پہاڑاں دے

سینگ یا اس قبیل کا کوئی خطرناک آلہ ضرر نہ ہونے کی وجہ سے اس پر جس نے بھی ڈالی بری نظر ڈالی، اگر بات صرف ظلم و ستم کی ہوتی تو کوئی بات نہیں انسان نے کسی بھی جانور کو چھوڑا نہیں ہے لیکن برا یہ ہے کہ اس کے ''اپنے'' جتنا کام بھی اس سے لیتے ہیں اوپر سے کھانے کو بھی کچھ نہیں دیتے، کام لے کر چھوڑ دیتے ہیں پھر بے چارا تھکا ہارا درد کا مارا کوڑے کرکٹ میں سے کچھ زہر مار کر کے پیٹ کی آگ ٹھنڈی کرتا اور پیٹھ کی آگ بجھانے کے لیے مٹی میں لوٹیں لگاتا ہے، بجا طور پر یہ کہہ سکتا ہے کہ

تری وفا سے کیا ہو تلافی کہ دیر میں
تیرے سوا بھی ہم پہ بہت سے ستم ہوئے

سب سے بڑا ستم تو یہ ہے کہ اتنا زیادہ ظلم اس پر ہوتا ہے، اس کے ''اپنے جتنا'' کام لیا جاتا ہے بھوکا رکھا جاتا ہے اور اوپر سے ٹھٹھا بھی اڑایا جاتا ہے، طرح طرح کے نام بھی رکھے جاتے ہیں بلکہ اس کے وجود کو باقاعدہ ایک دشنام بنا دیا گیا، کسی کو اس کا نام لے کر پکاریئے مرنے مارنے پر آمادہ ہو جائے گا، سمجھ میں نہیں آتا بلکہ ہم نے اپنی تحقیق کا ٹٹو بھی دور دور تک دوڑایا ہے کہ آخر اس ''بے سینگے'' معصوم جانور کے آباء و اجداد سے ایسا کیا گناہ سرزد ہوا ہے کہ بے چارے کی سزا ختم ہی نہیں ہو رہی ہے۔

بے چارہ نسل در نسل نہ صرف انسانوں کے بے پناہ ظلم و ستم کا شکار چلا آرہا ہے بلکہ اس کے نصیب میں دنیا بھر کا سب و شتم، گالی گلوچ اور تحقیر و تذلیل بھی ہمیشہ کے لیے لکھ دیا گیا ہے، سب سے پہلے تو یہ وضاحت ہو جائے کہ آج آخر ہم نے اس بے چارے بے سہارے اور ''بے سینگے'' جانور کو کیوں پکڑا ہوا ہے، اس کا باعث یہ خبر بنی ہے کہ آج کل اس بے چارے پر وہ ظلم بھی ہونے لگا ہے جس کے بارے میں علامہ نے بتایا ہے کہ

تقدیر کے قاضی کا یہ فتویٰ ہے ازل سے
ہے جرم ضیعفی کی سزا مرگ مفاجات

یعنی آج کل یہ اس ظلم کا بھی شکار ہو رہا ہے جو اس پر ابھی تک نہیں ہوا تھا۔ پہلے ہی اس سے بے پناہ کام لیا جا رہا ہے ، تحقیر و تضحیک کا نشانہ بنایا جارہا ہے اور غیر مسلح ہونے کی وجہ سے جس نے بھی ڈالی بری نظر ڈالی حالانکہ بے چارے کی صورت بھی اچھی نہیں بلکہ بہت بری تھی لیکن کم از کم اسے مارا تو نہیں جاتا تھا نہ ہی گوشت کے لیے نہ ہی کسی اور مقصد کے لیے ۔۔۔ لیکن آج کل وہ بھی اس کے ساتھ ہونے لگا ہے، بے چارے کو ''گوشت و پوست'' دونوں کے لیے مارا جارہا ہے اور چونکہ بکرے کی طرح یہ بن ماں کا بھی ہے۔

اس لیے کوئی بھی اس کی خیر منانے والا نہیں ہے، ظلم کی انتہاء تو دیکھیے کہ اس بے پناہ ترقی کے دور میں ان تمام جانوروں کا گناہ آہستہ آہستہ معاف ہوتا جارہا ہے جو حضرت انسان کی شرافت کا نشانہ بنے ہوئے تھے، بیل کی سزا معاف ہو گئی ہے کہ ٹریکٹر اور تھریشر وغیرہ اس کی مدد کو آگئے، گھوڑوں کا جرم معاف ہو گیا ہے کہ طرح طرح کی مشینی سواریوں نے اس کی جگہ لے لی، بھینسے، ہاتھی اور اونٹ کو بھی مشینوں نے کافی حد تک نجات دلا دی ہے لیکن اس بے چارے بے سینگے بے نصیب پر اتیاچار اور بڑھ گیا، پہلے صرف پیٹھ پر لاد کر کام کرتا تھا جب کہ آج اسے ''خرولا گاڑی'' کا انجن بنا دیا گیا ہے۔ اتنا کام لیا جاتا ہے کہ جتنا کسی بھی کرولے بھرولے ہنڈولے سے نہیں لیا جاتا ہے، گویا

آسماں بار امانت نہ تو انست کشید
قرعہ فال بنام من دیوانہ زدند


پہلے اگر بارش سے نالاں تھا تو اب پرنالے کے نیچے بٹھا دیا گیا ہے۔ کچھ ترقی کی ایسی الٹی ہوا چلی کہ خرولے ہی خرولے دکھائی دینے لگے اور اس کے وہ انجن بھی کام میں لگا دیے گئے جو اصولی طور پر کسی کام کے نہیں تھے، ''وہ بھی کیا زمانے تھے'' اگر ان خرولوں میں کوئی ماضی پرست بوڑھا ہوا تو وہ اپنے موجودہ زیر عتاب نسل سے یوں مخاطب ہو گا کہ کیا وقت تھا ،کیا زمانہ تھا ، کیا عیش تھا دن عید اور رات شب برات ہوتی تھی ،کوئی پکڑ کر تھوڑی سی سواری یا بار برداری کر لیتا تھا اور پھر ہم ہوتے اور کوڑے کے ڈھیر، جہاں جی چاہا لوٹ لیے جہاں جی چاہا رینکنے لگے اور جب من کیا کسی گلی میدان میں پڑ گئے۔

لیکن اب یہ زمانہ آ لگا ہے کہ نہ دن کو چین نہ رات کو آرام ۔کبھی بار اٹھاتے ہیں کبھی اپنی پیٹھ پر دو من کی دھوبن لیے پھرتے ہیں اور ان سے چھوٹے تو ''خرولے'' کا انجن بنا لیا، مصیبت تو یہ ہے کہ بیماری یا مرنے کا بہانہ بھی نہیں کر سکتے ورنہ کہیں پر گوشت اور کہیں پر پوست کی صورت میں لٹکے نظر آئیں گے، اگرچہ قیمت بڑھ گئی، سیکڑوں کے بجائے اب ہم ہزاروں کے ہو گئے لیکن اس کا ہمیں کیا فائدہ، ہماری قسمت میں وہی کوڑے کا ڈھیر یا مٹھی بھر سوکھی گھاس ہے۔

بزرگ بے سینگا جب یہ داستان غم سنا رہا ہو گا تو کوئی نوجوان خرولا دخل درمعقولات کرتے ہوئے کہے گا مگر چچا سنا ہے کہ ہماری کھال بڑی قیمتی ہو گئی ہے، سنا ہے چین والوں نے خواتین کے لیے کوئی کریم تیار کی ہے جس میں ہم پڑتے ہیں، مطلب کہ ہماری کھال میں ایسی کچھ بات ہے کہ چلو ہم نہ سہی ہماری کھال تو حسیناؤں کے رخساروں تک پہنچ جائے گی، میں نے تو جب سے سنا ہے کھال میں اندر ہی اندر کچھ ہو رہا ہے اس خیال سے ہی دھنیے ہو رہے ہیں کہ

گرچہ ہے سو سو خرابی سے ولے با ایں ھمہ
کھال میری مجھ سے بہتر ہے کہ اس چہرے پہ ہے

بوڑھے جہاں دیدہ لوجھ سواری اور خرولا حشیدہ خرولے نے کہا، اتنا خوش ہونے کی ضرورت نہیں ہے اپنی کھال میں رہ، کہ ایک تو ضروری نہیں کہ تمہاری کھال کسی حسینہ ماہ جبینہ کے رخسار مثل انار تک پہنچے کیوں کہ اکثر بیوٹی کریم کی ضرورت ان خواتین کو ہوتی ہے جو سرے سے ناقابل دید ہوتی ہیں یعنی چندے آفتاب چندے مہتاب کی جگہ چندے کوا چندے توا ہوتی ہیں جو پہلے سے مہ جبین اور گل رخسار ہوتی ہیں، وہ کریم کی محتاج ہی نہیںہوتی، اس لیے عین ممکن ہے کہ تو کھال سے بھی جائے اور کسی ایسے چہرے پر پہنچے جو چہرہ کم اور تہمت زیادہ ہو اور تم گاتے پھرو کہ

ہر پھول کی قسمت میں کہاں ناز عروساں
کچھ پھول تو کھلتے ہیں مزاروں کے لیے ''بھی''

بلکہ مزاروں کے لیے ''ہی'' کہو کہ بعض چہرے شکستہ قبروں سے بھی گئے گزرے ہوتے ہیں، دوسرے یہ کہ یہ ''سعادت پانا'' اتنا آسان بھی نہیں ہے کہ اس میں دو چار نہیں بلکہ بے شمار سخت مقام بھی آتے ہیں ۔کھال تو تیری کسی بھلے یا برے چہرے تک شاید پہنچ جائے لیکن گوشت نہ جانے کس دکان کس ہانڈی اور کس سیخ میں جھلستا رہ جائے گویا

کٹی کچلی گئی پیسی گئی مہندی
پھر اس کے بعد ان کے پیروں میں لگی مہندی

سنا ہے اس کے بعد خرولوں میں مسکوٹ ہوئی کہ انسان کے روز بروز بڑی بحث و تمحیص اور مکہ لات کے بعد فیصلہ ہوا کہ اس کم بخت ظالم اتیارچاری سنگدل ستم گر انسان سے بچنے کا صرف ایک ہی طریقہ ہے کہ روپ بدل کر انھی میں شامل ہوا جائے کہ ایک تو یہ بھی ہماری طرح مردار ہے یعنی اس کا گوشت کھایا پکایا نہیں جاتا البتہ بیچا جاتا ہے لیکن وہ بھی سالم و ثابت شکل میں ووٹ یا عوام بنا کر، دوسرے یہ کہ اس انسان کو خدا نے ''صفات'' کا اتنا وسیع رینج دیا ہوا ہے کہ ہر جانور اس کی سی شکل بنا کر ان میں شامل ہو سکتا ہے۔ ویسے بھی بزرگوں نے کہا ہے کہ انسان کسی بھی دور میں انسان نہیں ہوتا ہے۔

جوانی میں یہ بیل ہوتا ہے، ادھیڑ عمر میں گدھا ہو جاتا ہے اور آخری عمر میں اپنے جد امجد بندر کا روپ دھارن کر لیتا ہے، چنانچہ اس مسکوٹ کے بعد سارے بے سینگے اور خرولے جانوروں نے جہاں سینگ نہیں سماتے تھے ادھر کا بھی رخ کر لیا اور جوق در جوق انسانوں کا روپ دھار کر ان میں گم ہو گئے اور یہ بڑی حد تک سچ ہے کیوں کہ حکومت میں سیاست میں دفتروں میں بازاروں میں گلی چوباروں میں اکثر پائے جاتے ہیں کہ صرف شکل و صورت بدلے ہوئے ہوتے ہیں باقی اندر سے ہو بہو وہی ہوتے ہیں لیکن تمام تر میک اپ اور تبدیلی کے باوجود ہوشیار لوگ انھیں پہچان لیتے ہیں۔

بہررنگے کہ خواہی جامہ می پوش
من انداز قدت رامی شنا سم
Load Next Story