’’عوام‘‘ … ٹیل کے کسان

انقلاب برپا ہو چکا ہے لیکن پھر بھی یہ ہمیں جانتے ہیں کہ برسر کاغذ کیا ہے اور بر سر زمین کیا ہے

barq@email.com

WASHINGTON:
بادی النظر میں دیکھا جائے اور حکومتوں کے اعلانات و بیانات کو مدنظر رکھا جائے تو اس ملک میں کسی دکھی، بیمار، بیروزگار اور خدائی خوار انسان کا وجود ہی نہیں پایا جاتا، بے نظیر انکم سپورٹ روزگار اسکیمیں، انصاف کارڈ، ہیلتھ کارڈ، زکوٰۃ، بیت المال، للسائل والمحروم ہر طرف گنگا ہی گنگا بہہ رہی ہے اور اتنی بھرپور کہ صرف ہاتھ ہی نہیں سارے عوام کو اس میں ہر وقت اشنان کرتا ہوا نظر آنا چاہیے، بدل رہا ہے پختونخوا، بدل رہا ہے پاکستان، بدل رہے سب کچھ ... بلکہ وزیروں کے بیانات بھی بدل چکے ہیں، تبدیلی آچکی ہے۔

انقلاب برپا ہو چکا ہے لیکن پھر بھی یہ ہمیں جانتے ہیں کہ برسر کاغذ کیا ہے اور بر سر زمین کیا ہے، جو دکھتا اور بولا جاتا ہے وہ ہے نہیں اور جو ہے وہ دکھتا اور بولا نہیں جاتا۔ بات تھوڑی سی غلط ہو گئی، جو دکھتا ہے وہ تو نہیں ہے لیکن جو ''ہے'' وہ بولا ضرور جاتا ہے۔

لیکن نقار خانے میں طوطی کی طرح دوسرے کالم انگاروں کے بارے میں تو ہم جانتے ہیں لیکن ہمارے پاس جو خطوط آتے ہیں کہ اب ان کا چھاپنا ہمارے لیے ناممکن ہے کیوں کہ اتنا چھوٹا سا تو ہمارا کالم ہے اور ''سفینہ'' چاہیے اس ''بحر بیکراں'' کے لیے جو خطوط مکتوبات اور ٹیلی فون یا ای میلوں کے ذریعے پہنچ رہا ہے جسے اگر کل ملا کر دیکھا جائے تو اس اونٹ کی کوئی بھی کل سیدھی نہیں ہے جسے پاکستان کہتے ہیں اور جس کے ایوانوں میں رنگ برنگی حکومتیں، طرح طرح کے ادارے، قسم قسم کے انتظامات اور روزانہ توپوں کی طرح چلنے والے بیانات شامل ہیں، اسکول میں داخلے کے وقت استاد نے لڑکے سے دیگر کوائف پوچھنے کے بعد پوچھا تم کتنے بہن بھائی ہو؟ لڑکے نے کہا ہم کل اٹھارہ بہن بھائی ہیں۔

استاد نے اتنی بڑی بے قاعدہ فوج کو پالنے والے والدین کے روزگار کا معلوم کرنا چاہا تو ان کا کام اور ذریعہ آمدن کیا ہو گا، پوچھا بیٹا تمہارے والدین کام کیا کرتے ہیں، لڑکے نے فرفر جواب دیا جناب وہ صرف ''یہی'' کام کرتے ہیں

سربر ہوئی نہ وعدہ صبر آزما سے عمر
فرصت کہاں کہ تیری تمنا کرے کوئی

ہم سے بھی اگر کوئی پوچھے کہ تمہاری حکومت، تمہارے وزیر تمہارے مشیر اور رنگ برنگی حکومتیں کیا کرتی ہیں تو ہم تڑ سے جواب دے سکتے ہیں کہ جی بس یہی کرتے ہیں کہ بیانات دیتے ہیں پھر بیانات دیتے ہیں اور پھر بیانات دیتے ہیں اور جو باقی وقت بچتا ہے اس میں بھی بیانات ہی دیتے ہیں۔ ودیا بالن نے ان دنوں ایک مشہور مقولہ لانچ کیا ہوا ہے کہ فلم میں تین باتوں کا ہونا ضروری ہے انٹرٹینمنٹ، انٹرٹینمنٹ اور انٹرٹینمنٹ، اور ہم اس کے جواب میں یہ قول زرین ایجاد کر رہے ہیں کہ سیاست + حکومت کے لیے بھی تین کام ضروری ہے بیانات، بیانات اور پھر بیانات ... اور اتنے زیادہ بیانات کے بعد انصاف کی بات کیجیے تو بے چاروں کے پاس کسی اور کام کے لیے وقت ہی کہاں بچتا ہے۔

وہ بھارتی چینلوں میں ''سر درد'' کی گولیوں کا اشتہار یوں آتا ہے کہ ایک محترمہ کی سرگرمیاں بلکہ تن گرمیاں دکھانے کے بعد وہ کہتی ہے کہ ... ایسے میں سر درد کے لیے ٹائم کہاں، چنانچہ ہمارے بیان ساز اور بیان باز بھی سر درد کے لیے بالکل بھی ٹائم نہیں بچا پاتے۔ وفاقی، صوبائی اور ان کے نیچے کی وبائی ڈھٹائی دبائی حکومتوں نے آپس میں گویا ایک ریس سی لگائی ہوئی ہے کہ ... حکومت کا ایک اور کارنامہ، حکومت کا ایک اور وعدہ پورا، ترقی کی جانب ایک اور قدم، عوام پر ایک اور احسان عظیم، ایک اور کارنامہ ایک اور انقلاب، بدل رہا ہے پختونخوا، بدل رہا ہے پاکستان، بدل گیا ہے آسمان، بدل گئی زمین، بدل رہا ہے، بدل چکا ہے بدل بدل بدل ... حالانکہ ان سب کا مطلب صرف ایک ہی ہوتا ہے ... کہ ایک اور جھوٹ

لوگوں کو ہے خورشید جہاں تاب کا دھوکا

ہر روز دکھاتا ہوں میں اک داغ نہاں اور

اب اگر ان بیانات و اعلانات، اعلانات و بیانات اور پھر اعلانات و بیانات کی روشنی میں دیکھا جائے دیکھا نہیں اگر سوچا جائے تو اس ملک میں کسی بھی غریب بیروزگار، یا بیمار یا خدائی خوار کا وجود تک نہیں ہونا چاہیے، لیکن حقیقت میں دیکھا جائے تو غربت، بیروزگاری، بیماری اور خواری نے جیسے اس ملک کو فتح کیا ہوا ہے ایسا کوئی گھر نہیں ایسا کوئی فرد نہیں ایسی کوئی آبادی نہیں ہے جسے دکھ ہی دکھ لاحق نہ ہوں، سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ بے نظیر انکم سپورٹ کے اربوں روپے، طرح طرح کے کارڈز، عشر و زکوٰۃ، بیت المال، للسائل و المحروم اور ترقیاتی فنڈز جاتے کہاں ہیں؟ یعنی غالب کو تو فکر تھی کہ

سبزہ و گل کہاں سے آتے ہیں
ابر کیا چیز ہے ہوا کیا ہے

لیکن ہم سوچ رہے ہیں کہ یہ اتنا زیادہ سبزہ و گل یا ''سبز و سرخ'' کہاں جاتے ہیں ایسا لگتا ہے کہ پورے ملک کی زمین ریتلی ہو گئی ہو کہ دنیا بھر کی بارشیں برس رہی ہیں لیکن پھر بھی زمین بوند بوند کو ترس رہی ہو۔ اس معاملے پر ہم ایک عرصے سے حیران و پریشان رہے سمجھ میں نہیں آتا کہ آخر ان عوام کا پیٹ ہے یا کنواں کہ بھرتا نہیں ان تمام اسکیموں، کارڈوں اور سخاوتوں کا حساب لگایا جائے تو عوام کا ہر دن عید اور رات شب برات ہونی چاہیے، ملک میں ایک بھی فرد بیمار نہیں ہونا چاہیے، وہ جو کسی نے کہا ہے کہ زمین ''کاغذات'' میں تو بہت تھی لیکن ''موقع'' پر کچھ بھی نہیں تھا،

بہت شور سنتے تھے پہلو میں دل کا
جو چیرا تو اک قطرہ خوں نہ نکلا

اس مسئلے یا سوال نے پریشان تو بہت کیا لیکن آخر کار ایک خدا کے بندے نے اس کا حل ہماری ہتھیلی پر رکھ دیا ۔آپ سوچیں گے کہ یہ حل کس شکل و صورت میں ہے یا ہو گا، تو آپ کے صبر کا امتحان نہ لیتے ہوئے سیدھا سیدھا بتائیں گے کہ یہ حل رحمان بابا کی ایک نظم نما غزل میں ایک عرصے سے موجود تھا لیکن ہم اسے یونہی سرسری پڑھ کر ''آب پاشی'' کا بیان قرار دیتے تھے۔ رحمان بابا نے کہا ہے کہ کھیت کے لیے آب پاشی بہت ضروری ہوتی ہے پھر زراعت کے مختلف پہلوؤں کا احاطہ کرتے ہوئے ٹیل والوں کی درد ناک حالت بتائی ہے، ٹیل والے آب پاشی اور نہروں نالوں سے متعلق انگریزی اصطلاح ہے۔

پشتو میں اسے پایاب کہا جاتا ہے یعنی وہ لوگ جو کسی نہر یا دریا یا نالہ آب پاشی کے آخر میں آتیہیں اور ان تک ''پانی'' کو پہنچنے میں بہت سارے فاصلے طے کرنا پڑتے ہیں بہت سارے بندوں سے گزرنا پڑتا ہے اور بہت سارے طاقت ور زمین داروں کی قربت سے گزرنا پڑتا ہے۔

رحمان بابا نے کہا ہے کہ ان بے چاروں تک پانی بڑی مشکل سے پہنچتا ہے اور تب پہنچتا ہے جب ''اوپر'' والے خوب سیراب ہو جاتے ہیں، ان کے کھیت پانی پانی ہو جاتے ہیں، جانور شکم سیر ہو جاتے ہیں اس کے باوجود بھی خطرہ ہوتا ہے کہ کہیں ''بند'' ٹوٹ نہ جائے کہیں نالے میں سوراخ نہ ہو جائے اس لیے ٹیل والوں کو ہمیشہ متحرک اور بیدار رہ کر نالے کی دیکھ بھال کرنا چاہیے اور نظر رکھنا چاہیے کہ پانی کا بہاؤ ٹھیک جارہا ہے ورنہ پانی ان تک پہنچتے پہنچتے ختم ہو چکا ہو گا اور ہم نے خود بھی یہ دیکھ لیا ہے کہ حکومت کے دریا سے جو بھی نہریں نالے نکلتے ہیں ٹیل تک پہنچتے پہنچتے سوکھ چکے ہوتے ہیں سوکھ جاتے ہیں اور سوکھ چکے ہیں حالانکہ ابتداء میں سارے بھرپور دکھائی دیتے ہیں۔
Load Next Story