شکر ہے آسمان پر محکمہ آب پاشی نہیں ہے

عین پانی کی سخت ضرورت کے وقت زمین اور فصلوں کو ایک ایک بوند پانی کے لیے ترساتا ہے

barq@email.com

SUKKUR:
خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ آسمان پر ایری گیشن عرف محکمہ آب پاشی عرف محکمہ انہار نہیں ہے ورنہ کم از کم صوبہ خیبرپختونخوا صرف خیر پہ خیر میں تو کسی ہریالی کا نام و نشان تک نہ ہوتا اور یہ بات ہم اتنے وثوق سے اس لیے کہہ رہے ہیں کہ محکمہ انہار اس معاملے میں بڑی محنت کر رہا ہے۔

عین پانی کی سخت ضرورت کے وقت زمین اور فصلوں کو ایک ایک بوند پانی کے لیے ترساتا ہے، لیکن اچانک آسمان اس کے سارے کیے کرائے پر پانی پھیر دیتا ہے اور وہ عظیم الشان مقصد پورا نہیں ہو پاتا جس کے لیے حکومت نے اتنے سارے محکمے اس کے وزیر اور اہل کار پالے ہوئے ہیں۔

وہ مقصد عظیم یہ ہے کہ زمین کو اور زمین زادے کو اتنا تنگ اتنا مجبور اور اتنا بے بس کیا جائے کہ وہ اپنی زمین بیج باچ کر مزدور بن جائے یا بھکاری، تا کہ ملک ''زرعی'' کی تہمت سے نکل کر ''صنعتی'' کا مقام بلند حاصل کر لے اور ساتھ ہی حکومت میں شامل تاجر، صنعتکار اور ٹھیکیدار ''ترقی'' کر کے حکومت پر قابض رہ جائیں۔

محکمہ انہار کی قصیدہ خوانی پر ہمارا یہ تیسرا کالم ہے اور آپ سوچیں گے کہ آخر محکمہ انہار ہی کیوں؟ دوسرے محکمے بھی تو ہیں جو زراعت کی ریڑھ کی ہڈی مار رہے ہیں اور زمین زادے کو بھکاری بنانے کے لیے طرح طرح کے منصوبے لانچ کر رہے ہیں، تو جواباً عرض ہے کہ بے شک دوسرے محکمے بھی بقدر توفیق زمین اور زمین زادے کو بیخ و بن سے اکھاڑنے کے لیے تگ و دو کرتے ہیں ... مگر وہ بات کہاں مولوی مدن کی سی

نہ ہوا پر نہ ہوا میرؔ کا انداز نصیب
گرچہ یاروں نے بہت زور غزل میں مارا

دوسرے محکمے یہ عظیم مقصد حاصل کرنے کا کام بالواسطہ طور پر کرتے ہیں مثلاً بجلی کا محکمہ لوڈ شیڈنگ کر کے صرف ٹیوب ویلوں تک اپنا کام دکھا سکتا ہے، زراعت کا محکمہ جھوٹ موٹ کی غلط جانکاریاں اور طرح طرح کے کیمیکل کے ذریعے یہ کام کرتا ہے، محکمہ تعلیم ان کے بچوں کو جو آدھی ادھوری تعلیم دلا کر جنم جنم کا بیروزگار بناتا ہے کہ ان کی آیندہ نسلیں نہ گھر کی رہیں نہ گھاٹ کی۔ محکمہ صحت محکمہ تخریبات و تعمیرات سب اپنا اپنا حصہ ڈالتے ہیں لیکن محکمہ آب پاشی

ہیں اور بھی دنیا میں سخن ور بہت اچھے
کہتے ہیں کہ غالبؔ کا ہے انداز بیاں اور

ہم وثوق سے نہیں کہہ سکتے کہ دوسرے صوبوں میں محکمہ انہار عرف محکمہ آب پاشی عرف محکمہ ایری گیشن ہوتا ہے یا نہیں لیکن آثار بتاتے ہیں کہ یا تو ان صوبوں میں یہ محکمہ ہے ہی نہیں کیونکہ وہاں زمین اب بھی پیداوار دے رہی ہے اور زمین زادے ابھی تک زندہ ہیں اس سے بڑا ثبوت اس محکمے کے نہ ہونے کا اور کیا ہو گا اور اگر یہ محمکہ وہاں موجود ہے تو پھر اس کی کارکردگی صفر ہے۔ بعض محکمے صرف وزیروں اور افسروں کے لیے بھی تو ہوتے ہیں


کچھ پھول تو کھلتے ہیں مزاروں کے لیے بھی

لیکن اپنے صوبے کے بارے میں ہم پورے وثوق سے کہہ سکتے ہیں کہ یہاں پر آب پاشی کا محکمہ موجود ہے اور کچھ زیادہ ہی موجود ہے اور یہ بات صرف ہم نہیں کہتے جھلستی فصلیں جلتی ہوئی زمین اور کسانوں کے مرجھائے ہوئے چہرے بھی اس پر گواہی دے رہے ہیں کہ یہاں آب پاشی کا محکمہ ہے بھی اور اپنا کام نہایت مستعدی سے کر بھی رہا ہے اور اس کے نتیجے بھی کافی حوصلہ افزاء نکل رہے ہیں۔ کم از کم ایسے پانچ چھ سو خاندان تو ہم بھی دکھا سکتے ہیں جو اپنی لاحاصل زمینیں اور ان زمینوں میں لاحاصل محنت کرنے اور خسارے کی فصلیں کاٹنے سے فراری ہو گئے، اپنی زمینیں بیج باچ کر شہروں میں گاتے پھر رہے ہیں کہ

اب میں راشن کی قطاروں میں نظر آتا ہوں
اپنے کھیتوں سے بچھڑنے کی سزا پاتا ہوں

لیکن اگر یہ اپنے کھیتوں سے بچھڑ کر شہروں میں مارے مارے پھر رہے ہیں تو یہ کوئی حادثہ نہیں بلکہ ہمارے ملک ہماری حکومت اور حکومت کے زیر انتظام محکموں اور اداروں کی مسلسل ''کوششوں اور محنت'' کا نتیجہ ہے، ویسے تو اس کم بخت آدم کے دشمن ہزاروں ہیں اور اس وقت سے اس کے پیچھے لگے ہوئے ہیں جب خدا نے اس مٹی کے پتلے کو سجدہ کرنے کا حکم دیا، سجدہ تو انھوں نے نہیں کیا لیکن اس بات پر بے چارے کے پیچھے ہی پڑ گئے، کبھی ڈاکو بن کر، کبھی حکمران بن کر، کبھی محافظ اور سرپرست بن کر اسے صدیوں سے لوٹتے چلے آ رہے ہیں اور مال غنیمت سے اپنے گھر بھرتے رہے ہیں۔

سب سے پہلا حملہ تو اس پر یہ ہوا کہ معاشرے میں درمیانی لوگوں کی بھرمار ہو گئی، پیدا کرنے والے اور صارف کے درمیان ''درمیانے لوگوں'' کی اتنی بھرمار ہو گئی کہ بازار میں اگر کسی چیز کی قیمت دس روپے ہے تو صارف کی جیب سے دس روپے نکلتے ہیں تو پیدا کرنے والے تک صرف ایک روپیہ پہنچتا ہے باقی نو روپے ''درمیانے'' لوگوں کی جیب میں چلے جاتے ہیں، جن میں آڑھتی، دکاندار، ٹرانسپورٹر، کھاد فروش، دوا فروش، بار دانہ فروش، تیل فروش اور حکومتی اہل کاروں کے ہو جاتے ہیں۔ اس طرح ان درمیانی واسطوں کی برکت سے پیدا کرنے والا بھی خسارے میں ہے اور خریدنے والا صارف بھی روتا ہے۔

کیا مزے کا منظر ہے کہ کاشتکار اس لیے روتا ہے کہ اسے اس کی محنت کا صلہ نہیں ملتا اور صارف اس لیے روتا ہے کہ اسے اناج مہنگا ملتا ہے لیکن اس پر بھی خاک زادوں کے دشمنوں کا جی نہیں بھرا کہ آخر اسے یہ روکھی سوکھی بھی کیوں مل رہی ہے اس کی پیداوار کا پچاسی فیصد حصہ تو ہم ہڑپ کر ہی لیتے ہیں لیکن اپنی ہی خون پسینے میں سے اسے پندرہ فیصد کیوں مل رہا ہے جب تک یہ بھی چھینا نہیں جائے گا خاکیوں کے اصل دشمنوں کا کلیجہ کیسے ٹھنڈا ہو گا؟ اور اس کا واحد حل یہ ہے کہ اس کم بخت کی جڑیں ہی زمین سے اکھاڑی جائیں کہ ہر حال میں وہ اس کی ماں ہے اور اسے کسی نہ کسی طرح پال ہی لیتی ہے اور اگر اسے ماں کی آغوش ہی سے الگ کیا جائے ماں کو اس کی دسترس ہی سے دور کیا جائے تو بات تب بنے گی اور خاک زادوں کے خلاف اس کے ازلی دشمنوں کا انتقام پورا ہو گا۔

اس کام میں یوں تو وہ تمام پندرہ فیصد طبقہ سرگرم ہے چاہے وہ حکمران ہے، تاجر ہے، ٹھیکیدار ہے، سرمایہ دار ہے یا صنعتکار ہے لیکن پرابلم یہ پیدا ہو گئی ہے کہ رب عظیم جو ان کے جدامجد پر مہربان تھا وہ اب بھی ان پر مہربان ہے اس نے کم از کم آسمان کا محکمہ آب پاشی اپنے پاس رکھا ہوا ہے ورنہ اگر وہاں پر بھی ہمارے محکمہ آب پاشی کے کرتا دھرتاؤں کا قبضہ ہوتا ہے تو اب تک کسان تو کیا پورے نسل آدم بلکہ حیوانات حشرات اور نباتات کا قلع قمع ہو چکا ہوتا۔

اب کے برس جب محکمہ انہار نے ٹھیکیداروں کو مالا مال کرنے کے لیے نہروں کو ڈھائی مہینے تک بند رکھا تھا تو یہ صرف اس لیے نہیں کہ صوبے میں ٹھیکیداروں کی حکومت اور اس کے ساتھ تمام ''چھوٹے بڑے تاروں'' کو نوازنا تھا وہ تو محکمے کے افسران کا تقریباً ''اپنا کام'' تھا بے چاروں نے پورا سال اسی موسم کے لیے تو سارے منصوبے بنا رکھے ہوتے ہیں بلکہ ساتھ ہی کاشت کاروں کو بھی کان پکڑوانا اور توبہ توبہ کرانا تھا۔ کیا مزے کی بات ہے کہ ڈھائی مہینے تک نہروں کی منٹینس اور مرمتیں ہوا کیں۔

لیکن جب پانی چھوڑ دیا گیا تو چوبیس گھنٹے سے پہلے پہلے ہی نہر میں دراڑیں پڑ گئیں اور پانی پھر بند ... اور اب اس بندش کی کوئی حد نہیں ہے کیونکہ اصولی طور پر تو نہروں میں پانی چھوڑا جا چکا ہے اب اگر کھیتوں تک نہیں پہنچتا تو اس کے ذمے دار محکمے والے تو نہیں ہیں۔ ویسے بھی وہ آجکل ٹھیکیداروں کے ساتھ ''حساب کتاب'' میں مصروف ہوتے ہیں۔ یقین نہ ہو تو آب پاشی کے کسی بھی دفتر میں جایئے اور کسی بھی افسر کا پوچھیے ... تو وہ ''سائٹ'' پر گیا ہوتا ہے۔
Load Next Story