افغانستان کو فوجی سپلائز ٹرانزٹ پرمٹ جاری گاڑیوں پر ٹریکنگ ڈیوائسزلگیں گے
امریکی حکام سے رابطے کیلیے قائم اتھارٹی ٹرانسپورٹرزکو150 ڈالرفی گاڑی پرمٹ جاری
ٹرانزٹ پرمٹ کی سیکیورٹی پرنٹنگ پریس آف پاکستان سے خاص قسم کے پیپر پر کرائی جائے گی تاکہ ٹرانزٹ پرمٹ کی جعلسازی سے بچا جاسکے. فوٹو: فائل
پاکستان نے افغانستان میں تعینات امریکی افواج کیلیے سامان لے جانیوالے ٹرانسپورٹروں سے 150امریکی ڈالر فی گاڑی و کنٹینر وصول کرکے ٹرانزٹ پرمٹ جاری کرنے اورگاڑیوں و سیل شدہ کنٹینرز پر ٹریکنگ ڈیوائسز نصب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس ضمن میں ''ایکسپریس'' کو دستیاب دستاویز کے مطابق امریکی کارگو کی مانیٹرنگ وسیکیورٹی اور پاکستان اور امریکی حکام کے درمیان باہمی رابطے کیلیے قائم سینٹرل کوآرڈینیشن اتھارٹی (سی سی اے) امریکی سامان لے جانے والے ٹرانسپورٹرز سے ڈیڑھ سو ڈالر فی کنٹینر و گاڑی وصول کرکے ٹرانزٹ پرمٹ جاری کرے گی اور اس ٹرانزٹ پرمٹ کی سیکیورٹی پرنٹنگ پریس آف پاکستان سے خاص قسم کے پیپر پر کرائی جائے گی تاکہ ٹرانزٹ پرمٹ کی جعلسازی سے بچا جاسکے اور یہ اس قسم کے ٹرانزٹ پرمٹ ہونگے جن کی نقل تیار کرنا مشکل ہوگا، ٹرانزٹ پرمٹ پر کنٹینر نمبر، ان پر لگائی جانے والی سیل نمبرز اور اس کنٹینر کی ترسیل کیلیے وضع کردہ روٹ پر مشتمل تفصیلات درج ہونگی۔
دستاویز کے مطابق مذکورہ اقدام کا بنیادی مقصد امریکی افواج کیلیے پاکستان کے راستے افغانستان بھجوائے جانے والے سامان کی راستے میں فول پروف مانیٹرنگ کو یقینی بنانا ہے تاکہ راستے میں کنٹینر غائب نہ ہوسکیں۔ دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ یہ ٹرانزٹ پرمٹ کراچی سے چمن اور طورخم تک جانے والے اور واپس آنے والے تمام امریکی سامان کے کنٹینرز اور گاڑیوں کیلیے جاری ہونگے اور یہ ٹرانزٹ پرمٹ ہی امریکی سامان کی مخصوص روٹ کے ذریعے ترسیل کا اجازت نامہ ہوگا۔
اس کے علاوہ کسی دوسرے ادارے یا ڈپارٹمنٹ کے کسی قسم کے این او سی کی ضرورت نہیں ہوگی۔ دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ سینٹرل کوآرڈینیشن کمیٹی (سی سی اے) کا کراچی میں قائم ذیلی دفتر تمام بندرگاہوں اور ٹرمینلز کے بیرونی دروازوں پر اپنے نمائندے و اہلکار تعینات کرے گا جو یہ چیک کریں گے کہ ان بندر گاہوں اور ٹرمینلز سے جو بھی گاڑیاں امریکی سامان لے کر نکل رہی ہیں ان گاڑیاں و کنٹینرز میں ٹریکنگ ڈیوائسز کی تنصیب، ٹرانزٹ پرمٹ کے اجرا سمیت دیگر تمام تقاضے پورے کیے گئے ہیں یا نہیں، اس کے علاوہ یہ اہلکار بندرگاہوں اور ٹرمینلز سے سامان لے کر نکلنے والی گاڑیوں کے اوقات بھی نوٹ کریں گے۔
اس ضمن میں ''ایکسپریس'' کو دستیاب دستاویز کے مطابق امریکی کارگو کی مانیٹرنگ وسیکیورٹی اور پاکستان اور امریکی حکام کے درمیان باہمی رابطے کیلیے قائم سینٹرل کوآرڈینیشن اتھارٹی (سی سی اے) امریکی سامان لے جانے والے ٹرانسپورٹرز سے ڈیڑھ سو ڈالر فی کنٹینر و گاڑی وصول کرکے ٹرانزٹ پرمٹ جاری کرے گی اور اس ٹرانزٹ پرمٹ کی سیکیورٹی پرنٹنگ پریس آف پاکستان سے خاص قسم کے پیپر پر کرائی جائے گی تاکہ ٹرانزٹ پرمٹ کی جعلسازی سے بچا جاسکے اور یہ اس قسم کے ٹرانزٹ پرمٹ ہونگے جن کی نقل تیار کرنا مشکل ہوگا، ٹرانزٹ پرمٹ پر کنٹینر نمبر، ان پر لگائی جانے والی سیل نمبرز اور اس کنٹینر کی ترسیل کیلیے وضع کردہ روٹ پر مشتمل تفصیلات درج ہونگی۔
دستاویز کے مطابق مذکورہ اقدام کا بنیادی مقصد امریکی افواج کیلیے پاکستان کے راستے افغانستان بھجوائے جانے والے سامان کی راستے میں فول پروف مانیٹرنگ کو یقینی بنانا ہے تاکہ راستے میں کنٹینر غائب نہ ہوسکیں۔ دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ یہ ٹرانزٹ پرمٹ کراچی سے چمن اور طورخم تک جانے والے اور واپس آنے والے تمام امریکی سامان کے کنٹینرز اور گاڑیوں کیلیے جاری ہونگے اور یہ ٹرانزٹ پرمٹ ہی امریکی سامان کی مخصوص روٹ کے ذریعے ترسیل کا اجازت نامہ ہوگا۔
اس کے علاوہ کسی دوسرے ادارے یا ڈپارٹمنٹ کے کسی قسم کے این او سی کی ضرورت نہیں ہوگی۔ دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ سینٹرل کوآرڈینیشن کمیٹی (سی سی اے) کا کراچی میں قائم ذیلی دفتر تمام بندرگاہوں اور ٹرمینلز کے بیرونی دروازوں پر اپنے نمائندے و اہلکار تعینات کرے گا جو یہ چیک کریں گے کہ ان بندر گاہوں اور ٹرمینلز سے جو بھی گاڑیاں امریکی سامان لے کر نکل رہی ہیں ان گاڑیاں و کنٹینرز میں ٹریکنگ ڈیوائسز کی تنصیب، ٹرانزٹ پرمٹ کے اجرا سمیت دیگر تمام تقاضے پورے کیے گئے ہیں یا نہیں، اس کے علاوہ یہ اہلکار بندرگاہوں اور ٹرمینلز سے سامان لے کر نکلنے والی گاڑیوں کے اوقات بھی نوٹ کریں گے۔