ایران پرتیل برآمدی پابندیوں کے محدوداثرات ہوئے آئی ایم ایف
زراعت کا ایرانی جی ڈی پی میں حصہ 10 فیصد جبکہ صنعت بشمول تیل کا حصہ 40 فیصد ہے.
آئی ایم ایف کے اندازے کے مطابق رواں سال ایران کی تیل پیداوار کم ہو کر1.25ملین بیرل یومیہ رہ گئی ہے جو 2011 میں 2.14 ملین بیرل یومیہ تھی۔ فوٹو: رائٹرز/فائل
ایرانی تیل برآمدات پر مغربی پابندیوں کے باعث اس کی معیشت میں معمولی سکڑائو آیا ہے اور ان پابندیوں کے اثرات دیگر شعبوں میں بھی محسوس کیے جارہے ہیں۔
یہ بات بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے سربراہ براے مشرق وسطیٰ اور وسط ایشیا مسعود احمد نے فنڈز کی ریجنل اکنامک آئوٹ لک رپورٹ جاری کرتے ہوتے کہی۔ انھوں نے کہاکہ ہمارا جائزہ رواں سال ایرانی معیشت میں معمولی سکڑائو اور افراط زر کے دبائو میں اضافہ ظاہر کرتا ہے۔ یاد رہے کہ گزشتہ ماہ آئی ایم ایف نے رواں سال ایرانی معیشت کے 0.9 فیصد سکڑنے اور آئندہ سال 0.8فیصد نمو کی پیش گوئی کی تھی تاہم ایرانی معیشت نے 2011 میں 2 فیصد کی شرح سے ترقی کی تھی جبکہ یہ شرح 2010 میں 5.9 فیصد تھی۔ مسعود احمد نے کہاکہ یہ تنزلی تیل کی پیداوار میں کمی کو بھی ظاہر کرتی ہے جو جزوی طور پر بیرونی رکاوٹوں اور ان پابندیوں کے باقی معیشت پر پڑنے والے اثرات کا نتیجہ ہے۔ آئی ایم ایف کے اندازے کے مطابق رواں سال ایران کی تیل پیداوار کم ہو کر1.25ملین بیرل یومیہ رہ گئی ہے جو 2011 میں 2.14 ملین بیرل یومیہ تھی۔
آئی ایم ایف عہدیدار نے کہا کہ خام تیل کی پیداوار میں کمی کے باوجود زراعت اور معیشت کے دیگر شعبوں نے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا، ایرانی معیشت کافی متنوع ہے اور اس کی جی ڈی پی میں تیل کا حصہ اتنا بڑا نہیں ہے جتنا دیگر تیل کے برآمدی ممالک میں ہے، زراعت کا ایرانی جی ڈی پی میں حصہ 10 فیصد جبکہ صنعت بشمول تیل کا حصہ 40 فیصد ہے اور مجموعی قومی پیداوار کا نصف خدمات کا حصہ ہے۔ انھوں نے واضح کیا کہ ان جائزوں میں ایرانی کرنسی ریال کی قدر میں تیزی سے کمی کو شامل نہیں کیاگیا، یہ جائزے کرنسی کی قدر میں کمی سے پہلے کے ہیں، اس لیے حالیہ نسبتاً زیادہ غیریقینی کے ایرانی معیشت پر زیادہ منفی اثرات ہونگے۔
یہ بات بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے سربراہ براے مشرق وسطیٰ اور وسط ایشیا مسعود احمد نے فنڈز کی ریجنل اکنامک آئوٹ لک رپورٹ جاری کرتے ہوتے کہی۔ انھوں نے کہاکہ ہمارا جائزہ رواں سال ایرانی معیشت میں معمولی سکڑائو اور افراط زر کے دبائو میں اضافہ ظاہر کرتا ہے۔ یاد رہے کہ گزشتہ ماہ آئی ایم ایف نے رواں سال ایرانی معیشت کے 0.9 فیصد سکڑنے اور آئندہ سال 0.8فیصد نمو کی پیش گوئی کی تھی تاہم ایرانی معیشت نے 2011 میں 2 فیصد کی شرح سے ترقی کی تھی جبکہ یہ شرح 2010 میں 5.9 فیصد تھی۔ مسعود احمد نے کہاکہ یہ تنزلی تیل کی پیداوار میں کمی کو بھی ظاہر کرتی ہے جو جزوی طور پر بیرونی رکاوٹوں اور ان پابندیوں کے باقی معیشت پر پڑنے والے اثرات کا نتیجہ ہے۔ آئی ایم ایف کے اندازے کے مطابق رواں سال ایران کی تیل پیداوار کم ہو کر1.25ملین بیرل یومیہ رہ گئی ہے جو 2011 میں 2.14 ملین بیرل یومیہ تھی۔
آئی ایم ایف عہدیدار نے کہا کہ خام تیل کی پیداوار میں کمی کے باوجود زراعت اور معیشت کے دیگر شعبوں نے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا، ایرانی معیشت کافی متنوع ہے اور اس کی جی ڈی پی میں تیل کا حصہ اتنا بڑا نہیں ہے جتنا دیگر تیل کے برآمدی ممالک میں ہے، زراعت کا ایرانی جی ڈی پی میں حصہ 10 فیصد جبکہ صنعت بشمول تیل کا حصہ 40 فیصد ہے اور مجموعی قومی پیداوار کا نصف خدمات کا حصہ ہے۔ انھوں نے واضح کیا کہ ان جائزوں میں ایرانی کرنسی ریال کی قدر میں تیزی سے کمی کو شامل نہیں کیاگیا، یہ جائزے کرنسی کی قدر میں کمی سے پہلے کے ہیں، اس لیے حالیہ نسبتاً زیادہ غیریقینی کے ایرانی معیشت پر زیادہ منفی اثرات ہونگے۔