ایران کی نئی حکومت کی ترجیحات
آیت اﷲ خمینی چونکہ مذہبی رہنما تھے، لہٰذا منطقی طور پر ایران کا انقلاب مذہبی بنیادوں پر شکل پذیر ہوا
zaheer_akhter_beedri@yahoo.com
لاہور:
دنیا کے بڑے انقلابوں میں ایران کا انقلاب شامل ہے، ایران میں رضا شاہ پہلوی کی حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد ایران کے روحانی پیشوا آیت اﷲ خمینی ایران کے سربراہ بنے اور ایران میں صدیوں پرانا شہنشاہی نظام ختم ہو گیا۔ روس اور چین کے انقلابات انقلابی تاریخ کے سرفہرست انقلابات میں شمار ہوتے ہیں، روس اور چین کے انقلابات اور ایران کے انقلاب میں بنیادی فرق یہ ہے کہ روس اور چین کے انقلابات سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف برپا ہوئے تھے جن کا مقصد سرمایہ دارانہ نظام کی طبقاتی لوٹ کھسوٹ کو ختم کرنا تھا، اس کے برخلاف انقلاب ایران کی بنیاد مذہبی تھی۔
آیت اﷲ خمینی چونکہ مذہبی رہنما تھے، لہٰذا منطقی طور پر ایران کا انقلاب مذہبی بنیادوں پر شکل پذیر ہوا ۔جو ابھی تک جاری ہے۔ بعدازاں ایران مسلم ملکوں میں تنہائی کا شکار ہوتا چلا گیا۔سعودی عرب بھی سخت گیر مذہبی ملک کے حوالے سے پہچانا جاتا ہے لہٰذا فطری اور نظریاتی طور پر یہ دونوں ملک ایک دوسرے کے حریف بن گئے، خمینی انقلاب مذہبی ہونے کے ساتھ ساتھ روز اول سے اینٹی سامراج خاص طور پر اینٹی امریکا رہا۔ سعودی عرب کی سیاست چونکہ ہمیشہ پرو امریکا یا امریکا نواز رہی، لہٰذا اس حوالے سے بھی ایران اور سعودی عرب میں گہرا تفاوت رہا جو وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتا رہا۔
ایران کی تمام حکومتیں اگرچہ اسرائیل کو اپنا دشمن مانتی رہیں اور ایٹمی میدان میں پیشرفت کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جاتا رہا لیکن اس کا ایک پہلو عرب و عجم کا تضاد بھی رہا۔
دنیا میں مذہب کے حوالے سے جو تبدیلیاں لائی گئیں اس کا ایک منفی نتیجہ یہ نکلا کہ ایسے ملکوں میں عوام کی بہتری اور خوشحالی کا مسئلہ سیکنڈری رخ اختیار کر گیا اور ایک تصوراتی بھول بھلیاں ایسے ملکوں کا مقدر بن گئیں، بیسویں صدی میں اور اس کے بعد سے دنیا میں سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی جس رفتار سے آگے بڑھ رہی ہے اور تحقیق اور دریافتوں کا جو محیرالعقل سلسلہ چل پڑا ہے۔
اس نے تخیلات کی چولیں ہلا کر رکھ دی ہیں اور اس تناظر میں یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ آنے والے دور میں تخیلات، تصورات کی دنیا پس منظر میں چلی جائے گی اور کرہ ارض پر انسان کی بھلائی خوشحالی کا مقصد سرفہرست آجائے گا۔ سرمایہ دارانہ نظام کی اساس چونکہ استحصال اور لوٹ مار ہے اور دنیا بھر کے عوام اس وحشیانہ کلچر سے سخت بیزار اور متنفر ہیں لہٰذا آنے والے دور میں سرمایہ دارانہ نظام کی بقا کا کوئی جواز نہیں رہے گا، کوئی نہ کوئی منصفانہ، کوئی نہ کوئی عادلانہ نظام روشناس ہو گا۔دنیا سائنس اور ٹیکنالوجی سمیت زندگی کے ہر شعبے میں خواہ کتنی ہی ترقی کیوں نہ کرلے انسان کو مذہب کی ضرورت ہر صورت میں رہے گی اور امکان یہ ہے کہ آنے والے دور میں مذہب میں بھی عالمگیریت پیدا ہو جائے گی اور مذہب کی بنیادیں نفرت اور تعصب کے بجائے محبت اور بھائی چارے پر استوار ہوں گی، اس تناظر میں ایران کی نظریاتی اساس بے معنی ہو کر رہ جائے گی۔
اگرچہ انقلاب ایران کے بعد ہی سے ایران میں اعتدال پسندی کی آوازیں اٹھتی رہی ہیں لیکن اب پچھلے ایک عشرے سے زیادہ عرصے سے ایرانی عوام کھل کر اعتدال پسندوں کی حمایت کر رہے ہیں، جس کا ایک تازہ ثبوت ایران کے حالیہ انتخابات ہیں جن میں اعتدال پسند رہنما حسن روحانی کی جماعت برسر اقتدار آ گئی ہے اور وہ ملک کے سربراہ بن گئے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب عوام کی بھاری اکثریت اعتدال پسندی کو پسند کر رہی ہے تو محض فقہی انتہاپسندی کے حوالے سے رائے عامہ کو ثانوی حیثیت دینا کس حوالے سے منطقی اور منصفانہ رہ جاتا ہے؟
انقلاب ایران اپنی سرشت میں اینٹی سامراج رہا ہے جو ایک حوصلہ افزا بات ہے لیکن اگر اس کو مذہبی بنانے کے بجائے پرو عوام پرو ملک و ملت بنایا جاتا تو آج ایرانی عوام کی زندگی میں بڑی خوشگوار تبدیلی آ چکی ہوتی، جب تک کوئی ملک، کوئی قوم جدید دنیا کی سیاست کو نہ سمجھے وہ اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں مارتا رہے گا۔
ایران ایک بے مقصد ایٹمی پروگرام کی خاطر عشروں تک مغربی دنیا کی اقتصادی پابندیوں کی زد میں رہا۔ اگر وہ مغرب کی اقتصادی پابندیوں سے آزاد ہوتا تو آج وہ اقتصادی ترقی کی راہ پر بہت پیش قدمی کر چکا ہوتا دیر آید درست آید، اعتدال پسند حکومت نے بہر حال ملکی مفاد کا فیصلہ کر لیا اور مغرب کی غیر اخلاقی پابندیوں سے آزاد ہوا جس کی وجہ سے اب ایران کے لیے اقتصادی ترقی کے راستے کھلے ہوئے ہیں۔ ایرانی قیادت کو اس حقیقت کا ادراک ہونا چاہیے کہ دنیا اب بھی عملاً یونی پولر ہے، دنیا کے فیصلے اب بھی ایک ملک کر رہا ہے لیکن عراق اور افغانستان کی جنگوں میں ناکامی کی وجہ یونی پولر دنیا خودبخود ملٹی پولر بنتی جا رہی ہے۔
روس اگرچہ جغرافیائی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گیا ہے، لیکن آج بھی وہ فوجی طاقت کے حوالے سے امریکا کے ہم پلہ ہے اور عالمی سطح پر بھی روس ایک بڑے طاقت کے طور پر موجود ہے۔ ادھر چین اپنی صنعتی ترقی کی وجہ سے ساری دنیا کی مارکیٹوں پر حاوی ہے، ان حقائق کا ذکر ہم نے اس لیے کیا ہے کہ ایران کی منتخب حکومت ان حقائق کی روشنی میں اپنی قومی ترجیحات کا تعین کرے۔مشرق وسطیٰ معدنی دولت سے مالامال علاقہ ہے، اگر ایران اور عرب تنازعہ جو حقیقی معنوں میں ایران سعودی تنازعہ ہے اپنی بے بنیاد نظریاتی سوچ سے باہر نکل کر اقتصادی ترقی کی راہ پر ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر آگے بڑھے تو اسرائیل کا خوف اپنی موت آپ مر جائے گا۔
نئی روحانی حکومت کو عوام نے اس کی نظریاتی اپروچ کے ساتھ مینڈیٹ دیا ہے اسی پس منظر میں حسن روحانی حکومت یہ حق حاصل ہے کہ وہ کسی غیر جمہوری دباؤ کے بغیر ملک و ملت کے مفاد میں آزادانہ فیصلے کرے اور ایران کے عوام کو خوشحال زندگی گزارنے کے مواقع فراہم کرے۔
دنیا کے بڑے انقلابوں میں ایران کا انقلاب شامل ہے، ایران میں رضا شاہ پہلوی کی حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد ایران کے روحانی پیشوا آیت اﷲ خمینی ایران کے سربراہ بنے اور ایران میں صدیوں پرانا شہنشاہی نظام ختم ہو گیا۔ روس اور چین کے انقلابات انقلابی تاریخ کے سرفہرست انقلابات میں شمار ہوتے ہیں، روس اور چین کے انقلابات اور ایران کے انقلاب میں بنیادی فرق یہ ہے کہ روس اور چین کے انقلابات سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف برپا ہوئے تھے جن کا مقصد سرمایہ دارانہ نظام کی طبقاتی لوٹ کھسوٹ کو ختم کرنا تھا، اس کے برخلاف انقلاب ایران کی بنیاد مذہبی تھی۔
آیت اﷲ خمینی چونکہ مذہبی رہنما تھے، لہٰذا منطقی طور پر ایران کا انقلاب مذہبی بنیادوں پر شکل پذیر ہوا ۔جو ابھی تک جاری ہے۔ بعدازاں ایران مسلم ملکوں میں تنہائی کا شکار ہوتا چلا گیا۔سعودی عرب بھی سخت گیر مذہبی ملک کے حوالے سے پہچانا جاتا ہے لہٰذا فطری اور نظریاتی طور پر یہ دونوں ملک ایک دوسرے کے حریف بن گئے، خمینی انقلاب مذہبی ہونے کے ساتھ ساتھ روز اول سے اینٹی سامراج خاص طور پر اینٹی امریکا رہا۔ سعودی عرب کی سیاست چونکہ ہمیشہ پرو امریکا یا امریکا نواز رہی، لہٰذا اس حوالے سے بھی ایران اور سعودی عرب میں گہرا تفاوت رہا جو وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتا رہا۔
ایران کی تمام حکومتیں اگرچہ اسرائیل کو اپنا دشمن مانتی رہیں اور ایٹمی میدان میں پیشرفت کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جاتا رہا لیکن اس کا ایک پہلو عرب و عجم کا تضاد بھی رہا۔
دنیا میں مذہب کے حوالے سے جو تبدیلیاں لائی گئیں اس کا ایک منفی نتیجہ یہ نکلا کہ ایسے ملکوں میں عوام کی بہتری اور خوشحالی کا مسئلہ سیکنڈری رخ اختیار کر گیا اور ایک تصوراتی بھول بھلیاں ایسے ملکوں کا مقدر بن گئیں، بیسویں صدی میں اور اس کے بعد سے دنیا میں سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی جس رفتار سے آگے بڑھ رہی ہے اور تحقیق اور دریافتوں کا جو محیرالعقل سلسلہ چل پڑا ہے۔
اس نے تخیلات کی چولیں ہلا کر رکھ دی ہیں اور اس تناظر میں یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ آنے والے دور میں تخیلات، تصورات کی دنیا پس منظر میں چلی جائے گی اور کرہ ارض پر انسان کی بھلائی خوشحالی کا مقصد سرفہرست آجائے گا۔ سرمایہ دارانہ نظام کی اساس چونکہ استحصال اور لوٹ مار ہے اور دنیا بھر کے عوام اس وحشیانہ کلچر سے سخت بیزار اور متنفر ہیں لہٰذا آنے والے دور میں سرمایہ دارانہ نظام کی بقا کا کوئی جواز نہیں رہے گا، کوئی نہ کوئی منصفانہ، کوئی نہ کوئی عادلانہ نظام روشناس ہو گا۔دنیا سائنس اور ٹیکنالوجی سمیت زندگی کے ہر شعبے میں خواہ کتنی ہی ترقی کیوں نہ کرلے انسان کو مذہب کی ضرورت ہر صورت میں رہے گی اور امکان یہ ہے کہ آنے والے دور میں مذہب میں بھی عالمگیریت پیدا ہو جائے گی اور مذہب کی بنیادیں نفرت اور تعصب کے بجائے محبت اور بھائی چارے پر استوار ہوں گی، اس تناظر میں ایران کی نظریاتی اساس بے معنی ہو کر رہ جائے گی۔
اگرچہ انقلاب ایران کے بعد ہی سے ایران میں اعتدال پسندی کی آوازیں اٹھتی رہی ہیں لیکن اب پچھلے ایک عشرے سے زیادہ عرصے سے ایرانی عوام کھل کر اعتدال پسندوں کی حمایت کر رہے ہیں، جس کا ایک تازہ ثبوت ایران کے حالیہ انتخابات ہیں جن میں اعتدال پسند رہنما حسن روحانی کی جماعت برسر اقتدار آ گئی ہے اور وہ ملک کے سربراہ بن گئے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب عوام کی بھاری اکثریت اعتدال پسندی کو پسند کر رہی ہے تو محض فقہی انتہاپسندی کے حوالے سے رائے عامہ کو ثانوی حیثیت دینا کس حوالے سے منطقی اور منصفانہ رہ جاتا ہے؟
انقلاب ایران اپنی سرشت میں اینٹی سامراج رہا ہے جو ایک حوصلہ افزا بات ہے لیکن اگر اس کو مذہبی بنانے کے بجائے پرو عوام پرو ملک و ملت بنایا جاتا تو آج ایرانی عوام کی زندگی میں بڑی خوشگوار تبدیلی آ چکی ہوتی، جب تک کوئی ملک، کوئی قوم جدید دنیا کی سیاست کو نہ سمجھے وہ اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں مارتا رہے گا۔
ایران ایک بے مقصد ایٹمی پروگرام کی خاطر عشروں تک مغربی دنیا کی اقتصادی پابندیوں کی زد میں رہا۔ اگر وہ مغرب کی اقتصادی پابندیوں سے آزاد ہوتا تو آج وہ اقتصادی ترقی کی راہ پر بہت پیش قدمی کر چکا ہوتا دیر آید درست آید، اعتدال پسند حکومت نے بہر حال ملکی مفاد کا فیصلہ کر لیا اور مغرب کی غیر اخلاقی پابندیوں سے آزاد ہوا جس کی وجہ سے اب ایران کے لیے اقتصادی ترقی کے راستے کھلے ہوئے ہیں۔ ایرانی قیادت کو اس حقیقت کا ادراک ہونا چاہیے کہ دنیا اب بھی عملاً یونی پولر ہے، دنیا کے فیصلے اب بھی ایک ملک کر رہا ہے لیکن عراق اور افغانستان کی جنگوں میں ناکامی کی وجہ یونی پولر دنیا خودبخود ملٹی پولر بنتی جا رہی ہے۔
روس اگرچہ جغرافیائی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گیا ہے، لیکن آج بھی وہ فوجی طاقت کے حوالے سے امریکا کے ہم پلہ ہے اور عالمی سطح پر بھی روس ایک بڑے طاقت کے طور پر موجود ہے۔ ادھر چین اپنی صنعتی ترقی کی وجہ سے ساری دنیا کی مارکیٹوں پر حاوی ہے، ان حقائق کا ذکر ہم نے اس لیے کیا ہے کہ ایران کی منتخب حکومت ان حقائق کی روشنی میں اپنی قومی ترجیحات کا تعین کرے۔مشرق وسطیٰ معدنی دولت سے مالامال علاقہ ہے، اگر ایران اور عرب تنازعہ جو حقیقی معنوں میں ایران سعودی تنازعہ ہے اپنی بے بنیاد نظریاتی سوچ سے باہر نکل کر اقتصادی ترقی کی راہ پر ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر آگے بڑھے تو اسرائیل کا خوف اپنی موت آپ مر جائے گا۔
نئی روحانی حکومت کو عوام نے اس کی نظریاتی اپروچ کے ساتھ مینڈیٹ دیا ہے اسی پس منظر میں حسن روحانی حکومت یہ حق حاصل ہے کہ وہ کسی غیر جمہوری دباؤ کے بغیر ملک و ملت کے مفاد میں آزادانہ فیصلے کرے اور ایران کے عوام کو خوشحال زندگی گزارنے کے مواقع فراہم کرے۔