پاکستان کا دورۂ بھارت سیکیورٹی کے نام پر کڑی ویزا شرائط عائد
بھارتی اسپانسر کا حامل فرد ہی سرحد پار جانے کا پروانہ حاصل کرپائے گا۔
بھارتی وزارت داخلہ کے آفیشل کا کہنا ہے کہ ویزوں کی تعداد پرکوئی پابندی نہیں، جو مقررہ معیار پر پورا اترا وہی ہمارے ملک آسکے گا۔ فوٹو: فائل
پاکستانی شائقین کرکٹ کو سہولتیں دینے کا بھارتی دعویٰ دھرا رہ گیا۔
روایتی حریفوں کے مقابلے دیکھنے کیلیے پاکستان سے لوگوں کا پڑوسی ملک جانا دشوار بنایا جا رہا ہے، بھارتی حکومت نے سیکیورٹی کے نام پر کڑی ویزا شرائط عائد کردیں، بھارتی اسپانسر کا حامل فرد ہی سرحد پار جانے کا پروانہ حاصل کرپائے گا، بھارتی وزارت داخلہ کے آفیشل کا کہنا ہے کہ ویزوں کی تعداد پرکوئی پابندی نہیں، جو مقررہ معیار پر پورا اترا وہی ہمارے ملک آسکے گا، ہم اپنی سیکیورٹی پر کوئی بھی سمجھوتہ نہیں کرسکتے، موجودہ قوانین کے تحت پاکستانی شہری صرف 3 بھارتی شہروں کے سفر کی اجازت حاصل کرپائیں گے، دونوں ممالک میں نئے سمجھوتے پر عملدرآمد پہلے ہوگیا تو پھر پوری سیریز دیکھنے کو مل سکتی ہے۔ تفصیلات پاکستان اور بھارت کے درمیان آئندہ ماہ کے آخر میں 2 ٹوئنٹی 20 اور تین ون ڈے میچز کی سیریز کھیلی جائے گی،اس کا پاکستانی شائقین بے صبری سے انتظار رہے ہیں۔
عوام کی بڑی تعداد پڑوسی ملک جاکر روایتی حریف کے میدانوں پر جنگ کا نظارہ کرنا چاہتی ہے، مگر بھارتی حکومت ان شائقین کو سہولتیں فراہم کرنے کے اپنے ہی دعوے سے اب پیچھے ہٹی دکھائی دینے لگی،کئی بھارتی حکومتی عہدیداروں نے یقین دہانی کرائی تھی کہ پاکستانی شائقین کو ویزے وغیرہ میں سہولتیں فراہم کی جائیں گی تاہم وزارت داخلہ نے پاکستانی شائقین کرکٹ کیلیے انتہائی سخت ویزا شرائط عائد کردی ہیں، بھارت کا سفر کرنے کیلیے بھارتی اسپانسر کا ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ وزارت داخلہ نے واضح کردیاکہ اگر کوئی پاکستانی شائق 25 دسمبر سے شروع ہونے والی سیریز دیکھنا چاہتا ہے تو اس کے پاس ویزے کیلیے ایک مقامی اسپانسر ہونا چاہیے۔ یہ فیصلہ ان اطلاعات کی روشنی میں کیا گیا۔
جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ نومبر دسمبر 2007 میں کھیلی گئی باہمی سیریز دیکھنے کیلیے پاکستان سے آنے والے شائقین میں سے 12 واپس نہیں گئے اور ابھی تک ان کا پتہ نہیں لگایا جاسکا ہے۔ وزارت داخلہ کے ایک آفیشل نے کہاکہ کرکٹ شائقین کیلیے ویزا شرائط میں کوئی نرمی نہیں کی جائے گی، ہم اپنی سیکیورٹی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرسکتے، پاکستانی شائقین کو ویزے جاری کرنے کی تعداد پرکوئی پابندی نہیں جو معیار پر پورا اترے گا اس کو ویزا دے دیا جائے گا۔ ویزے کیلیے درخواست دینے والے کو لازمی طور پر میچز کی ٹکٹوں کی نقل بھی ساتھ لگانا ہوگی۔
بھارتی حکومتی ذرائع نے بتایا کہ گذشتہ برس موہالی میں پاک بھارت سیمی فائنل دیکھنے کیلیے آنے والے تمام پاکستانی شائقین وطن واپس لوٹ گئے تھے، مگر 2007 والے 12 شائقین کی ابھی تک تلاش جاری ہے، یہ بھی واضح کیاگیاکہ جن لوگوں نے پانچ برس قبل بھارت کا سفر کیا تھا ان کیلیے بھارتی اسپانسر کی شرط لازمی نہیں ہوگی۔ وزارت داخلہ کے آفیشلز کا کہنا ہے کہ ویزا معیار پر پورا اترنے والوں کو ایک سے زیادہ میچز کیلیے ویزا جاری کیا جائے گا،موجودہ قوانین کے تحت پاکستانی شہری صرف تین بھارتی شہروں کیلیے ویزا حاصل کرسکتے ہیں لیکن اگر ویزے کے حوالے سے پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والا نیا سمجھوتہ سیریز سے قبل نافذ العمل ہوجاتا ہے تب پھر پاکستانی شائقین سیریز کے تمام پانچوں میزبان شہروں میں جاسکیں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وزارت داخلہ کے حکام جلد ہی تامل ناڈو، ویسٹ بنگال، کرناٹک اور گجرات کی اسٹیٹ حکومتوں اور دہلی پولیس سے پاکستانی ٹیم کے ساتھ میچز کے سیکیورٹی اور دیگر انتظامات کے بارے میں بات چیت کرے گی۔ دونوں ٹیموں کے درمیان ٹوئنٹی 20 میچز بنگلور اور احمد آباد جبکہ ون ڈے مقابلے چنئی، کولکتہ اور نئی دہلی میں ہوںگے۔ ان مقابلوں کو دیکھنے کیلیے پاکستان کے کئی اعلیٰ عہدیداروں کی بھی بھارت آمد متوقع ہے۔
روایتی حریفوں کے مقابلے دیکھنے کیلیے پاکستان سے لوگوں کا پڑوسی ملک جانا دشوار بنایا جا رہا ہے، بھارتی حکومت نے سیکیورٹی کے نام پر کڑی ویزا شرائط عائد کردیں، بھارتی اسپانسر کا حامل فرد ہی سرحد پار جانے کا پروانہ حاصل کرپائے گا، بھارتی وزارت داخلہ کے آفیشل کا کہنا ہے کہ ویزوں کی تعداد پرکوئی پابندی نہیں، جو مقررہ معیار پر پورا اترا وہی ہمارے ملک آسکے گا، ہم اپنی سیکیورٹی پر کوئی بھی سمجھوتہ نہیں کرسکتے، موجودہ قوانین کے تحت پاکستانی شہری صرف 3 بھارتی شہروں کے سفر کی اجازت حاصل کرپائیں گے، دونوں ممالک میں نئے سمجھوتے پر عملدرآمد پہلے ہوگیا تو پھر پوری سیریز دیکھنے کو مل سکتی ہے۔ تفصیلات پاکستان اور بھارت کے درمیان آئندہ ماہ کے آخر میں 2 ٹوئنٹی 20 اور تین ون ڈے میچز کی سیریز کھیلی جائے گی،اس کا پاکستانی شائقین بے صبری سے انتظار رہے ہیں۔
عوام کی بڑی تعداد پڑوسی ملک جاکر روایتی حریف کے میدانوں پر جنگ کا نظارہ کرنا چاہتی ہے، مگر بھارتی حکومت ان شائقین کو سہولتیں فراہم کرنے کے اپنے ہی دعوے سے اب پیچھے ہٹی دکھائی دینے لگی،کئی بھارتی حکومتی عہدیداروں نے یقین دہانی کرائی تھی کہ پاکستانی شائقین کو ویزے وغیرہ میں سہولتیں فراہم کی جائیں گی تاہم وزارت داخلہ نے پاکستانی شائقین کرکٹ کیلیے انتہائی سخت ویزا شرائط عائد کردی ہیں، بھارت کا سفر کرنے کیلیے بھارتی اسپانسر کا ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ وزارت داخلہ نے واضح کردیاکہ اگر کوئی پاکستانی شائق 25 دسمبر سے شروع ہونے والی سیریز دیکھنا چاہتا ہے تو اس کے پاس ویزے کیلیے ایک مقامی اسپانسر ہونا چاہیے۔ یہ فیصلہ ان اطلاعات کی روشنی میں کیا گیا۔
جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ نومبر دسمبر 2007 میں کھیلی گئی باہمی سیریز دیکھنے کیلیے پاکستان سے آنے والے شائقین میں سے 12 واپس نہیں گئے اور ابھی تک ان کا پتہ نہیں لگایا جاسکا ہے۔ وزارت داخلہ کے ایک آفیشل نے کہاکہ کرکٹ شائقین کیلیے ویزا شرائط میں کوئی نرمی نہیں کی جائے گی، ہم اپنی سیکیورٹی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرسکتے، پاکستانی شائقین کو ویزے جاری کرنے کی تعداد پرکوئی پابندی نہیں جو معیار پر پورا اترے گا اس کو ویزا دے دیا جائے گا۔ ویزے کیلیے درخواست دینے والے کو لازمی طور پر میچز کی ٹکٹوں کی نقل بھی ساتھ لگانا ہوگی۔
بھارتی حکومتی ذرائع نے بتایا کہ گذشتہ برس موہالی میں پاک بھارت سیمی فائنل دیکھنے کیلیے آنے والے تمام پاکستانی شائقین وطن واپس لوٹ گئے تھے، مگر 2007 والے 12 شائقین کی ابھی تک تلاش جاری ہے، یہ بھی واضح کیاگیاکہ جن لوگوں نے پانچ برس قبل بھارت کا سفر کیا تھا ان کیلیے بھارتی اسپانسر کی شرط لازمی نہیں ہوگی۔ وزارت داخلہ کے آفیشلز کا کہنا ہے کہ ویزا معیار پر پورا اترنے والوں کو ایک سے زیادہ میچز کیلیے ویزا جاری کیا جائے گا،موجودہ قوانین کے تحت پاکستانی شہری صرف تین بھارتی شہروں کیلیے ویزا حاصل کرسکتے ہیں لیکن اگر ویزے کے حوالے سے پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والا نیا سمجھوتہ سیریز سے قبل نافذ العمل ہوجاتا ہے تب پھر پاکستانی شائقین سیریز کے تمام پانچوں میزبان شہروں میں جاسکیں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وزارت داخلہ کے حکام جلد ہی تامل ناڈو، ویسٹ بنگال، کرناٹک اور گجرات کی اسٹیٹ حکومتوں اور دہلی پولیس سے پاکستانی ٹیم کے ساتھ میچز کے سیکیورٹی اور دیگر انتظامات کے بارے میں بات چیت کرے گی۔ دونوں ٹیموں کے درمیان ٹوئنٹی 20 میچز بنگلور اور احمد آباد جبکہ ون ڈے مقابلے چنئی، کولکتہ اور نئی دہلی میں ہوںگے۔ ان مقابلوں کو دیکھنے کیلیے پاکستان کے کئی اعلیٰ عہدیداروں کی بھی بھارت آمد متوقع ہے۔