برسبین میں آملا نے خود اپنے پائوں پر کلہاڑی دے ماری
مشکوک ایل بی ڈبلیو کے باوجودڈی آر ایس کی مدد نہیں لی، کیلس نے بھی مشورہ نہ دیا۔
آسٹریلیا کے خلاف پہلے ٹیسٹ کے تیسرے روز ہاشم آملا کو 104 رنز پر امپائر اسد رئوف نے پیٹرسڈل کی گیند پر ایل بی ڈبلیو قرار دے دیا۔ فوٹو: اے ایف پی
ISLAMABAD:
برسبین ٹیسٹ میں ہاشم آملا نے خود اپنے ہاتھوں سے پائوں پر کلہاڑی دے ماری، ایل بی ڈبلیو پر یقین نہ ہونے کے باوجود بھی ڈی آر ایس کی مدد نہیں لی۔
دوسرے اینڈ پر موجود جیک کیلس نے بھی ان کو ریویو لینے کا مشورہ نہیں دیا۔آسٹریلیا کے خلاف پہلے ٹیسٹ کے تیسرے روز ہاشم آملا کو 104 رنز پر امپائر اسد رئوف نے پیٹرسڈل کی گیند پر ایل بی ڈبلیو قرار دے دیا، آملا نے سوچا ضرور کہ انھیں اس فیصلے کے خلاف ڈی آر ایس کی مدد لینی چاہیے،انھوں نے دوسرے اینڈ پر موجود ساتھی کھلاڑی جیک کیلس سے بات بھی کی مگر پھر فیصلہ چیلنج کیے بغیر ہی پویلین واپس چلے گئے، اگر وہ ریویو کیلیے کہتے تو ایک پھر مزید زیادہ رنز اسکور کرسکتے تھے کیونکہ ری پلیز میں گیند اسٹمپس کے اوپر سے گزرتی ہوئی دکھائی جارہی تھی۔
یہ آملا کی آسٹریلیا کے خلاف چوتھی اننگز میں تیسری سنچری تھی، انھوں نے جولائی میں انگلینڈ کے خلاف اوول میں 311 رنز بناکر جنوبی افریقہ کی جانب سے ٹرپل سنچری کا کارنامہ انجام دینے والے پہلے کھلاڑی کا اعزاز حاصل کیا تھا۔ ہاشم آملا کے اس طرح آئوٹ ہونے کا کچھ ذمہ دار جیک کیلس خود کو بھی سمجھتے ہیں، اس بارے میں ان کا کہنا ہے کہ آملا اور میرے درمیان اس بارے میں بات ہوئی، میں نے ان سے کہا کہ میرے خیال میں گیند تھوڑی اوپر تھی مگر آملا سمجھتے تھے کہ شائد ایسا نہ ہوکیونکہ امپائر نے ایل بی ڈبلیو قرار دیا ہے، اس بارے میں فیصلہ کافی مشکل تھا میرے خیال میں مجھے انھیں کہنا چاہیے تھا کہ ریفر کردو کیونکہ ہمارے پاس دو ریفرل موجود تھے، میں خود کو بھی ان کے آئوٹ ہونے کا تھوڑا ذمہ دار سمجھتا ہوں۔
برسبین ٹیسٹ میں ہاشم آملا نے خود اپنے ہاتھوں سے پائوں پر کلہاڑی دے ماری، ایل بی ڈبلیو پر یقین نہ ہونے کے باوجود بھی ڈی آر ایس کی مدد نہیں لی۔
دوسرے اینڈ پر موجود جیک کیلس نے بھی ان کو ریویو لینے کا مشورہ نہیں دیا۔آسٹریلیا کے خلاف پہلے ٹیسٹ کے تیسرے روز ہاشم آملا کو 104 رنز پر امپائر اسد رئوف نے پیٹرسڈل کی گیند پر ایل بی ڈبلیو قرار دے دیا، آملا نے سوچا ضرور کہ انھیں اس فیصلے کے خلاف ڈی آر ایس کی مدد لینی چاہیے،انھوں نے دوسرے اینڈ پر موجود ساتھی کھلاڑی جیک کیلس سے بات بھی کی مگر پھر فیصلہ چیلنج کیے بغیر ہی پویلین واپس چلے گئے، اگر وہ ریویو کیلیے کہتے تو ایک پھر مزید زیادہ رنز اسکور کرسکتے تھے کیونکہ ری پلیز میں گیند اسٹمپس کے اوپر سے گزرتی ہوئی دکھائی جارہی تھی۔
یہ آملا کی آسٹریلیا کے خلاف چوتھی اننگز میں تیسری سنچری تھی، انھوں نے جولائی میں انگلینڈ کے خلاف اوول میں 311 رنز بناکر جنوبی افریقہ کی جانب سے ٹرپل سنچری کا کارنامہ انجام دینے والے پہلے کھلاڑی کا اعزاز حاصل کیا تھا۔ ہاشم آملا کے اس طرح آئوٹ ہونے کا کچھ ذمہ دار جیک کیلس خود کو بھی سمجھتے ہیں، اس بارے میں ان کا کہنا ہے کہ آملا اور میرے درمیان اس بارے میں بات ہوئی، میں نے ان سے کہا کہ میرے خیال میں گیند تھوڑی اوپر تھی مگر آملا سمجھتے تھے کہ شائد ایسا نہ ہوکیونکہ امپائر نے ایل بی ڈبلیو قرار دیا ہے، اس بارے میں فیصلہ کافی مشکل تھا میرے خیال میں مجھے انھیں کہنا چاہیے تھا کہ ریفر کردو کیونکہ ہمارے پاس دو ریفرل موجود تھے، میں خود کو بھی ان کے آئوٹ ہونے کا تھوڑا ذمہ دار سمجھتا ہوں۔