ایرانی صدر کا تاریخی دورہ پاکستان
دونوں ممالک دہشتگردی کےخلاف پرعزم ہیں اورمل کرکوششیں کرنا چاہتےہیں دونوں ملکوں کی سرحدیں محفوظ ہونےسےہی ترقی ممکن ہے
ایرانی صدر حسن روحانی کا دورہ پاکستان انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور اس حوالے سے دوررس اثرات مرتب ہوں گے فوٹو؛ پی آئی ڈی
پاک ایران تعلقات کی تاریخ بہت قدیم ہے۔ مغلیہ دور میں تو برصغیر کی سرکاری زبان فارسی تھی حتی کہ پنجاب پر مہاراجہ رنجیت سنگھ کی سکھ حکومت میں بھی سرکاری کارروائی فارسی زبان میں ہی ہوتی تھی۔ انگریزوں نے یہاں قبضہ کرنے کے بعد فارسی کو پیچھے دھکیل دیا۔ ایرانی صدر حسن روحانی کا پاکستان کے دورے پر آنا پاک ایران تعلقات میں ایک نیا باب ہے۔
انقلاب ایران کے بعد وہ دوسرے ایرانی سربراہ ہیں جو پاکستان کے دورے پر آئے ہیں۔ان سے پہلے صدر خاتمی پاکستان کا دورہ کر چکے ہیں۔ ایران قیام پاکستان کے بعد اس کو تسلیم کرنے والا دنیا کا پہلا ملک تھا جب کہ پاکستان کا سب سے پہلا دورہ کرنیوالے بھی شہنشاہ ایران محمد رضا شاہ پہلوی تھے ۔ صدر روحانی کے دورہ پاکستان سے قبل پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف اور آرمی چیف جنرل راحیل شریف دو مرتبہ ایران کا دورہ کر چکے ہیں تاکہ ایران سعودیہ کشیدگی کو دور کرایا جائے جس میں انھیں خاطر خواہ کامیابی بھی حاصل ہوئی۔
اب ایرانی صدر کے دورہ پاکستان سے پاکستان اور ایران نے دو نئی سرحدی راہداریاں بنانے سمیت صحت، فنانس، فارن سروسز کے ساتھ مختلف دیگر شعبوں میں مفاہمت کی 6 یادداشتوں پر دستخط کیے ہیں اور وزیراعظم نواز شریف نے امید ظاہر کی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تعلقات مضبوط سے مضبوط تر ہونگے۔ دو نئے سرحدی راستے کھولنے کا فیصلہ مختلف شعبوں میں تعاون اور عوامی سطح پر رابطے بڑھانے کے لیے کیا گیا ہے۔
ایران کے صدر حسن روحانی کا یہ بیان خصوصی اہمیت اور یگانگت کا حامل ہے کہ ''پاکستان کی سلامتی ہماری سلامتی اور ایران کی سلامتی پاکستان کی سلامتی ہے''۔ وزیراعظم نواز شریف اور ایرانی صدر حسن روحانی میں پہلے ون آن ون ملاقات پھر وفود کی سطح پر مذاکرات ہوئے جس میں دہشتگردی، اقتصادی تعاون بڑھانے سمیت دیگر اہم معاملات پر بات چیت کی گئی۔ دونوں ملکوں نے مختلف شعبوں میں تعاون کے معاہدوں پر دستخط کیے۔ 5 سالہ تجارتی معاہدے کے مطابق دوطرفہ تجارت کا حجم5 ارب ڈالر تک بڑھایا جائے گا جب کہ دونوں ملکوں میں تجارت کا موجودہ حجم صرف 250 ملین (یعنی محض پچیس کروڑ) ڈالر تک ہے جس میں بیس گنا تک اضافہ کرنے کے عزم کا اظہار کیا گیا ہے، دونوں ملکوں نے تجارتی منڈیوں تک رسائی آسان بنانے کا اعلان بھی کیا ہے۔
نجی سیکٹر میں تجارت کے فروغ کے لیے مشترکہ چیمبر آف کامرس اور جوائنٹ بزنس کونسل قائم کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔ آزادانہ تجارتی معاہدے پر عملدرآمد کے لیے دونوں ملک تاجروں کو سازگار ماحول فراہم کرنے کی پابند ہوں گے، دوطرفہ تجارت بڑھانے کے لیے سرحد پر نئے تجارتی پوائنٹس کھولے جائینگے۔ وزیراعظم نواز شریف نے ایرانی صدر کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہاکہ دونوں ملکوں کے درمیان گہرے برادرانہ تعلقات ہیں، توقع ہے ایرانی قوم صدر روحانی کی قیادت میں ترقی کرے گی اور دوطرفہ تعلقات مضبوط تر ہوتے جائیں گے جس سے دونوں ممالک کے عوام کو فائدہ پہنچے گا۔
مذاکرات میں تمام شعبوں میں تعاون بڑھانے پر گفتگو ہوئی، باہمی تعاون کو توانائی کے شعبے سمیت تمام شعبوں میں فروغ دیا جائے گا۔ وزیراعظم نواز شریف نے جشن نوروز پر ایرانی قوم کے لیے مبارک باد کا پیغام دیا۔ ایرانی صدر حسن روحانی نے کہا دونوں برادر ملکوں میں اقتصادی تعاون بڑھانے کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ قدرتی وسائل کے شعبے میں تعاون کو مزید فروغ دیا جا سکتا ہے، پاکستان اور ایران کے درمیان تجارت کو بہت بڑھانے کی گنجائش موجود ہے، گوادر اور چاہ بہار بندرگاہوں کو باہمی رابطوں کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ دونوں ممالک دہشتگردی کے خلاف پر عزم ہیں اور مل کر کوششیں کرنا چاہتے ہیں۔ دونوں ملکوں کی سرحدیں محفوظ ہونے سے ہی ترقی ممکن ہے۔
ایک بات جو خاص طور پر محسوس کی گئی وہ یہ تھی کہ مذاکرات میں ایران۔پاک گیس پائپ لائن کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا حالانکہ ایران کے بارے میں کافی عرصے سے کہا جا رہا ہے کہ اس نے اپنے حصے کی پائپ لائن بہت پہلے ہی مکمل کر رکھی ہے اب صرف پاکستان کو اس پائپ لائن سے اپنا حصہ جوڑنا ہے۔ اس سے قبل کہا جا رہا تھا کہ ایران پر امریکی پابندیوں کے باعث یہ منصوبہ التوا کا شکار ہے لیکن اب تو وہ پابندیاں بھی ہٹ چکی ہیں اب کیا رکاوٹ ہے؟ صدر روحانی کے ہمراہ ایک بہت بڑا وفد بھی یہاں آیا ہے جس میں 60 بزنس مین بھی شامل ہیں جس کے باعث باہمی تعلقات ایک تازہ قوت متحرکہ پیدا ہونے کی امید ہے۔
دونوں ملکوں کی بات چیت میں گوادر پورٹ اور ایرانی چاہ بہار میں قریبی تعاون پر بھی زور دیا گیا ہے۔ وزیراعظم نواز شریف اور صدر روحانی کے درمیان بات چیت کا اہم پہلو یہ تھا کہ ایرانی صدر نے اپنی قومی زبان فارسی میں تقریر کی جس کا مترجم نے اردو زبان میں ترجمہ کیا تاہم پاکستان کے حکمران نے اردو کی بجائے انگریزی زبان کا سہارہ لیا حالانکہ اگر وہ اردو بولتے تو عین ممکن ہے کہ ایرانی صدر نواز شریف کی تقریر کے بعض جملے بغیر ترجمے کے ہی سمجھ لیتے اور پاکستانیوں کے سر بھی فخر سے بلند ہو جاتے۔ بہرحال جنوبی ایشیا، مشرق وسطیٰ اور وسط ایشیا کی صورت حال کے تناظر میں ایرانی صدر حسن روحانی کا دورہ پاکستان انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور اس حوالے سے دوررس اثرات مرتب ہوں گے۔
انقلاب ایران کے بعد وہ دوسرے ایرانی سربراہ ہیں جو پاکستان کے دورے پر آئے ہیں۔ان سے پہلے صدر خاتمی پاکستان کا دورہ کر چکے ہیں۔ ایران قیام پاکستان کے بعد اس کو تسلیم کرنے والا دنیا کا پہلا ملک تھا جب کہ پاکستان کا سب سے پہلا دورہ کرنیوالے بھی شہنشاہ ایران محمد رضا شاہ پہلوی تھے ۔ صدر روحانی کے دورہ پاکستان سے قبل پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف اور آرمی چیف جنرل راحیل شریف دو مرتبہ ایران کا دورہ کر چکے ہیں تاکہ ایران سعودیہ کشیدگی کو دور کرایا جائے جس میں انھیں خاطر خواہ کامیابی بھی حاصل ہوئی۔
اب ایرانی صدر کے دورہ پاکستان سے پاکستان اور ایران نے دو نئی سرحدی راہداریاں بنانے سمیت صحت، فنانس، فارن سروسز کے ساتھ مختلف دیگر شعبوں میں مفاہمت کی 6 یادداشتوں پر دستخط کیے ہیں اور وزیراعظم نواز شریف نے امید ظاہر کی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تعلقات مضبوط سے مضبوط تر ہونگے۔ دو نئے سرحدی راستے کھولنے کا فیصلہ مختلف شعبوں میں تعاون اور عوامی سطح پر رابطے بڑھانے کے لیے کیا گیا ہے۔
ایران کے صدر حسن روحانی کا یہ بیان خصوصی اہمیت اور یگانگت کا حامل ہے کہ ''پاکستان کی سلامتی ہماری سلامتی اور ایران کی سلامتی پاکستان کی سلامتی ہے''۔ وزیراعظم نواز شریف اور ایرانی صدر حسن روحانی میں پہلے ون آن ون ملاقات پھر وفود کی سطح پر مذاکرات ہوئے جس میں دہشتگردی، اقتصادی تعاون بڑھانے سمیت دیگر اہم معاملات پر بات چیت کی گئی۔ دونوں ملکوں نے مختلف شعبوں میں تعاون کے معاہدوں پر دستخط کیے۔ 5 سالہ تجارتی معاہدے کے مطابق دوطرفہ تجارت کا حجم5 ارب ڈالر تک بڑھایا جائے گا جب کہ دونوں ملکوں میں تجارت کا موجودہ حجم صرف 250 ملین (یعنی محض پچیس کروڑ) ڈالر تک ہے جس میں بیس گنا تک اضافہ کرنے کے عزم کا اظہار کیا گیا ہے، دونوں ملکوں نے تجارتی منڈیوں تک رسائی آسان بنانے کا اعلان بھی کیا ہے۔
نجی سیکٹر میں تجارت کے فروغ کے لیے مشترکہ چیمبر آف کامرس اور جوائنٹ بزنس کونسل قائم کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔ آزادانہ تجارتی معاہدے پر عملدرآمد کے لیے دونوں ملک تاجروں کو سازگار ماحول فراہم کرنے کی پابند ہوں گے، دوطرفہ تجارت بڑھانے کے لیے سرحد پر نئے تجارتی پوائنٹس کھولے جائینگے۔ وزیراعظم نواز شریف نے ایرانی صدر کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہاکہ دونوں ملکوں کے درمیان گہرے برادرانہ تعلقات ہیں، توقع ہے ایرانی قوم صدر روحانی کی قیادت میں ترقی کرے گی اور دوطرفہ تعلقات مضبوط تر ہوتے جائیں گے جس سے دونوں ممالک کے عوام کو فائدہ پہنچے گا۔
مذاکرات میں تمام شعبوں میں تعاون بڑھانے پر گفتگو ہوئی، باہمی تعاون کو توانائی کے شعبے سمیت تمام شعبوں میں فروغ دیا جائے گا۔ وزیراعظم نواز شریف نے جشن نوروز پر ایرانی قوم کے لیے مبارک باد کا پیغام دیا۔ ایرانی صدر حسن روحانی نے کہا دونوں برادر ملکوں میں اقتصادی تعاون بڑھانے کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ قدرتی وسائل کے شعبے میں تعاون کو مزید فروغ دیا جا سکتا ہے، پاکستان اور ایران کے درمیان تجارت کو بہت بڑھانے کی گنجائش موجود ہے، گوادر اور چاہ بہار بندرگاہوں کو باہمی رابطوں کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ دونوں ممالک دہشتگردی کے خلاف پر عزم ہیں اور مل کر کوششیں کرنا چاہتے ہیں۔ دونوں ملکوں کی سرحدیں محفوظ ہونے سے ہی ترقی ممکن ہے۔
ایک بات جو خاص طور پر محسوس کی گئی وہ یہ تھی کہ مذاکرات میں ایران۔پاک گیس پائپ لائن کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا حالانکہ ایران کے بارے میں کافی عرصے سے کہا جا رہا ہے کہ اس نے اپنے حصے کی پائپ لائن بہت پہلے ہی مکمل کر رکھی ہے اب صرف پاکستان کو اس پائپ لائن سے اپنا حصہ جوڑنا ہے۔ اس سے قبل کہا جا رہا تھا کہ ایران پر امریکی پابندیوں کے باعث یہ منصوبہ التوا کا شکار ہے لیکن اب تو وہ پابندیاں بھی ہٹ چکی ہیں اب کیا رکاوٹ ہے؟ صدر روحانی کے ہمراہ ایک بہت بڑا وفد بھی یہاں آیا ہے جس میں 60 بزنس مین بھی شامل ہیں جس کے باعث باہمی تعلقات ایک تازہ قوت متحرکہ پیدا ہونے کی امید ہے۔
دونوں ملکوں کی بات چیت میں گوادر پورٹ اور ایرانی چاہ بہار میں قریبی تعاون پر بھی زور دیا گیا ہے۔ وزیراعظم نواز شریف اور صدر روحانی کے درمیان بات چیت کا اہم پہلو یہ تھا کہ ایرانی صدر نے اپنی قومی زبان فارسی میں تقریر کی جس کا مترجم نے اردو زبان میں ترجمہ کیا تاہم پاکستان کے حکمران نے اردو کی بجائے انگریزی زبان کا سہارہ لیا حالانکہ اگر وہ اردو بولتے تو عین ممکن ہے کہ ایرانی صدر نواز شریف کی تقریر کے بعض جملے بغیر ترجمے کے ہی سمجھ لیتے اور پاکستانیوں کے سر بھی فخر سے بلند ہو جاتے۔ بہرحال جنوبی ایشیا، مشرق وسطیٰ اور وسط ایشیا کی صورت حال کے تناظر میں ایرانی صدر حسن روحانی کا دورہ پاکستان انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور اس حوالے سے دوررس اثرات مرتب ہوں گے۔