مشترکہ مفادات کونسل میں مردم شماری پھر موخر
مردم شماری جیسا اہم کام ملک میں ایک عرصہ سے تاخیر کا شکار ہوتا آیا ہے، اصولاً تو مردم شماری ہر 10 سال بعد ہونا لازم ہے
پاکستان میں ڈیموں کی تعمیر کا معاملہ ہو یا مردم شماری، عوامی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے کیے جائیں۔ فوٹو: فائل
مشترکہ مفادات کونسل نے متفقہ طور پر قومی مردم شماری غیر معینہ مدت کے لیے موخر کرنے کی منظوری دے دی ہے، نئی تاریخ کا تعین صوبائی حکومتوں اور مسلح افواج کے ساتھ مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔ مردم شماری جیسا اہم کام ملک میں ایک عرصہ سے تاخیر کا شکار ہوتا آیا ہے، اصولاً تو مردم شماری ہر 10 سال بعد ہونا لازم ہے لیکن گزشتہ ادوار میں بھی مردم شماری جیسے اہم فریضے سے پہلوتہی برتی جاتی رہی، ملک کی آبادی کے صحیح اعداد و شمار نہ ہونے کے باعث کئی طرح کے مسائل جنم لے رہے ہیں۔
جمعہ کو مشترکہ مفادات کونسل کے 29 ویں اجلاس میں بتایا گیا ہے کہ مردم شماری میں شفافیت مستقبل کی منصوبہ بندی کے لیے انتہائی ضروری ہے، مردم شماری کے عمل کے دوران سیکیورٹی اور قابل اعتماد اعداد و شمار جمع کرنے کے لیے تقریباً تین لاکھ فوجی اہلکاروں کی خدمات درکار ہیں جب کہ ضرب عضب کی وجہ سے فوجی اہلکاروں کی مطلوبہ تعداد میں دستیابی ممکن نہیں۔ اجلاس میں مرحلہ وار مردم شماری کی تجویز بھی زیر غور لائی گئی جب کہ پاکستان کے مخصوص حالات کے پیش نظر مرحلہ وار مردم شماری کے قابل اعتماد ہونے پر تنازعات بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔
وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا صائب ہے کہ اگر مردم شماری ملتوی کرنا ہے تو نئی تاریخ کا بھی اعلان کیا جائے تاہم وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ نئی تاریخ تو فوری نہیں دی جا سکتی البتہ وہ یہ وعدہ ضرور کرتے ہیں کہ مردم شماری اسی سال شروع کروائی جائے گی۔ آپریشن ضرب عضب کی مدت کا کوئی تعین نہیں اس لیے مطلوبہ فوجیوں کی تعداد میسر نہ ہونے کو مردم شماری کے آڑے نہیں آنا چاہیے، اس سلسلے میں کوئی اور لائحہ عمل ترتیب دیا جائے۔
مشترکہ مفادات کونسل میں سیلاب سے بچاؤ کی قومی حکمت عملی (فلڈ پروٹیکشن پلان) میں کالا باغ ڈیم اور اکھوڑی ڈیم کی تعمیر کا نکتہ شامل کیا گیا جس پر سندھ اور خیبرپختوانخوا کی جانب سے اعتراض کیا گیا۔ مناسب ہو گا کہ متنازعہ معاملات جن پر عملدرآمد نہ کرنے پر پہلے اتفاق ہو چکا ہے انھیں دوبارہ نہ چھیڑا جائے، سیلاب سے بچاؤ اور پانی کے ذخیرے محفوظ کرنے کے لیے تمام صوبوں کے لیے یکساں قابل قبول لائحہ عمل اختیار کرنا ہی صائب ہو گا۔ یاد رکھا جائے کہ مسائل سے پہلوتہی یا چشم پوشی تو اختیار کی جا سکتی ہے لیکن ان سے جان نہیں چھڑائی جا سکتی۔ پاکستان میں ڈیموں کی تعمیر کا معاملہ ہو یا مردم شماری، عوامی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے کیے جائیں۔
جمعہ کو مشترکہ مفادات کونسل کے 29 ویں اجلاس میں بتایا گیا ہے کہ مردم شماری میں شفافیت مستقبل کی منصوبہ بندی کے لیے انتہائی ضروری ہے، مردم شماری کے عمل کے دوران سیکیورٹی اور قابل اعتماد اعداد و شمار جمع کرنے کے لیے تقریباً تین لاکھ فوجی اہلکاروں کی خدمات درکار ہیں جب کہ ضرب عضب کی وجہ سے فوجی اہلکاروں کی مطلوبہ تعداد میں دستیابی ممکن نہیں۔ اجلاس میں مرحلہ وار مردم شماری کی تجویز بھی زیر غور لائی گئی جب کہ پاکستان کے مخصوص حالات کے پیش نظر مرحلہ وار مردم شماری کے قابل اعتماد ہونے پر تنازعات بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔
وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا صائب ہے کہ اگر مردم شماری ملتوی کرنا ہے تو نئی تاریخ کا بھی اعلان کیا جائے تاہم وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ نئی تاریخ تو فوری نہیں دی جا سکتی البتہ وہ یہ وعدہ ضرور کرتے ہیں کہ مردم شماری اسی سال شروع کروائی جائے گی۔ آپریشن ضرب عضب کی مدت کا کوئی تعین نہیں اس لیے مطلوبہ فوجیوں کی تعداد میسر نہ ہونے کو مردم شماری کے آڑے نہیں آنا چاہیے، اس سلسلے میں کوئی اور لائحہ عمل ترتیب دیا جائے۔
مشترکہ مفادات کونسل میں سیلاب سے بچاؤ کی قومی حکمت عملی (فلڈ پروٹیکشن پلان) میں کالا باغ ڈیم اور اکھوڑی ڈیم کی تعمیر کا نکتہ شامل کیا گیا جس پر سندھ اور خیبرپختوانخوا کی جانب سے اعتراض کیا گیا۔ مناسب ہو گا کہ متنازعہ معاملات جن پر عملدرآمد نہ کرنے پر پہلے اتفاق ہو چکا ہے انھیں دوبارہ نہ چھیڑا جائے، سیلاب سے بچاؤ اور پانی کے ذخیرے محفوظ کرنے کے لیے تمام صوبوں کے لیے یکساں قابل قبول لائحہ عمل اختیار کرنا ہی صائب ہو گا۔ یاد رکھا جائے کہ مسائل سے پہلوتہی یا چشم پوشی تو اختیار کی جا سکتی ہے لیکن ان سے جان نہیں چھڑائی جا سکتی۔ پاکستان میں ڈیموں کی تعمیر کا معاملہ ہو یا مردم شماری، عوامی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے کیے جائیں۔