ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ میں شکست ذمے داروں کا احتساب کیا جائے

ہار جیت کھیل کا حصہ ہے، مگر کھیل جوش و ہوش کا بہترین نمونہ ہوتے ہیں، مسابقت کرکٹ کی جان ہے

پاکستان کرکٹ بورڈ کے موجودہ کرتا دھرتا اس کے اہل نظر نہیں آتے لہٰذا وزیراعظم کی ذمے داری ہے کہ وہ خود ایکشن لیں اور ایڈہاک سیٹ اپ بنا کر کرکٹ کو ٹھیک کرنے کی سعی کریں۔ فوٹو : فائل

ٹی 20 ورلڈ کپ کے اہم ترین میچ میں آسٹریلیا کے مقابل پاکستان کی21 رنز سے شکست بلاشبہ ذلت آمیز تھی۔ اس شکست کے بعد پاکستان ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سے باہر ہو گیا۔ آسٹریلیا کے خلاف میچ میں قومی ٹیم مکمل اضمحلال، پیشگی احساس شکست، انوکھے خوف اور بے یقینی کا شکار نظر آئی جس نے قوم کے دل مجروح اور تمناؤں کا خون کیا۔

عوام کا غم و غصہ، اضطراب اور اشتعال فطری ہے کیونکہ اس وقت پوری دنیائے کرکٹ پاکستانی ٹیم کے پیس اٹیک اور بیٹسمینوں سے ہر گز مایوس نہیں ہے، لیکن یہ بورڈ مینجمنٹ کی ناکامی، داخلی انتشار، گروہ بندی اور ٹیم اسپرٹ کے فقدان کا نتیجہ ہے کہ فائنل کپ لے کر وطن لوٹنے کی آرزومند جواں سال ٹیم 194 رنز کے ہدف کے تعاقب میں 8 وکٹوں کے نقصان پر 172 رنز پر ہی ہمت ہار گئی، کیا یہ ٹارگٹ ناقابل حصول تھا، قطعی نہیں، ہاں اگر جیت کی امنگ ہوتی تو یہ ٹارگٹ عبور ہو سکتا تھا۔ وکٹ سیدھی تھی، بلے باز کے لیے سٹروک کھیلنا مشکل نہیں تھا۔ اگر بلے باز منصوبہ بندی اور حوصلے سے کھیلتے تو آسٹریلیا کو ہرایا جا سکتا تھا لیکن بلے باز اپنی مہارت دکھانے میں ناکام رہے اور بے موقع اور غلط سٹروک کھیلتے ہوئے آؤٹ ہو گئے۔


بھارت نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا کے خلاف قومی ٹیم کی پرفارمنس کسی اعتبار سے شاندار نہیں رہی، کپتان شاہد آفریدی اور کوچ وقار یونس سمیت دیگر اعلیٰ عہدیدار قومی ٹیم کے اس ذلت آمیز طریقے سے ٹورنامنٹ سے باہر ہونے کی ذمے داری لینے پر تیار نہیں جو اسپورٹسمین اسپرٹ کے خلاف طرزعمل ہے۔ لگتا ہے کہ یہی لوگ پیر تسمہ پا کی طرح اب بھی کرکٹ پر مسلط رہنا چاہتے ہیں۔ اس لیے وقت آ گیا ہے کہ وزیراعظم نواز شریف جو کرکٹ کے پیٹرن ان چیف ہیں وہ قومی ٹیم کی مسلسل شکستوں، بورڈ میں ہونے والی بد انتظامیوں اور ناکام مینجمنٹ کا فوری نوٹس لیں بلکہ پاکستان کرکٹ بورڈ کی مکمل اوور ہالنگ کے لیے اقدامات کا اعلان کریں۔

ہار جیت کھیل کا حصہ ہے، مگر کھیل جوش و ہوش کا بہترین نمونہ ہوتے ہیں، مسابقت کرکٹ کی جان ہے، لیکن ٹیم اسپرٹ، قومی لگن اور فتح کی تمنا جنون بن کر رگوں میں نہ اترے تو ''ہار'' گلے کا ہار بن جاتی ہے، آسٹریلیا کے سامنے کھیلتے ہوئے وہ جوش، جیت کا شعلہ قومی ٹیم میں نظر نہیں آیا، ایسی پسپائی قوم اور شائقین کرکٹ کو کیسے گوارا ہو گی۔ چنانچہ کرکٹ کی از سر نو تنظیم کے لیے سابق کرکٹرز سے مدد لی جائے۔ ٹیم کی مایوس کن کارکردگی پر کھلاڑیوں اور ٹیم منیجمنٹ کے خلاف غم و غصہ کے ازالہ کا یہی واحد حل ہے کہ ٹی 20 ورلڈ کپ میں شکست کے ذمے داروں کا بلا تاخیر احتساب کیا جائے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے موجودہ کرتا دھرتا اس کے اہل نظر نہیں آتے لہٰذا وزیراعظم کی ذمے داری ہے کہ وہ خود ایکشن لیں اور ایڈہاک سیٹ اپ بنا کر کرکٹ کو ٹھیک کرنے کی سعی کریں۔
Load Next Story