قانونی اسلحہ کی فروخت میں سخت شرائط کے باعث40 فیصد کمی

اسلحہ لائسنس کےحصول میںدشواریوں اورطویل پروسیجرکےسبب اسلحہ ڈیلرزکےساتھ اسلحہ ساز ادارے بھی متاثرہورہے ہیں،نور الدین.

شہر میں اسلحے کی ٹریننگ دینے والے سیکیورٹی ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ فعال ، تربیتی سیشن کی فیس 10ہزار روپے وصول کررہے ہیں فوٹو: اے ایف پی، فائل

ملک بھر میں غیرقانونی اسلحے کی بھرمار ہے تاہم اسلحہ لائسنس پر پابندی اور طویل پروسیجر اور سخت شرائط کے سبب قانونی طور پر اسلحہ کی فروخت میں 40 فیصد تک کمی کا سامنا ہے۔


ملک میں شارٹ گنز، شکاری رائفل، دو نالی بندوقیں اور گرنیڈ لانچر بنانے والی کمپنی دائود سنز آرمری کے نمائندے نورالدین کے مطابق اسلحہ لائسنس کے حصول میں دشواریوں اور طویل پروسیجر کے سبب اسلحہ ڈیلرز کے ساتھ اسلحہ ساز ادارے بھی متاثر ہورہے ہیں دوسری جانب عوام کی جان و مال کو لاحق خطرات بھی بڑھتے جارہے ہیں، انھوں نے بتایا کہ ان کی کمپنی زیادہ تر سیکیورٹی کمپنیوں کو ہتھیار فروخت کرتی ہے تاہم ملک بھر میں کڑی شرائط اور طویل پروسیجر کے سبب سیکیورٹی کمپنیوں کو بھی لائسنس کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے۔

جس سے اسلحے کی فروخت متاثر ہورہی ہے انھوں نے حکومت پر زور دیا کہ لائسنس کے اجرا کے لیے اسکروٹنی کے عمل کو تیز کیا جائے، ادھر کراچی میں امن و امان کی مخدوش صورتحال کے باعث نجی سطح پر سیکیورٹی ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ فعال ہوگئے ہیں جہاں پستول سے لے کر جدید رائفلیں چلانے تک کی تربیت فراہم کی جاہی ہے یہ انسٹی ٹیوٹ اسلحہ ڈیلرز کے ذریعے مارکیٹنگ کررہے ہیں ہتھیاروں کی تربیت فراہم کرنے والا انسٹی ٹیوٹ 3 گھنٹوں کے تربیتی سیشن کی فیس 10ہزار روپے وصول کررہا ہے جس میں پستول اور رائفلیں چلانے، نشانہ بازی کی تربیت دی جارہی ہے یہ کلب سالانہ ممبرشپ کی سہولت بھی فراہم کررہا ہے تاہم اس کے لیے انفرادی شکل میںایک لاکھ روپے اور گروپ کی شکل میں 3 سے 4 لاکھ روپے لائف ٹائم ممبر شپ دی جارہی ہے۔
Load Next Story