منی بس میں انسانوں کو جلانے کے مقدمے کا فیصلہ نہ ہو سکا

گواہ عدالت آنےسےڈرتے،ملزمان کی شناخت سےگریز اورمنحرف ہوجاتے ہیں،تحفظ کیلیے قانون بنانا ہوگا،پراسیکیوٹرعبدالمعروف.

ملزمان نے مسافروں سمیت بس جلادی تھی،گواہ ملزمان کو شناخت کرچکے ،تفتیشی افسر کا تبادلہ اورسابق پراسیکیوٹر برطانیہ جاچکے. فوٹو : ایکسپریس

انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں زیر سماعت ہونے کے باوجود انسانوں کو زندہ جلانے کے مقدمے کا فیصلہ ایک سال سے زائد مدت گزرجانے کے باوجود نہیں ہوسکا۔

پولیس کی جانب سے بروقت تفتیش مکمل اور سرکاری وکلا کی جانب سے پیروی کے باوجود گواہوں کی عدم دلچسپی مقدمے کی تیز سماعت میں رکاوٹ ہے ،تفصیلات کے مطابق 13اگست 2011کو کیماڑی میںڈبلیو گیارہ کی منی بس کو اس حالت میں نذر آتش کیا گیاتھا کہ متعدد مسافروںکو بس سے نکلنے کاموقع بھی نہ مل سکا تھا، پولیس نے ملزمان کو گرفتار کرکے سندھ ہائیکورٹ کے جج جسٹس مقبول باقر کے روبرو ریمانڈ کے لیے پیش کیا تھا ، عدالت نے گرفتار ملزمان محمد شفیع اور خانزادہ خان کوعدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا تھا اور تفتیشی افسر کو چالان پیش کرنے کی ہدایت کی تھی پولیس نے انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت 3 میں چالان پیش کیا۔


تاہم 15ماہ گزرنے کے باوجود اس مقدمے کافیصلہ نہیں ہوسکا ہے، اس سلسلے میں خصوصی عدالت کے پراسیکیوٹر عبدالمعروف نے ایکسپریس کو بتایا کہ شہر کی امن وامان کی صورتحال کچھ ایسی ہے کہ گواہ عدالت آنے سے ڈؑرتے ہیں ، جو گواہ عدالت آتے ہیں وہ ملزمان کی شناخت سے گریز کرتے ہیں اور منحرف ہوجاتے ہیں ، گواہوں کے تحفظ کے لیے بھی قانون بنانا ہوگا، ورنہ سانحہ نشترپارک اور عاشورہ بم بلاسٹ کے مقدمات کی طرح یہ مقدمہ بھی التوا کا شکار رہے گا۔

واضح رہے کہ اس مقدمے کی سماعت کے دوران تفتیشی افسر کا بھی تبادلہ ہوچکا ہے، جبکہ مقدمے کے پہلے پبلک پراسیکیوٹر ارشد چیمہ بھی برطانیہ جاچکے ہیں ، ذرائع کے مطابق صوبے کی سیاسی صورتحال کے پیش نظر سرکاری و نجی گواہ مقدمے کی سماعت سے لاتعلقی اختیار کرنا چاہتے ہیں ، حالانکہ ابتدائی تفتیش میں پولیس نے عدالت کو بتایا تھا کہ گواہ ملزمان کو مجرم کی حیثیت سے شناخت کرچکے ہیں اورانکی شناختی پریڈ کرائی جاچکی ہے ۔
Load Next Story