ملزم بیٹے کو بچانے کیلیے خاتون کی جھوٹی درخواست پرعدالت برہم
مشتاق نے بھانجی گل بانوکے اغوا کا مقدمہ ملزم ضمیرعلی کیخلاف درج کرایا تھا
نذیراںنے مدعی کیخلاف اغوا کی درخواست دی،پولیس تمام افرادکوعدالت لے آئی. فوٹو فائل
لڑکی کے اغوا میں ملوث ملزم بیٹے کو بچانے کیلیے خاتون کی جانب سے اپنے گھر والوں کے اغوا کی جھوٹی درخواست پرعدالت نے شدید برہمی کا اظہار کیا ۔
تفصیلات کے مطابق تھانہ قائد آباد میں مدعی مشتاق احمد نے اپنی بھانجی گل بانو کے اغوا کا مقدمہ ملزم ضمیرعلی کے خلاف درج کرایا تھا جس میں موقف اختیارکیا تھا کہ ملزم نے اس کی بھانجی کو بہلا پھسلاکر زنا کی نیت سے اغوا کرلیا ،ملزم کی والدہ نذیراں بی بی نے گھنائونے جرم اور اپنے ملزم بیٹے کو بچانے کیلیے عدالت میں حقائق کی پردہ پوشی کرتے ہوئے حبس بے جاکی درخواست ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ملیر محمد امین کی عدالت میں دائرکی جس میں موقف اختیار کیا کہ اس کے بیٹے کا رشتے کا تنازع چل رہا ہے،29 اکتوبرکو مذکورہ افراد اپنے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ گھرمیں زبردستی داخل ہوئے اور اس کی بہو( ملزم کی اہلیہ ) ضمیراں بی بی،اس کے تین بچے عرفان احمد ،مختار بی بی،عاصمہ بی بی و دیگر اہل خانہ کومشتاق احمد ،(مغویہ گل بانو) کے والد علی شیر ،علی حسن نے اغوا کرلیا ،انھیں گھر میں قید کرلیا اورانھوں نے لڑکی کے اغوا میں نامزد اس کے بیٹے کو کارو کاری قرار دیا اور انھیں قتل کرنے کا خدشہ ظاہر کیا درخواست میں فوری ان کی بازیابی کی استدعا کی تھی ۔
فاضل عدالت نے فوری طور پر ایس ایچ او تھانہ قائد آباد کو تمام افراد کی بازیابی اور عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا تھا، قائد آباد پولیس نے شیربانو کالونی میں واقع مکان پر چھاپہ ماراجہاں کوئی موجود نہیں تھا تاہم مغویوں کے گھر پر اطلاع کی تو تمام افراد اپنے گھروں میں موجود تھے اورکسی کو اغوا نہیں کیا گیا تھا پولیس نے تمام مذکورہ افراد اور بچوںکو عدالت کے روبرو پیش کردیا، فاضل عدالت نے درخواست گزار پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔
تفصیلات کے مطابق تھانہ قائد آباد میں مدعی مشتاق احمد نے اپنی بھانجی گل بانو کے اغوا کا مقدمہ ملزم ضمیرعلی کے خلاف درج کرایا تھا جس میں موقف اختیارکیا تھا کہ ملزم نے اس کی بھانجی کو بہلا پھسلاکر زنا کی نیت سے اغوا کرلیا ،ملزم کی والدہ نذیراں بی بی نے گھنائونے جرم اور اپنے ملزم بیٹے کو بچانے کیلیے عدالت میں حقائق کی پردہ پوشی کرتے ہوئے حبس بے جاکی درخواست ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ملیر محمد امین کی عدالت میں دائرکی جس میں موقف اختیار کیا کہ اس کے بیٹے کا رشتے کا تنازع چل رہا ہے،29 اکتوبرکو مذکورہ افراد اپنے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ گھرمیں زبردستی داخل ہوئے اور اس کی بہو( ملزم کی اہلیہ ) ضمیراں بی بی،اس کے تین بچے عرفان احمد ،مختار بی بی،عاصمہ بی بی و دیگر اہل خانہ کومشتاق احمد ،(مغویہ گل بانو) کے والد علی شیر ،علی حسن نے اغوا کرلیا ،انھیں گھر میں قید کرلیا اورانھوں نے لڑکی کے اغوا میں نامزد اس کے بیٹے کو کارو کاری قرار دیا اور انھیں قتل کرنے کا خدشہ ظاہر کیا درخواست میں فوری ان کی بازیابی کی استدعا کی تھی ۔
فاضل عدالت نے فوری طور پر ایس ایچ او تھانہ قائد آباد کو تمام افراد کی بازیابی اور عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا تھا، قائد آباد پولیس نے شیربانو کالونی میں واقع مکان پر چھاپہ ماراجہاں کوئی موجود نہیں تھا تاہم مغویوں کے گھر پر اطلاع کی تو تمام افراد اپنے گھروں میں موجود تھے اورکسی کو اغوا نہیں کیا گیا تھا پولیس نے تمام مذکورہ افراد اور بچوںکو عدالت کے روبرو پیش کردیا، فاضل عدالت نے درخواست گزار پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔