انسانی اسمگلنگ کو روکنے کی کوششیں
دنیا میں پناہ گزینوں کا معاملہ دن بدن شدت اختیار کرتا جا رہا ہے جس کی بڑی وجہ ان ملکوں کے داخلی حالات ہیں
حکومت پاکستان کو بھی غیرقانونی طور پر بیرون ملک بھجوانے والوں کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے تاکہ انسانی اسمگلنگ کا دھندہ ختم ہو سکے۔ فوٹو : فائل
ایک طرف شام کی خانہ جنگی سے جان بچا کر بھاگنے والے یورپی ممالک میں داخل ہونے کے لیے جان کی بازی لگا رہے ہیں وہاں گزشتہ دنوں انڈونیشیا کے جزائر بالی میں پناہ گزینوں کے حوالے سے اقوام متحدہ کی پناہ گزینوں کی ایجنسی کے زیر اہتمام ایک کانفرنس میں جس میں زیادہ تر ایشیائی ممالک کے نمایندوں نے شرکت کی، فیصلہ کیا گیا ہے کہ انسانی اسمگلنگ اور غیر قانونی امیگریشن کو روکنے کے لیے موثر اقدامات کیے جانے چاہئیں۔
گزشتہ برس ایشیائی ممالک سے بہت بھاری تعداد میں تارکین وطن نے آسٹریلیا' ملائشیا' انڈونیشیاء تھائی لینڈ اور سنگاپور کی طرف ہجرت کی کوشش کی ۔ جزائر بالی میں ہونے والی اس کانفرنس میں آسٹریلیا کی وزیر خارجہ جولی بشپ نے اپنی انڈونیشیائی ہم منصب رتنو مارسوڈی کے ہمراہ شرکت کی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ غیر قانونی نقل وطن کے مسئلہ پر قابو پانے کے لیے ٹھوس بنیادوں پر کارروائی کی جانی چاہیے۔
کانفرنس میں بتایا گیا کہ تھائی لینڈ کے حکام غیرقانونی طور پر وہاں پہنچنے والے تارکین وطن کو روکنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کوشش کر رہے ہیں۔ تھائی لینڈ میں انسانی اسمگلنگ میں ملوث عناصر کی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ نظر آتا ہے جہاں مختلف ایشیائی علاقوں سے تارکین وطن سامان بردار بحری جہازوں کے ذریعے پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان میں بنگلہ دیشی اور برمی مسلمانوں کی اکثریت ہے۔
دنیا میں پناہ گزینوں کا معاملہ دن بدن شدت اختیار کرتا جا رہا ہے جس کی بڑی وجہ ان ملکوں کے داخلی حالات ہیں جہاں سے لوگ ہجرت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ دو بڑی وجوہات میں ایک بیروز گاری ہے جب کہ دوسری اس سے بھی زیادہ بڑی وجہ جان بچانے کی کوشش ہوتی ہے جان کے خطرے کا شکار ایک طرف روہنگیا مسلمان اور دوسری طرف ہولناک خانہ جنگی کا شکار شامی باشندے ہیں جو اپنے ملک سے جان بچا کر نکلتے ہیں تو یورپ جانے کی کوشش میں بحیرہ روم کی طلاطم خیز موجوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔ حکومت پاکستان کو بھی غیرقانونی طور پر بیرون ملک بھجوانے والوں کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے تاکہ انسانی اسمگلنگ کا دھندہ ختم ہو سکے۔
گزشتہ برس ایشیائی ممالک سے بہت بھاری تعداد میں تارکین وطن نے آسٹریلیا' ملائشیا' انڈونیشیاء تھائی لینڈ اور سنگاپور کی طرف ہجرت کی کوشش کی ۔ جزائر بالی میں ہونے والی اس کانفرنس میں آسٹریلیا کی وزیر خارجہ جولی بشپ نے اپنی انڈونیشیائی ہم منصب رتنو مارسوڈی کے ہمراہ شرکت کی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ غیر قانونی نقل وطن کے مسئلہ پر قابو پانے کے لیے ٹھوس بنیادوں پر کارروائی کی جانی چاہیے۔
کانفرنس میں بتایا گیا کہ تھائی لینڈ کے حکام غیرقانونی طور پر وہاں پہنچنے والے تارکین وطن کو روکنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کوشش کر رہے ہیں۔ تھائی لینڈ میں انسانی اسمگلنگ میں ملوث عناصر کی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ نظر آتا ہے جہاں مختلف ایشیائی علاقوں سے تارکین وطن سامان بردار بحری جہازوں کے ذریعے پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان میں بنگلہ دیشی اور برمی مسلمانوں کی اکثریت ہے۔
دنیا میں پناہ گزینوں کا معاملہ دن بدن شدت اختیار کرتا جا رہا ہے جس کی بڑی وجہ ان ملکوں کے داخلی حالات ہیں جہاں سے لوگ ہجرت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ دو بڑی وجوہات میں ایک بیروز گاری ہے جب کہ دوسری اس سے بھی زیادہ بڑی وجہ جان بچانے کی کوشش ہوتی ہے جان کے خطرے کا شکار ایک طرف روہنگیا مسلمان اور دوسری طرف ہولناک خانہ جنگی کا شکار شامی باشندے ہیں جو اپنے ملک سے جان بچا کر نکلتے ہیں تو یورپ جانے کی کوشش میں بحیرہ روم کی طلاطم خیز موجوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔ حکومت پاکستان کو بھی غیرقانونی طور پر بیرون ملک بھجوانے والوں کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے تاکہ انسانی اسمگلنگ کا دھندہ ختم ہو سکے۔