پاکستان کی شکست جاوید میانداد کا تحقیقاتی کمیٹی کے روبرو پیش ہونے سے انکار
کمیٹیاں بنانے کا مقصد عوام کو بے وقوف بنانا ہوتا ہے، جاوید میانداد
کمیٹیاں بنانے کا مقصد عوام کو بے وقوف بنانا ہوتا ہے، جاوید میانداد۔ فوٹو: فائل
KARACHI:
سابق ٹیسٹ کپتان جاوید میاں داد نے پاکستان کرکٹ ٹیم کی شکست کی وجوہات جاننے کیلیے بنائی جانے والی پی سی بی کی خصوصی تحقیقاتی کمیٹی کے روبرو پیش ہونے سے انکارکردیا۔
پی سی بی کو شدید تنقید کا نشانہ بنانے والے سابق ڈی جی نے موقف اختیارکیا ہے کہ ایسی کمیٹیوں کا کوئی فائدہ نھیں، کمیٹیاں بنانے کا مقصد عوام کو بے وقوف بنانا ہوتا ہے، ایشیا کپ اور آئی سی سی عالمی کپ ٹی ٹوئنٹی کرکٹ ٹورنامنٹ میں قومی کرکٹ ٹیم کی شکستوں کے اسباب جاننے کے لیے بنائی جانے والی کمیٹی کا مقصد بھی شائقین کھیل کو بے وقوف بنانا ہے، جاوید میاں داد نے بورڈ کی جانب سے دفتر کے سیکریٹری کی وساطت سے ٹیلی فون کرکے کمیٹی کے سامنے طلب کرنے پرخفگی کا اظہارکیا۔
انھوں نے کہا کہ مجھے اپنے خیالات کمیٹی کو پیش کرنے کی ضرورت نہیں، دنیا میرے خیالات جانتی ہے، دوسری جانب بورڈ کے سربراہ شہریارخان نے مذکورہ کمیٹی کو جلد ذمے داری پوری کرنے کی ہدایت کی ہے، شہر یارخان کا کہنا ہے کہ دونوں ایونٹس میں پاکستان کی ناکامیوں کا جائزہ لینے کے لیے قائم کی جانے والی کمیٹی اپنا کام کر رہی ہے جو اگلے ہفتے تک مکمل ہونے کی توقع ہے، جب تک کمیٹی اپنا کام پورا نہیں کرلیتی، اس وقت تک نہ توکوئی تبصرہ کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی اس ضمن میںکوئی ایکشن ممکن ہے۔
سابق ٹیسٹ کپتان جاوید میاں داد نے پاکستان کرکٹ ٹیم کی شکست کی وجوہات جاننے کیلیے بنائی جانے والی پی سی بی کی خصوصی تحقیقاتی کمیٹی کے روبرو پیش ہونے سے انکارکردیا۔
پی سی بی کو شدید تنقید کا نشانہ بنانے والے سابق ڈی جی نے موقف اختیارکیا ہے کہ ایسی کمیٹیوں کا کوئی فائدہ نھیں، کمیٹیاں بنانے کا مقصد عوام کو بے وقوف بنانا ہوتا ہے، ایشیا کپ اور آئی سی سی عالمی کپ ٹی ٹوئنٹی کرکٹ ٹورنامنٹ میں قومی کرکٹ ٹیم کی شکستوں کے اسباب جاننے کے لیے بنائی جانے والی کمیٹی کا مقصد بھی شائقین کھیل کو بے وقوف بنانا ہے، جاوید میاں داد نے بورڈ کی جانب سے دفتر کے سیکریٹری کی وساطت سے ٹیلی فون کرکے کمیٹی کے سامنے طلب کرنے پرخفگی کا اظہارکیا۔
انھوں نے کہا کہ مجھے اپنے خیالات کمیٹی کو پیش کرنے کی ضرورت نہیں، دنیا میرے خیالات جانتی ہے، دوسری جانب بورڈ کے سربراہ شہریارخان نے مذکورہ کمیٹی کو جلد ذمے داری پوری کرنے کی ہدایت کی ہے، شہر یارخان کا کہنا ہے کہ دونوں ایونٹس میں پاکستان کی ناکامیوں کا جائزہ لینے کے لیے قائم کی جانے والی کمیٹی اپنا کام کر رہی ہے جو اگلے ہفتے تک مکمل ہونے کی توقع ہے، جب تک کمیٹی اپنا کام پورا نہیں کرلیتی، اس وقت تک نہ توکوئی تبصرہ کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی اس ضمن میںکوئی ایکشن ممکن ہے۔