توہین رسالت قانون میں ترمیم برداشت نہیں اتحاد امت کانفرنس
عالمی قوتیں مسلمانوں کے وسائل پرقابض ہیں،افغانستان سے اتحادی افواج نکل جائیں،تنازعات مذاکرات سے حل کیے جائیں
اسلام آباد: اتحاد امت کانفرنس میں مولانا فضل الرحمن، قاضی حسین احمد، سید منور حسن ، حافظ سعید احمد اور دیگر حضرات اسٹیج پر بیٹھے ہیں۔ فوٹو : ایکسپریس
عالمی اتحاد امت کانفرنس نے واضح کیا ہے کہ ملک میںمذہب کے نام پر دہشتگردی اور قتل وغارت خلاف اسلام ہے۔
امت مسلمہ کو درپیش چیلنجزسے نمٹنے کیلیے مشترکہ کوششیں کی جائیں، توہین رسالت کے قانون میں ترمیم برداشت نہیں کی جائے گی۔ کنونشن سینٹر اسلام آباد میں ہونیوالی کانفرنس کااہتمام ملی یکجہتی کونسل نے کیا تھا، کانفرنس کے اختتام پر ملکی یکجہتی کونسل کے سربراہ قاضی حسین احمدنے مشترکہ اعلامیہ جاری کیاجسے کونسل کے سیکریٹری جنرل حافظ حسین احمد نے پڑھ کرسنایا،اعلامیہ میںکہاگیاہے کہ امت مسلمہ کی اصلی شناخت اسلام ہے اور یہی ہماری وحدت کی بنیاداوردنیااورآخرت میں ہماری کامیابی کی ضامن ہے ، دشمنان اسلام کی ریشہ دوانیوں کا مقابلہ کرنا اور امت مسلمہ میں اتحاد وقت کی ضرورت ہے۔
اختلافات اور بگاڑ کو دور کرنے کیلئے ضروری ہے کہ تمام مکاتب فکر نظم مملکت اور نفاذ شریعت کیلئے ایک بنیاد پر متفق ہوں۔ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ نبی اکرمؐ کی عظمت و حرمت ہمارے ایمان کی بنیاد ہے اور آپ کی توہین کا مرتکب فرد شرعاً اور قانوناً موت کی سزا کا مستحق ہے، توہین رسالت کے ملکی قانون میں ہر ترمیم کی مخالفت کریں گے، اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ ملک میں مذہب کے نام پر دہشتگردی اور قتل و غارت گری اسلام کیخلاف اور قابل مذمت ہے، عالم اسلام میں انتشار اور جنگ وجدل کو مذاکرات اور ثالثی کے ذریعے حل کیا جائے۔
مسلم ممالک کی سیاسی و دینی قیادت اور او آئی سی اس ضمن میں متحرک کردار اداکرے، اقوام عالم میں اُمت مسلمہ کے جذبات اور احساسات کی ترجمانی مؤثر انداز میں کی جائے، امن عالم کے قیام اور ضروری ترجیحی بنیادوں پر فلسطین ،افغانستان، کشمیر اور برما کے مسلمانوں کی مبنی برحق جدوجہدکی تائید اور مدد کی جائے، افغانستان سے امریکی اور نیٹو افواج کا جلد از جلد انخلا عالمی امن کیلئے ضروری ہے، عالم اسلام میں جہاں بھی بیرونی افواج کا عمل دخل ہے اُسے ختم کیا جائے،عالمی قوتیں مسلمانوں کے وسائل پر قابض ہیں ، حالات کی خرابی میں غیروں کیساتھ اپنے بھی شامل ہیں۔ کانفرنس سے افتتاحی خطاب میں قاضی حسین احمد نے کہا کہ امت کی وحدت سب کی آرزو اور تمنا ہے ، اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات پر عمل درآمد کیلئے جلد تحریک چلائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ کالج و یونیورسٹیوں میں مغربی یلغار کو روکنے کیلئے اگے بڑھنا ہوگا، متحدہ مجلس عمل کی بحالی خوش آئند امر ہے، تمام جماعتیں اختلافات بھلا کر امت مسلمہ کے مفادات کیلئے اکٹھی ہوجائیں۔ افغانستان کے سابق وزیر اعظم احمد شاہ زئی نے کہا کہ امت اسلامیہ ایک ہے، اسلامی دنیا کو متحد ہونے کی ضرورت ہے، ڈرون طیاروں میں بے گناہ لوگ مارے جارہے ہیں۔ ترکی کی اپوزیشن جماعت سعادت پارٹی کے سربراہ اوغوز ھان نے افغانستان میں نیٹو افواج کی موجودگی کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی ممالک کو متحد کرنے کیلئے ایک امیر کو چنا جائے، 60 اسلامی ممالک متحد ہوکر سپر پاور بن سکتے ہیں۔ بین المذاہب الاسلامیہ کے سربراہ آیت اﷲ اراکی نے کہا کہ عالم اسلام کو قیادت کے حوالے سے مسئلہ در پیش نہیں ہے، ہم مشترکہ ایجنڈے پر اتحاد کر سکتے ہیں۔
اصل ذمہ داری امہ کو مشکلات سے نکالنا ہے۔ جے یوآئی کے امیر مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہم اسلحہ کے زور پر شریعت کے حامی نہیں ، جمہوریت و پارلیمان کے دعویداروں نے بھی عوام کی خواہشات کا احترام نہیں کیا اور انہیں نظام شریعت محمدی سے دور رکھا، اشتعال انگیزی بڑھانے میں جمہوریت کے دعویدار بھی برابر کے ذمہ دار ہیں ، نوجوان مادر پدر آزادی نہیں نظام کی تبدیلی چاہتے ہیں ، اسلحہ کے زور پر اسلام کا نفاذ کرنیوالے مجرم ہیں تو مادر پدر آزادی کا نعرہ لگانے والے بھی اسی جرم کے مرتکب ہیں، افغانستان میں لڑی جانیوالی جنگ پاکستان آچکی ہے ۔
اس جنگ کو لانے والا ایک ڈکٹیٹر تھا۔ انہوں نے کہا کہ ماضی سے سبق سیکھنا ہوگا اور امت مسلمہ کی وحدت کیلئے ایک نکتہ پر اکٹھا ہونا ضروری ہے ،انہوںنے کہاکہ کچھ لوگوں سے معذرت کیساتھ کہنا چاہتاہوں کہ اب الیکشن سے بائیکاٹ کی گنجائش نہیں بلکہ الیکشن میں جاکر ان لوگوں سے مقابلہ کی ضرورت ہے ، متحدہ مجلس عمل کی بحالی کیلئے چوں چنانچہ کی باتیں کی جارہی ہیں مگر ملی یکجہتی کونسل کی فعالیت کے وقت یہ باتیں کیوں نہیں کی گئیں اس بارے میں فیصلہ قاضی حسین احمد اور سید منور حسن پر چھوڑتاہوں۔
جماعت اسلامی کے امیر سید منورحسن نے کہا کہ اگر قوم متحد ہوجائے تو حکمران بھی اپنا قبلہ درست کرنے پر مجبور ہوجائیں گے۔ حافظ سعید نے کہا کہ اب دشمن کیخلاف اٹھ کھڑے ہونیکا وقت آگیا ، صرف قراردادوں سے مسئلہ حل نہیں ہوگا، چیئرمین رویت ہلال کمیٹی مفتی منیب الرحمن نے کہا کہ ڈرون حملوں کیخلاف پارلیمنٹ کی جانب سے پاس کی گئی قراردادوں پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے۔ کانفرنس سے ڈاکٹر ابوالخیر زبیر، علامہ ساجد نقوی ، مولانا سلیم اللہ، مفتی رفیع عثمانی، پروفیسر خورشید، ڈاکٹر خالد سومرو اور دیگر رہنمائوں نے بھی خطاب کیا۔ ثناء نیوز کے مطابق کانفرنس سے تیسری جماعت کی طالبہ آسیہ عارف نے عربی میں تقریر کرکے شرکاء کو حیران کردیا ، کمسن طالبہ نے مسلمانوں سے اپنی قوت کو یکجا کرنیکا مطالبہ کیا۔ کانفرنس کے موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے، شرکاء کو خصوصی پاس جاری کئے گئے تھے۔
امت مسلمہ کو درپیش چیلنجزسے نمٹنے کیلیے مشترکہ کوششیں کی جائیں، توہین رسالت کے قانون میں ترمیم برداشت نہیں کی جائے گی۔ کنونشن سینٹر اسلام آباد میں ہونیوالی کانفرنس کااہتمام ملی یکجہتی کونسل نے کیا تھا، کانفرنس کے اختتام پر ملکی یکجہتی کونسل کے سربراہ قاضی حسین احمدنے مشترکہ اعلامیہ جاری کیاجسے کونسل کے سیکریٹری جنرل حافظ حسین احمد نے پڑھ کرسنایا،اعلامیہ میںکہاگیاہے کہ امت مسلمہ کی اصلی شناخت اسلام ہے اور یہی ہماری وحدت کی بنیاداوردنیااورآخرت میں ہماری کامیابی کی ضامن ہے ، دشمنان اسلام کی ریشہ دوانیوں کا مقابلہ کرنا اور امت مسلمہ میں اتحاد وقت کی ضرورت ہے۔
اختلافات اور بگاڑ کو دور کرنے کیلئے ضروری ہے کہ تمام مکاتب فکر نظم مملکت اور نفاذ شریعت کیلئے ایک بنیاد پر متفق ہوں۔ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ نبی اکرمؐ کی عظمت و حرمت ہمارے ایمان کی بنیاد ہے اور آپ کی توہین کا مرتکب فرد شرعاً اور قانوناً موت کی سزا کا مستحق ہے، توہین رسالت کے ملکی قانون میں ہر ترمیم کی مخالفت کریں گے، اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ ملک میں مذہب کے نام پر دہشتگردی اور قتل و غارت گری اسلام کیخلاف اور قابل مذمت ہے، عالم اسلام میں انتشار اور جنگ وجدل کو مذاکرات اور ثالثی کے ذریعے حل کیا جائے۔
مسلم ممالک کی سیاسی و دینی قیادت اور او آئی سی اس ضمن میں متحرک کردار اداکرے، اقوام عالم میں اُمت مسلمہ کے جذبات اور احساسات کی ترجمانی مؤثر انداز میں کی جائے، امن عالم کے قیام اور ضروری ترجیحی بنیادوں پر فلسطین ،افغانستان، کشمیر اور برما کے مسلمانوں کی مبنی برحق جدوجہدکی تائید اور مدد کی جائے، افغانستان سے امریکی اور نیٹو افواج کا جلد از جلد انخلا عالمی امن کیلئے ضروری ہے، عالم اسلام میں جہاں بھی بیرونی افواج کا عمل دخل ہے اُسے ختم کیا جائے،عالمی قوتیں مسلمانوں کے وسائل پر قابض ہیں ، حالات کی خرابی میں غیروں کیساتھ اپنے بھی شامل ہیں۔ کانفرنس سے افتتاحی خطاب میں قاضی حسین احمد نے کہا کہ امت کی وحدت سب کی آرزو اور تمنا ہے ، اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات پر عمل درآمد کیلئے جلد تحریک چلائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ کالج و یونیورسٹیوں میں مغربی یلغار کو روکنے کیلئے اگے بڑھنا ہوگا، متحدہ مجلس عمل کی بحالی خوش آئند امر ہے، تمام جماعتیں اختلافات بھلا کر امت مسلمہ کے مفادات کیلئے اکٹھی ہوجائیں۔ افغانستان کے سابق وزیر اعظم احمد شاہ زئی نے کہا کہ امت اسلامیہ ایک ہے، اسلامی دنیا کو متحد ہونے کی ضرورت ہے، ڈرون طیاروں میں بے گناہ لوگ مارے جارہے ہیں۔ ترکی کی اپوزیشن جماعت سعادت پارٹی کے سربراہ اوغوز ھان نے افغانستان میں نیٹو افواج کی موجودگی کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی ممالک کو متحد کرنے کیلئے ایک امیر کو چنا جائے، 60 اسلامی ممالک متحد ہوکر سپر پاور بن سکتے ہیں۔ بین المذاہب الاسلامیہ کے سربراہ آیت اﷲ اراکی نے کہا کہ عالم اسلام کو قیادت کے حوالے سے مسئلہ در پیش نہیں ہے، ہم مشترکہ ایجنڈے پر اتحاد کر سکتے ہیں۔
اصل ذمہ داری امہ کو مشکلات سے نکالنا ہے۔ جے یوآئی کے امیر مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہم اسلحہ کے زور پر شریعت کے حامی نہیں ، جمہوریت و پارلیمان کے دعویداروں نے بھی عوام کی خواہشات کا احترام نہیں کیا اور انہیں نظام شریعت محمدی سے دور رکھا، اشتعال انگیزی بڑھانے میں جمہوریت کے دعویدار بھی برابر کے ذمہ دار ہیں ، نوجوان مادر پدر آزادی نہیں نظام کی تبدیلی چاہتے ہیں ، اسلحہ کے زور پر اسلام کا نفاذ کرنیوالے مجرم ہیں تو مادر پدر آزادی کا نعرہ لگانے والے بھی اسی جرم کے مرتکب ہیں، افغانستان میں لڑی جانیوالی جنگ پاکستان آچکی ہے ۔
اس جنگ کو لانے والا ایک ڈکٹیٹر تھا۔ انہوں نے کہا کہ ماضی سے سبق سیکھنا ہوگا اور امت مسلمہ کی وحدت کیلئے ایک نکتہ پر اکٹھا ہونا ضروری ہے ،انہوںنے کہاکہ کچھ لوگوں سے معذرت کیساتھ کہنا چاہتاہوں کہ اب الیکشن سے بائیکاٹ کی گنجائش نہیں بلکہ الیکشن میں جاکر ان لوگوں سے مقابلہ کی ضرورت ہے ، متحدہ مجلس عمل کی بحالی کیلئے چوں چنانچہ کی باتیں کی جارہی ہیں مگر ملی یکجہتی کونسل کی فعالیت کے وقت یہ باتیں کیوں نہیں کی گئیں اس بارے میں فیصلہ قاضی حسین احمد اور سید منور حسن پر چھوڑتاہوں۔
جماعت اسلامی کے امیر سید منورحسن نے کہا کہ اگر قوم متحد ہوجائے تو حکمران بھی اپنا قبلہ درست کرنے پر مجبور ہوجائیں گے۔ حافظ سعید نے کہا کہ اب دشمن کیخلاف اٹھ کھڑے ہونیکا وقت آگیا ، صرف قراردادوں سے مسئلہ حل نہیں ہوگا، چیئرمین رویت ہلال کمیٹی مفتی منیب الرحمن نے کہا کہ ڈرون حملوں کیخلاف پارلیمنٹ کی جانب سے پاس کی گئی قراردادوں پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے۔ کانفرنس سے ڈاکٹر ابوالخیر زبیر، علامہ ساجد نقوی ، مولانا سلیم اللہ، مفتی رفیع عثمانی، پروفیسر خورشید، ڈاکٹر خالد سومرو اور دیگر رہنمائوں نے بھی خطاب کیا۔ ثناء نیوز کے مطابق کانفرنس سے تیسری جماعت کی طالبہ آسیہ عارف نے عربی میں تقریر کرکے شرکاء کو حیران کردیا ، کمسن طالبہ نے مسلمانوں سے اپنی قوت کو یکجا کرنیکا مطالبہ کیا۔ کانفرنس کے موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے، شرکاء کو خصوصی پاس جاری کئے گئے تھے۔