دہرہ شہریت ووٹر لسٹیں ضابطہ اخلاق الیکشن کمیشن کا اہم اجلاس آج ہوگا
نادرا، پرنٹنگ کارپوریشن ومتعلقہ ادارے بریفنگ دینگے، چیف الیکشن کمشنر حتمی فیصلہ کرینگے
پولنگ اسٹیشنز،بیلٹ پیپرز،عملے کی تربیت،صوبائی الیکشن کمشنرزکی رپورٹس پر بھی غور ہو گا،ایڈیشنل سیکریٹری افضل خان کی گفتگو
الیکشن کمیشن کے ترجمان افضل خان نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن کے دو روزہ اعلیٰ سطحی اجلاس میں دہری شہریت کے حوالے سے حلف نامے جمع کرانے والوں کی تفصیلات سے آگاہ کیاجائے گا۔
جس کے بعد چیف الیکشن کمشنر فخرالدین جی ابراہیم اپنی صوابدید کے مطابق فیصلہ کریں گے۔ اتوار کو آئی این پی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے افضل خان نے کہا کہ اراکین پارلیمنٹ کو دہری شہریت کے حوالے سے لکھے گئے خط میںواضح کیا گیا تھا کہ اراکین اسکی وصولی کے30 دن کے اندر حلف نامے جمع کروا دیں۔ اس لحاظ سے9نومبر سے تین' چار دن اضافی بن جاتے ہیں ۔ خط میں یہ بھی درج تھا کہ حلف نامہ جمع نہ کرانے پر یہ سمجھاجائے گا کہ اس رکن کے پاس دہری شہریت ہے۔ انھوں نے کہا کہ7نومبر تک228 اراکین نے حلف نامے جمع نہیں کرائے تھے۔اس کے بعددو دن میں کتنے لوگوں نے حلف نامے جمع کروائیاس کا اندازہ پیر کو ہو گا۔ پیر اور منگل دونوں دن الیکشن کمیشن کا اجلاس کا ہو گا۔الیکشن کمیشن منگل کو اجلاس میں رپورٹ دے گا کہ کتنے لوگوں نے حلف نامے جمع کروائے ہیں۔
جس کے بعد چیف الیکشن کمشنر حتمی فیصلہ کریں گے۔اس دو روزہ اہم اجلاس میں انتخابی فہرستوں کی تیاری، مستقل پولنگ اسٹیشنزکے قیام، انتخابی عملے کی تربیت، ضابطۂ اخلاق کے نفاذ اور بیلٹ پیپرزکی چھپائی سمیت دیگر تمام امور پر بھی غور ہوگا۔بتایا گیا ہے کہاس اعلیٰ سطحی اجلاس میںنادرا، پرنٹنگ کارپوریشن اور متعلقہ ادارے انتخابی تیاریوں پر بریفنگ دیں گے جبکہ صوبائی الیکشن کمشنرز اپنے صوبوں میں لا اینڈ آرڈر کی مشکلات، انتخابی بجٹ اور پولنگ اسٹیشنز کے حوالے سے رپورٹس پیش کریں گے۔دریں اثناالیکشن کمیشن نے آئندہ عام انتخابات میں زیادہ سے زیادہ ٹرن آؤٹ کے لیے فوج سمیت تمام سرکاری اداروں کے سربراہان سے رابطہ کیا ہے۔نجی ٹی وی نے افضل خان کے حوالے سے بتایا کہ چیئرمین جوائنٹ چیف آف اسٹاف کمیٹی جنرل خالد شمیم وائیں کے نام خط میں درخواست کی گئی ہے کہ آئندہ انتخابات میں ووٹنگ کے عمل میں تمام حاضر سروس اور ریٹائرڈ فوجی افسران اور جوانوں کی شرکت یقینی بنائی جائے۔چاروں صوبوں کے چیف سیکریٹریز، انسپکٹر جنرلز پولیس سمیت تمام سرکاری اداروں کے سربراہان کو بھی خطوط لکھے گئے ہیں۔ خطوط میں اپیل کی گئی ہے کہ تمام سرکاری ملازمین ووٹنگ کے عمل میں اپنی شرکت یقینی بنائیں۔
جس کے بعد چیف الیکشن کمشنر فخرالدین جی ابراہیم اپنی صوابدید کے مطابق فیصلہ کریں گے۔ اتوار کو آئی این پی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے افضل خان نے کہا کہ اراکین پارلیمنٹ کو دہری شہریت کے حوالے سے لکھے گئے خط میںواضح کیا گیا تھا کہ اراکین اسکی وصولی کے30 دن کے اندر حلف نامے جمع کروا دیں۔ اس لحاظ سے9نومبر سے تین' چار دن اضافی بن جاتے ہیں ۔ خط میں یہ بھی درج تھا کہ حلف نامہ جمع نہ کرانے پر یہ سمجھاجائے گا کہ اس رکن کے پاس دہری شہریت ہے۔ انھوں نے کہا کہ7نومبر تک228 اراکین نے حلف نامے جمع نہیں کرائے تھے۔اس کے بعددو دن میں کتنے لوگوں نے حلف نامے جمع کروائیاس کا اندازہ پیر کو ہو گا۔ پیر اور منگل دونوں دن الیکشن کمیشن کا اجلاس کا ہو گا۔الیکشن کمیشن منگل کو اجلاس میں رپورٹ دے گا کہ کتنے لوگوں نے حلف نامے جمع کروائے ہیں۔
جس کے بعد چیف الیکشن کمشنر حتمی فیصلہ کریں گے۔اس دو روزہ اہم اجلاس میں انتخابی فہرستوں کی تیاری، مستقل پولنگ اسٹیشنزکے قیام، انتخابی عملے کی تربیت، ضابطۂ اخلاق کے نفاذ اور بیلٹ پیپرزکی چھپائی سمیت دیگر تمام امور پر بھی غور ہوگا۔بتایا گیا ہے کہاس اعلیٰ سطحی اجلاس میںنادرا، پرنٹنگ کارپوریشن اور متعلقہ ادارے انتخابی تیاریوں پر بریفنگ دیں گے جبکہ صوبائی الیکشن کمشنرز اپنے صوبوں میں لا اینڈ آرڈر کی مشکلات، انتخابی بجٹ اور پولنگ اسٹیشنز کے حوالے سے رپورٹس پیش کریں گے۔دریں اثناالیکشن کمیشن نے آئندہ عام انتخابات میں زیادہ سے زیادہ ٹرن آؤٹ کے لیے فوج سمیت تمام سرکاری اداروں کے سربراہان سے رابطہ کیا ہے۔نجی ٹی وی نے افضل خان کے حوالے سے بتایا کہ چیئرمین جوائنٹ چیف آف اسٹاف کمیٹی جنرل خالد شمیم وائیں کے نام خط میں درخواست کی گئی ہے کہ آئندہ انتخابات میں ووٹنگ کے عمل میں تمام حاضر سروس اور ریٹائرڈ فوجی افسران اور جوانوں کی شرکت یقینی بنائی جائے۔چاروں صوبوں کے چیف سیکریٹریز، انسپکٹر جنرلز پولیس سمیت تمام سرکاری اداروں کے سربراہان کو بھی خطوط لکھے گئے ہیں۔ خطوط میں اپیل کی گئی ہے کہ تمام سرکاری ملازمین ووٹنگ کے عمل میں اپنی شرکت یقینی بنائیں۔