غیر ملکی میڈیا سے گفتگو حرام ہے سعودی مفتی اعظم
یہ مسلم سرزمین پر انتشار پھیلانا چاہتا ہے، عوام اپنی شکایات پر حکام کو براہ راست لکھیں، فتویٰ
یہ مسلم سرزمین پر انتشار پھیلانا چاہتا ہے، عوام اپنی شکایات پر حکام کو براہ راست لکھیں، فتویٰ. فائل فوٹو
سعودی عرب کے مفتی اعظم شیخ عبدالعزیز آل شیخ نے فتویٰ جاری کیا ہے کہ مسلم سرزمین پر انتشار اور افراتفری پھیلانے کے خواہاں غیر ملکی میڈیا سے گفتگو، رابطے اور تعاون حرام اور غداری کے زمرے میں آتا ہے۔
انھوں نے لوگوں پر زوردیا کہ وہ غیر ملکی میڈیا سے رجوع کرنے کے بجائے اپنے تحفظات کے ازالے کے لیے متعلقہ حکام کو براہ راست لکھیں۔ عرب ٹی وی کے مطابق شیخ عبدالعزیز آل شیخ نے کہا کہ لوگوں کو ملکی رازوں اور معلومات کے افشا کیلئے غیر ملکی میڈیا سے رابطے نہیں کرنے چاہئیں کیونکہ انکا مقصد لوگوں کو تقسیم کرنا اور قوم کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنا ہے۔
مفتی اعظم نے ملک کی سلامتی کے لیے خطرے کا موجب بننے والوں کو پناہ دینے پر بھی انتباہ کیا اور کہا کہ ایسا کرنے والوں کے اقدام کو دشمن کی معاونت سمجھا جائے گا۔ ایک صاحب ایمان کو اپنی قوم اور دین کے تحفظ کیلئے تعاون کرنا چاہیے۔ سرکاری اداروں میں کام کرنے والے اپنے پیشے سے متعلق رازوں کا تحفظ کریں۔
انھوں نے لوگوں پر زوردیا کہ وہ غیر ملکی میڈیا سے رجوع کرنے کے بجائے اپنے تحفظات کے ازالے کے لیے متعلقہ حکام کو براہ راست لکھیں۔ عرب ٹی وی کے مطابق شیخ عبدالعزیز آل شیخ نے کہا کہ لوگوں کو ملکی رازوں اور معلومات کے افشا کیلئے غیر ملکی میڈیا سے رابطے نہیں کرنے چاہئیں کیونکہ انکا مقصد لوگوں کو تقسیم کرنا اور قوم کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنا ہے۔
مفتی اعظم نے ملک کی سلامتی کے لیے خطرے کا موجب بننے والوں کو پناہ دینے پر بھی انتباہ کیا اور کہا کہ ایسا کرنے والوں کے اقدام کو دشمن کی معاونت سمجھا جائے گا۔ ایک صاحب ایمان کو اپنی قوم اور دین کے تحفظ کیلئے تعاون کرنا چاہیے۔ سرکاری اداروں میں کام کرنے والے اپنے پیشے سے متعلق رازوں کا تحفظ کریں۔