دواؤں کی مصنوعی قلت کیوں
دواؤں کی چوری عام شکایت ہے جب کہ علاج اتنا مہنگا ہے کہ غریب آدمی اپنا علاج بھی نہیں کرسکتا
صحت کا شعبہ وفاقی و صوبائی حکومتوں کی اولین توجہ کا مستحق ہے۔ فوٹو: فائل
یہ ایک افسوس ناک حقیقت ہے کہ عوام کو صحت کی جملہ سہولتوں کے حوالے سے وطن عزیز ان ترقی یافتہ ممالک کے ہم قدم نہیں ہے جہاں ہر حکومت شہریوں کو دواؤں کی فراہمی سمیت حفظان صحت اور علاج معالجے کی تمام بنیادی سہولتوں پر بھرپور توجہ دیتی ہے اور اسے اولین فرض سمجھتی ہے مگر ہمارے سرکاری اسپتالوں کی حالت اور نظام صحت اتنی دہائیوں بعد بھی دگرگوں ہے۔
دواؤں کی چوری عام شکایت ہے جب کہ علاج اتنا مہنگا ہے کہ غریب آدمی اپنا علاج بھی نہیں کرسکتا ، کرپشن اور ہوس زر کے باعث دواؤں کی قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہیں، گزشتہ روز جان بچانے والی ادویات کی قلت کے حوالے سے صحت کی وزیر مملکت سائرہ افضل تارڑ کی ہدایت پر تشکیل دی گئی کمیٹی نے رپورٹ مرتب کر لی ہے جس میں کینسر، شوگر، دمہ، جلدی امراض اور بچوں کے سیرپ بنانے والی کمپنیوں کے نمایندوں سمیت ڈریپ کے حکام نے شرکت کی جس میں فارما کمپنیوں نے کمیٹی کو اس بات کی یقین دہانی کرائی کہ اس وقت ملک میں کسی قسم کی ادویات کی قلت نہیں ہے، جب کہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔
واضح رہے حالیہ دنوں میں بعض کمپنیوں نے ادویات کی قیمتوں میں ا ضافے کے لیے ازخود ادویات کی منصوعی قلت پیدا کی تھی جس کا قومی اسمبلی کے ارکان نے نوٹس لیا تھا۔ تاہم صرف نوٹس لینا مسئلہ کا حل نہیں دواؤں کی مصنوعی قلت پیدا کرنا یا جان بچانے والی دواؤں مارکیٹ سے غائب کر کے ان کے دام بڑھانے کی ہر ممکن روک تھام اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔ صحت کا شعبہ وفاقی و صوبائی حکومتوں کی اولین توجہ کا مستحق ہے۔
دواؤں کی چوری عام شکایت ہے جب کہ علاج اتنا مہنگا ہے کہ غریب آدمی اپنا علاج بھی نہیں کرسکتا ، کرپشن اور ہوس زر کے باعث دواؤں کی قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہیں، گزشتہ روز جان بچانے والی ادویات کی قلت کے حوالے سے صحت کی وزیر مملکت سائرہ افضل تارڑ کی ہدایت پر تشکیل دی گئی کمیٹی نے رپورٹ مرتب کر لی ہے جس میں کینسر، شوگر، دمہ، جلدی امراض اور بچوں کے سیرپ بنانے والی کمپنیوں کے نمایندوں سمیت ڈریپ کے حکام نے شرکت کی جس میں فارما کمپنیوں نے کمیٹی کو اس بات کی یقین دہانی کرائی کہ اس وقت ملک میں کسی قسم کی ادویات کی قلت نہیں ہے، جب کہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔
واضح رہے حالیہ دنوں میں بعض کمپنیوں نے ادویات کی قیمتوں میں ا ضافے کے لیے ازخود ادویات کی منصوعی قلت پیدا کی تھی جس کا قومی اسمبلی کے ارکان نے نوٹس لیا تھا۔ تاہم صرف نوٹس لینا مسئلہ کا حل نہیں دواؤں کی مصنوعی قلت پیدا کرنا یا جان بچانے والی دواؤں مارکیٹ سے غائب کر کے ان کے دام بڑھانے کی ہر ممکن روک تھام اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔ صحت کا شعبہ وفاقی و صوبائی حکومتوں کی اولین توجہ کا مستحق ہے۔