دہشت گردی کے خلاف جنگ …چند معروضات
پاکستان میں مفاد پرستی،نظریاتی کنفیوژن اورمصلحت اندیشی نےدہشت گردی اورانتہا پسندی کےمعاملات کوپیچیدہ اورگمبھیربنادیاہے
دہشت گردوں کے خلاف شروع کیے گئے حالیہ آپریشنز کی نگرانی آرمی چیف جنرل راحیل شریف خود کر رہے ہیں، فوٹو : اے ایف پی
FAISALABAD:
سانحہ علامہ اقبال ٹاؤن لاہور کے بعد صورتحال میں معنی خیز پیش رفت سامنے آئی ہے، گزشتہ روز اعلیٰ سطح پر اہم سرگرمیاں ہوئیں۔ اخباری اطلاعات کے مطابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے حکم پر پنجاب میں دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروںکے خلاف فوج اوررینجرز کامشترکہ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے، گزشتہ روز سے جاری آپریشن میں سیکیورٹی فورسز نے لاہور، فیصل آباد، گوجرانوالہ، کامونکی، سیالکوٹ، نارووال، جہلم، بہاولپور، مظفر گڑھ سمیت مختلف شہروں میں کارروائی کرکے350سے زائد مشتبہ دہشت گردوں اورسہولت کاروں کو گرفتار کرلیا ہے۔
چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف نے پیر کو جنرل ہیڈ کوارٹرز میں اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا جس میں سانحہ لاہور کے بعد دہشت گردوں کو گرفتار کرنے کے لیے پنجاب میں آپریشن پر پیشرفت کا جائزہ لیا گیا۔ ڈی جی آئی ایس پی آرلیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ کے مطابق آرمی اور رینجرز کے ہمراہ انٹیلی جنس ایجنسیز نے لاہور، فیصل آباد اور ملتان میں گزشتہ شب 5آپریشنز کیے گئے جس میں متعددمشتبہ دہشت گردوں اور سہولت کاروں کو گرفتار کیا گیا۔ ان آپریشنز کے دوران بڑی مقدار میں اسلحہ و بارود بھی برآمد ہوا۔ ترجمان پاک فوج کے مطابق دہشت گردوں کے خلاف جاری آپریشنز کے دوران نئے شواہد سامنے آئے ہیں جن کی بیناد پر آپریشن آگے بڑھایا جا رہا ہے۔
دہشت گردوں کے خلاف شروع کیے گئے حالیہ آپریشنز کی نگرانی آرمی چیف جنرل راحیل شریف خود کر رہے ہیں۔ منگل کو قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کارروائی کے دوران کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے 5 دہشتگردوں کو مقابلے میں ہلاک کیاہے۔ کارروائی خفیہ اطلاعات ملنے پر کی گئی جس میں دہشت گردوں کی جانب سے بھاری اسلحے کا استعمال کیا گیا ، کارروائی میں پولیس ، رینجرز اور حساس اداروں کی ٹیموں نے حصہ لیا ۔
وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے بھی پنجاب کے سرحدی علاقوں میں دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف کارروائی کی ہدایت کر دی ہے۔ پیر کو ایوان وزیراعلیٰ میں وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی زیر صدارت سلامتی سے متعلق اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا۔ جس میں وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے جنوبی پنجاب کے سندھ اور بلوچستان سے ملحقہ اضلاع میں دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف فوری آپریشن کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ آپریشن میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔
صوبائی حکومت آپریشن کی رپورٹ وزیراعظم ہاؤس کو پیش کرے، اگر وفاق کی مدد کی ضرورت ہوئی تو مکمل تعاون کیا جائے گا۔ بعدازاں پیر کو وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے، پاک سرزمین دہشت گردوں کے لیے تنگ کردی گئی ہے ۔دہشت گردوں کو دوبارہ سر نہیں اٹھانے دیں گے۔ سانحہ لاہور کے زخمیوں کی مسکراہٹیں واپس آنے تک آرام سے نہیں بیٹھوں گا۔ انھوں نے کہا سانحہ لاہور پر ہر پاکستانی غمزدہ ہے، دہشت گردآسان اہداف کو نشانہ بنا رہے ہیں، حکومت سنبھالنے کے بعد ہی دہشت گردی کے خاتمے کا عزم کر لیا تھا۔
پچھلے چند ماہ میں دہشت گردوں نے شبقدر، مردان اور دیگر علاقوں میں کارروائیاں کی ہیں آج وہ سافٹ ٹارگٹس کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ اپنی پناہ گاہوں اور نیٹ ورک کو کھونے کے بعد بچے کھچے عناصر اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے درسگاہوں اور عوامی مقامات تک آن پہنچے ہیں۔ میں آج اس عہد کی تجدیدکے لیے حاضر ہوا ہوں کہ ہم اپنے شہیدوں کے ایک ایک خون کے قطرے کا حساب چکانے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔
دہشت گرد خواہ ملک کے کسی بھی حصے میں ہوں، ان کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے، بدقسمتی سے پاکستان میں مفاد پرستی، نظریاتی کنفیوژن اور مصلحت اندیشی نے دہشت گردی اور انتہا پسندی کے معاملات کو پیچیدہ اور گمبھیر بنا دیا ہے، جو کام دس برس پہلے شروع کیا جانا چاہیے تھا، اسے اب شروع کرنے کے لیے اجلاس بلائے جا رہے ہیں اور فیصلے کیے جا رہے ہیں۔بہر حال اگر ماضی کی غلطیوں اور کوتاہیوں کا ازالہ کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے تو یہ اچھی بات ہے، سانحہ لاہور کے بعد یہ حقیقت واضح ہو گئی ہے کہ دہشت گردوں کا نیٹ ورک فعال ہے۔
ادھر اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں ہے کہ دہشت گرد کا صرف ایک پہلو نہیں ہے بلکہ یہ کثیرالجہتی ہے۔ ملک میں صرف تحریک طالبان پاکستان ہی نہیں بلکہ متعدد تنظیمیں اور گروہ دہشت گردی میں ملوث ہیں، ان کے تنظیمی ڈھانچے، مقاصد اور طریقہ کار بھی الگ الگ ہیں، دہشت گردی کے خلاف لڑائی کو معمولی کام نہیں ہے۔یہ چومکھی لڑائی ہے،دہشت گردوں کے خلاف آپریشن ضرور ہونا چاہیے لیکن ایک آپریشن تعلیمی نصاب کو اپ ڈیٹ کرنے کے لیے بھی ہونا چاہیے۔
ملک میں بعض قوتیں دیدہ دلیری سے نظریات کنفیوژن پھیلانے میں مصروف ہیں، یہ قوتیں چھپی ہوئی نہیں بلکہ آشکار ہیں ،سوال یہ ہے کہ ان کے خلاف کارروائی کون کرے گا اور کب ہو گی ،پاکستان گزشتہ نصف صدی سے زائد عرصے سے اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات کی نوعیت طے نہیں کر سکا۔ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ ایران کے بارے میں بھی تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے اور افغانستان بھی ہمارے دوستوں کی فہرست میں شامل نہیں ہے جب کہ انڈیا کو ازلی دشمن کا نام دیا جاتا ہے۔ بنگلہ دیش کی حکومت کے ساتھ بھی ہمارے تعلقات زیادہ اچھے نہیں ہیں۔
جنوبی ایشیاء کے خطے میں صرف سری لنکا یا نیپال ایسے ملک ہیں جن کے بارے میں یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ ان کے ساتھ ہمارے تعلقات اچھے ہیں یا پھر عوامی جمہوریہ چین کے ساتھ دوستی کا دم بھرا جاتا ہے۔دہشت گردی کے خلاف جنگ جیتنے کے لیے ان خارجہ عوامل کا رخ بھی درست کرنا لازمی ہے۔
اندرون ملک جنرل ضیاء الحق کے دور سے جس نصاب تعلیم کی داغ بیل ڈالی گئی ،اس میں تبدیلیوں کی رفتار بھی انتہائی سست ہے بلکہ سچ تو یہ ہے کہ وہ ایسے کاایسا ہی ہے۔دہشت گردوں کے خلاف جنگ جیتنے کے لیے پورے ملک میں یکساں انداز میں آپریشن یا کارروائیاں ہونی چاہئیں ،اس حوالے سے تمام تر ابہام اور کنفیوژن دور ہونا چاہیے۔
سانحہ علامہ اقبال ٹاؤن لاہور کے بعد صورتحال میں معنی خیز پیش رفت سامنے آئی ہے، گزشتہ روز اعلیٰ سطح پر اہم سرگرمیاں ہوئیں۔ اخباری اطلاعات کے مطابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے حکم پر پنجاب میں دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروںکے خلاف فوج اوررینجرز کامشترکہ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے، گزشتہ روز سے جاری آپریشن میں سیکیورٹی فورسز نے لاہور، فیصل آباد، گوجرانوالہ، کامونکی، سیالکوٹ، نارووال، جہلم، بہاولپور، مظفر گڑھ سمیت مختلف شہروں میں کارروائی کرکے350سے زائد مشتبہ دہشت گردوں اورسہولت کاروں کو گرفتار کرلیا ہے۔
چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف نے پیر کو جنرل ہیڈ کوارٹرز میں اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا جس میں سانحہ لاہور کے بعد دہشت گردوں کو گرفتار کرنے کے لیے پنجاب میں آپریشن پر پیشرفت کا جائزہ لیا گیا۔ ڈی جی آئی ایس پی آرلیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ کے مطابق آرمی اور رینجرز کے ہمراہ انٹیلی جنس ایجنسیز نے لاہور، فیصل آباد اور ملتان میں گزشتہ شب 5آپریشنز کیے گئے جس میں متعددمشتبہ دہشت گردوں اور سہولت کاروں کو گرفتار کیا گیا۔ ان آپریشنز کے دوران بڑی مقدار میں اسلحہ و بارود بھی برآمد ہوا۔ ترجمان پاک فوج کے مطابق دہشت گردوں کے خلاف جاری آپریشنز کے دوران نئے شواہد سامنے آئے ہیں جن کی بیناد پر آپریشن آگے بڑھایا جا رہا ہے۔
دہشت گردوں کے خلاف شروع کیے گئے حالیہ آپریشنز کی نگرانی آرمی چیف جنرل راحیل شریف خود کر رہے ہیں۔ منگل کو قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کارروائی کے دوران کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے 5 دہشتگردوں کو مقابلے میں ہلاک کیاہے۔ کارروائی خفیہ اطلاعات ملنے پر کی گئی جس میں دہشت گردوں کی جانب سے بھاری اسلحے کا استعمال کیا گیا ، کارروائی میں پولیس ، رینجرز اور حساس اداروں کی ٹیموں نے حصہ لیا ۔
وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے بھی پنجاب کے سرحدی علاقوں میں دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف کارروائی کی ہدایت کر دی ہے۔ پیر کو ایوان وزیراعلیٰ میں وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی زیر صدارت سلامتی سے متعلق اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا۔ جس میں وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے جنوبی پنجاب کے سندھ اور بلوچستان سے ملحقہ اضلاع میں دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف فوری آپریشن کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ آپریشن میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔
صوبائی حکومت آپریشن کی رپورٹ وزیراعظم ہاؤس کو پیش کرے، اگر وفاق کی مدد کی ضرورت ہوئی تو مکمل تعاون کیا جائے گا۔ بعدازاں پیر کو وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے، پاک سرزمین دہشت گردوں کے لیے تنگ کردی گئی ہے ۔دہشت گردوں کو دوبارہ سر نہیں اٹھانے دیں گے۔ سانحہ لاہور کے زخمیوں کی مسکراہٹیں واپس آنے تک آرام سے نہیں بیٹھوں گا۔ انھوں نے کہا سانحہ لاہور پر ہر پاکستانی غمزدہ ہے، دہشت گردآسان اہداف کو نشانہ بنا رہے ہیں، حکومت سنبھالنے کے بعد ہی دہشت گردی کے خاتمے کا عزم کر لیا تھا۔
پچھلے چند ماہ میں دہشت گردوں نے شبقدر، مردان اور دیگر علاقوں میں کارروائیاں کی ہیں آج وہ سافٹ ٹارگٹس کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ اپنی پناہ گاہوں اور نیٹ ورک کو کھونے کے بعد بچے کھچے عناصر اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے درسگاہوں اور عوامی مقامات تک آن پہنچے ہیں۔ میں آج اس عہد کی تجدیدکے لیے حاضر ہوا ہوں کہ ہم اپنے شہیدوں کے ایک ایک خون کے قطرے کا حساب چکانے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔
دہشت گرد خواہ ملک کے کسی بھی حصے میں ہوں، ان کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے، بدقسمتی سے پاکستان میں مفاد پرستی، نظریاتی کنفیوژن اور مصلحت اندیشی نے دہشت گردی اور انتہا پسندی کے معاملات کو پیچیدہ اور گمبھیر بنا دیا ہے، جو کام دس برس پہلے شروع کیا جانا چاہیے تھا، اسے اب شروع کرنے کے لیے اجلاس بلائے جا رہے ہیں اور فیصلے کیے جا رہے ہیں۔بہر حال اگر ماضی کی غلطیوں اور کوتاہیوں کا ازالہ کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے تو یہ اچھی بات ہے، سانحہ لاہور کے بعد یہ حقیقت واضح ہو گئی ہے کہ دہشت گردوں کا نیٹ ورک فعال ہے۔
ادھر اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں ہے کہ دہشت گرد کا صرف ایک پہلو نہیں ہے بلکہ یہ کثیرالجہتی ہے۔ ملک میں صرف تحریک طالبان پاکستان ہی نہیں بلکہ متعدد تنظیمیں اور گروہ دہشت گردی میں ملوث ہیں، ان کے تنظیمی ڈھانچے، مقاصد اور طریقہ کار بھی الگ الگ ہیں، دہشت گردی کے خلاف لڑائی کو معمولی کام نہیں ہے۔یہ چومکھی لڑائی ہے،دہشت گردوں کے خلاف آپریشن ضرور ہونا چاہیے لیکن ایک آپریشن تعلیمی نصاب کو اپ ڈیٹ کرنے کے لیے بھی ہونا چاہیے۔
ملک میں بعض قوتیں دیدہ دلیری سے نظریات کنفیوژن پھیلانے میں مصروف ہیں، یہ قوتیں چھپی ہوئی نہیں بلکہ آشکار ہیں ،سوال یہ ہے کہ ان کے خلاف کارروائی کون کرے گا اور کب ہو گی ،پاکستان گزشتہ نصف صدی سے زائد عرصے سے اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات کی نوعیت طے نہیں کر سکا۔ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ ایران کے بارے میں بھی تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے اور افغانستان بھی ہمارے دوستوں کی فہرست میں شامل نہیں ہے جب کہ انڈیا کو ازلی دشمن کا نام دیا جاتا ہے۔ بنگلہ دیش کی حکومت کے ساتھ بھی ہمارے تعلقات زیادہ اچھے نہیں ہیں۔
جنوبی ایشیاء کے خطے میں صرف سری لنکا یا نیپال ایسے ملک ہیں جن کے بارے میں یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ ان کے ساتھ ہمارے تعلقات اچھے ہیں یا پھر عوامی جمہوریہ چین کے ساتھ دوستی کا دم بھرا جاتا ہے۔دہشت گردی کے خلاف جنگ جیتنے کے لیے ان خارجہ عوامل کا رخ بھی درست کرنا لازمی ہے۔
اندرون ملک جنرل ضیاء الحق کے دور سے جس نصاب تعلیم کی داغ بیل ڈالی گئی ،اس میں تبدیلیوں کی رفتار بھی انتہائی سست ہے بلکہ سچ تو یہ ہے کہ وہ ایسے کاایسا ہی ہے۔دہشت گردوں کے خلاف جنگ جیتنے کے لیے پورے ملک میں یکساں انداز میں آپریشن یا کارروائیاں ہونی چاہئیں ،اس حوالے سے تمام تر ابہام اور کنفیوژن دور ہونا چاہیے۔