سمندر کے زمین نگلنے کی رپورٹ

مینگروزسمندری طوفان اور کٹاؤ کے عمل کی شدتوں کو روکنے میں پل کی حیثیت رکھتے ہیں

کچھ عرصہ قبل بلوچستان کے ساحلی علاقوں میں بھی سمندری کٹاؤ کی اطلاع آئی تھی :فوٹو؛ فائل

سندھ و بلوچستان کی زمین کو سمندر نگلتا جا رہا ہے، ان خطرات سے ماہرین اور سمندری تحقیق سے وابستہ اداروں کے مسلسل انتباہات کے بعد اب سینیٹ نے بھی اس مسئلے کی نشاندہی کی ہے جس سے ملکی ساحلوں اور سمندری کٹاؤ سے پیدا شدہ سنگین صورتحال کا تدارک ناگزیر ہے۔


بتایا گیا ہے کہ کراچی سمیت سندھ کے 3اضلاع کوشدید خطرہ ہے جب کہ زور دیا گیا ہے کہ وفاق اس ضمن میں فوری منصوبہ بندی کرے ۔ سینیٹ کی سب کمیٹی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے منصوبہ بندی ، ترقیات اور اصلاحات کے اجلاس میں کمیٹی کے کنوینرسینیٹرکریم خواجہ کا کہنا ہے کہ سمندر کراچی، ٹھٹھہ سمیت سندھ کے تین اضلاع کے لیے خطرہ بن رہا ہے ، کچھ عرصہ قبل بلوچستان کے ساحلی علاقوں میں بھی سمندری کٹاؤ کی اطلاع آئی تھی، وہاں زلزلوں کے جھٹکوں کے بعد سمندری جزائر کے ابھرنے اور پھر غائب ہونے کا خبریں بھی آچکی ہیں۔

اس لیے ماہرین طبقات الارض سمیت اوشنوگرافی کے قومی ادارے اور دیگر ماہرین کی تجاویز کی روشنی میں قابل عمل جیولوجیکل سروے اور سمندر کٹاؤں کی روک تھام کے سائنسی بنیادوں پر ٹھوس اقدامات ہونے چاہئیں۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ مینگروز(تمر کے درخت) کی افزائش پر توجہ دے، مینگروزسمندری طوفان اور کٹاؤ کے عمل کی شدتوں کو روکنے میں پل کی حیثیت رکھتے ہیں، کراچی کے بوٹ بیسن پر موجود مینگروز کا خاتمہ قومی نقصان ہے، اسی طرح دریائے سندھ سے میٹھے پانی کی وافر مقدار سمندر کو ملنی چاہیے تاکہ کٹاؤ کا عمل رک جائے۔
Load Next Story