ارکان اسمبلی فنڈ یا سیاسی رشوت

سابق صدر جنرل پرویز مشرف نے اقتدار سنبھالنے کے بعد ملک میں ضلعی نظام قائم کیا تھا

KARACHI:
روزنامہ ایکسپریس کی ایک خبر کے مطابق حکومت نے ارکان اسمبلی اور سینیٹروں کے مطالبات کو مسترد کرتے ہوئے آیندہ مالی سال کے لیے بھی ایوان بالا اور زیریں کے ممبران کی جانب سے تجویز کردہ ترقیاتی منصوبوں کے لیے فنڈز مختص نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ترقیاتی فنڈز کی بحالی کے لیے کابینہ ڈویژن نے بھی ارکان پارلیمنٹ کی ترقیاتی اسکیموں کے لیے فنڈز مختص کرنے کا مطالبہ مسترد کر دیا ہے۔

ایکسپریس کو دستیاب دستاویزات کے مطابق حکومتی ارکان اسمبلی اور ارکان سینیٹ نے مطالبہ کیا تھا کہ آیندہ سال الیکشن کے لیے بہت اہم ہے، اس لیے ان کے حلقوں میں ترقیاتی کام ان کے ذریعے کرائے جائیں اور ارکان اسمبلی کے فنڈز بحال کیے جائیں۔

اس مطالبے پر کابینہ ڈویژن نے ارکان اسمبلی کے مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس پروگرام کے تحت ارکان اسمبلی کے حلقوں میں ان کی تجاویز کے مطابق پی ایس ڈی پی کے ذریعے ارکان پارلیمنٹ کو رقم فراہم کی جاتی تھی جس کی فراہمی کے خلاف سپریم کورٹ نے بھی فیصلہ دیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ ملک کا دستور پارلیمنٹ کے ارکان اور ممتاز شخصیات کو محض وزیراعظم اور وزرائے اعلیٰ کی ہدایات پر فنڈز کے استعمال کی اجازت نہیں دیتا اور یہ غیر قانونی اور غیر آئینی ہے، اس لیے اب تک پی ایس ڈی پی میں اس مقصد کے لیے فنڈز مختص کیے گئے ہیں اور نہ آیندہ مالی سال میں مختص کیے جائیں گے۔

دوسری طرف پنجاب اسمبلی کے اپوزیشن ارکان نے ارکان کے فنڈز نہ ملنے پر احتجاج کیا ہے اور اسمبلی میں گھیراؤ کی بھی دھمکی دی ہے کہ حکومتی ارکان کو یہ فنڈ دیے جا رہے ہیں اور اپوزیشن ارکان کو نہیں دیے جا رہے۔

سابق صدر جنرل پرویز مشرف نے اقتدار سنبھالنے کے بعد ملک میں ضلعی نظام قائم کیا تھا اور ملک میں اس وقت اسمبلیاں اور سینیٹ موجود نہیں تھے تو حکومت نے 2002ء میں جو عام انتخابات سپریم کورٹ کی ہدایت پر کرائے تھے ان میں منتخب ہونے والے ارکان اسمبلی کے لیے ترقیاتی فنڈز مختص کرنے سے انکار کرتے ہوئے ہر ضلع میں ترقیاتی فنڈز ضلعی حکومتوں کے سپرد کر دیے تھے اور جنرل پرویز مشرف نے واضح کر دیا تھا کہ ارکان اسمبلی کا اصل کام اسمبلیوں میں آ کر قانون سازی کرنا ہے، اپنے حلقوں میں سڑکیں اور نالیاں بنوانا نہیں ہے۔

جنرل پرویز مشرف نے اپنے اس فیصلے پر عمل بھی کرایا تھا اور ترقیاتی کام ارکان اسمبلی کی بجائے منتخب ناظمین کے ذریعے کرانا شروع کیا تھا۔

ملک کے آئین کے تحت ارکان اسمبلی کا کام ملک اور اپنے صوبوں کے لیے قانون بنانا ہے، ترقیاتی کام کرانا بلدیاتی اداروں کا کام ہے اور سپریم کورٹ کا بھی یہی کہنا ہے۔ قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے ارکان کے حلقوں میں تعمیر و ترقیاتی کام کرانے کے لیے بلدیاتی ادارے موجود ہیں، اس لیے ارکان اسمبلی کے کہنے پر ان کے حلقوں میں ترقیاتی کام ان ہی کے کہنے پر کرانے کا کوئی قانونی جواز موجود نہیں ہے۔

مگر ملک کے ارکان اسمبلی اپنے اصل کاموں پر کوئی توجہ نہیں دیتے اور اجلاسوں کے دوران ایوان خالی رہتے ہیں اور وہاں کورم بھی پورا نہیں ہوتا۔ یہی حال سینیٹ کا بھی ہے جہاں اجلاس میں سینیٹروں کی تعداد کم ہوتی ہے۔ ملک کی چاروں صوبائی اسمبلیاں یکساں تعداد میں اپنے صوبوں سے سینیٹرز منتخب کرتی ہیں، جنھیں صوبائی اسمبلی کے ارکان ووٹ دیتے ہیں، جب کہ اسلام آباد سے سینیٹروں کا انتخاب ارکان قومی اسمبلی کرتے ہیں۔

ملک کے دستور کے مطابق سینیٹر کا کوئی مخصوص حلقہ اور صوبہ بھی نہیں ہوتا۔ ملک کا کوئی بھی بااثر سیاسی شخص ملک کی کسی بھی صوبائی اسمبلی کے ذریعے سینیٹر منتخب ہو سکتا ہے۔ موجودہ سینیٹ میں مسلم لیگ (ن) کے تین سینیٹر کراچی سے تعلق رکھتے ہیں مگر انھیں منتخب پنجاب کے ارکان اسمبلی نے کرایا ہے۔


سینیٹر بننے کے لیے امیر لوگ کروڑوں روپے خرچ کر کے ارکان اسمبلی کے ووٹ خریدتے ہیں اور اس موقع پر سیاسی جماعتوں کو اپنے ارکان صوبائی اسمبلی کی غداری کا خدشہ ہوتا ہے کیونکہ بعض ارکان سینیٹ کی خفیہ رائے شماری میں اپنی پارٹی کے امیدوار کو ووٹ نہیں دیتے اور بک جاتے ہیں۔

سینیٹر ایوان بالا کا رکن ہوتا ہے اور جب اس کا اپنا کوئی حلقہ ہی نہیں ہوتا تو سینیٹروں کے لیے ترقیاتی فنڈ کیوں مختص کیا جائے اور اس کا قانونی تو کیا اخلاقی جواز بھی نہیں بنتا مگر ملک میں سینیٹروں کو بھی ترقیاتی فنڈ دیے جاتے رہے ہیں۔

ارکان اسمبلی اور سینیٹروں کے لیے ماضی میں جو ترقیاتی فنڈز دیے جاتے تھے وہ اصل میں حکومتوں کی طرف سے دی جانے والی سیاسی رشوت ہوتی ہے جو ہر سیاسی حکومت اپنے اور اپنے حامی ارکان اسمبلی اور سینیٹروں کو دیتی آئی ہیں اور اپوزیشن کو یہ فنڈ نہیں دیے جاتے یا کم اور آخر میں دیے جاتے ہیں۔

ارکان اسمبلی اور سینیٹر ماضی میں ترقیاتی کام اپنے مخصوص حلقوں اپنے سیاسی مفاد کے لیے اپنے من پسند ٹھیکیداروں کے ذریعے کراتے رہے اور اپنا کمیشن بھی وصول کرتے ہیں۔ بعض ترقیاتی کام صرف فائلوں میں ہوئے اور مختص رقم ہڑپ کر لی گئی۔ سڑکیں اور ترقیاتی کام افسروں کی ملی بھگت سے کاغذوں میں ہوئے اور بلوں کی ادائیگی بھی کر دی گئی۔

سیاسی اور فوجی حکومتوں سے ملنے والی اس سیاسی رشوت کے ارکان پارلیمنٹ اور اسمبلی نہ صرف حامی ہیں بلکہ وہ اسی لیے بلدیاتی انتخابات کے بھی مخالف ہیںاور وہ نہیں چاہتے کہ کرپشن ہی کرپشن کے یہ فنڈ ان کے ہاتھ سے نکل کر بلدیاتی اداروں کے منتخب عوامی نمایندوں کے ہاتھ میں چلے جائیں۔

ارکان اسمبلی کو جوتنخواہ یا الاؤنس ملتے ہیں وہ بھی معقول ہوتے ہیںجنھیں بڑھانے کے لیے تمام ارکان متحد ہو جاتے ہیں۔ جب ان ارکان کو اسمبلی سے مراعات ملتی ہیں توترقیاتی کاموں میں ان کی دلچسپی کیوں ہوتی ہے یہ سب جانتے ہیں۔

انھیں عوام قانون سازی کے لیے منتخب کرتے ہیں اور بلدیاتی اداروں میں جن کو منتخب کرتے ہیں ان کا اصل کام ہی عوام کے بلدیاتی مسائل حل کرانا ہوتا ہے۔ جب دونوں کے کام ہی الگ الگ ہیں تو ارکان اسمبلی کے ترقیاتی فنڈز کا کوئی بھی جوازنہیں بنتا مگر چونکہ وہ اس کے عادی ہو چکے ہیں اس لیے ترقیاتی کاموں کی رقم اپنا حق سمجھتے ہیں۔

فوجی حکومتوں کے دور میں بلدیاتی انتخابات کو زیادہ اہمیت ملتی ہے کیونکہ لاکھوں کی تعداد میں بلدیاتی نمایندوں کی انھیں حمایت حاصل ہو جاتی ہے اور ارکان اسمبلی کی فوجی حکومتوں کو ضرورت بھی نہیں ہوتی۔

ضروری ہے کہ وفاق اور صوبوں میں حکومتیں سیاسی رشوت دینے کا غیر آئینی کام مکمل ختم کریں اور ملک بھر میں ترقیاتی کام صرف اور صرف منتخب بلدیاتی اداروں کے ذریعے ہی ہونے دیں۔
Load Next Story