بھارتی جاسوس کا اعتراف

دنیا جان چکی ہےکہ بھارت بلوچستان میں تخریب کاری اوردہشت گردی کےمتعددواقعات کی منصوبہ بندی میں ملوث ہے

ضرورت اب اس بات کی ہے کہ پاکستان بھارتی مداخلت کے اس مسئلہ کو ٹھوس شواہد سمیت عالمی سطح پر اٹھائے۔ اسکرین گریپ/ ایکسپریس نیوز

بھارتی خفیہ ایجنسی را کے جاسوس کلبھوشن یادیو نے بلوچستان،کراچی میں دہشتگردانہ کارروائیاں کرانے اور علیحدگی پسندوں کو فنڈنگ کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ حسین مبارک پٹیل کے نام سے بھارتی ایجنسیوں کے لیے کام کرتا رہا ہے، 2022ء میں اس کی ریٹائرمنٹ بطور کمیشن افسر ہونی ہے، بطور آفیسر بلوچستان اور کراچی میں کارروائیاں کراتا رہا، را کے جوائنٹ سیکریٹری انیل گپتا کے ماتحت ہے، بلوچ اسٹوڈنٹ تحریک کو ہینڈل کرنا اس کا کام تھا، اس کے اعتراف کے مطابق بلوچ باغیوں کو بہت سارے رابطوں اور طریقوں سے فنڈنگ کی جاتی ہے، را مستقبل قریب میں بلوچستان میں کچھ بڑی کارروائیاں پلان کرنا چاہتی تھی، اسی سلسلے میں پاکستان داخل ہوا، کسی دباؤ کے بغیر سب کچھ سچ بتا دیا ہے۔

بھارتی مداخلت اور ریاستی دہشتگردی کے طشت از بام ہونے کی یہ حقیقت منگل کو وفاقی وزیر اطلاعات سینیٹر پرویز رشید اور ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ نے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کی گرفتاری کے حوالے سے مشترکہ پریس کانفرنس میں بھارتی جاسوس کے اعترافی بیان پر مبنی ویڈیو دکھاتے ہوئے بیان کی جس کے بعد دنیا اب جان چکی ہے کہ بھارت بلوچستان میں نہ صرف تخریب کاری، دہشت گردی اور سبوتاژ کے متعدد واقعات اور گھناؤنی وارداتوں کی منصوبہ بندی میں ملوث ہے بلکہ اس کا اصل ٹارگٹ را کے ایجنٹوں اور جاسوسوں کے ذریعے کراچی ، سندھ اور بلوچستان میں بدامنی اور دہشت گردی کی منصوبہ بندی و فنڈنگ کرنا اور اس کے علاوہ گوادر پورٹ سمیت پاک چین اقتصادی راہداری اور سی پیک منصوبوں کے اس نیٹ ورک کو ناکام بنانا ہے جس سے پاکستان سمیت پورے خطے کی معاشی تقدیر بدل جائے گی۔

مگر یہ بات بھارت کی آنکھوں میں کانٹے کی طرح کھٹکتی ہے ، اس کی کوشش ہے کہ را سے افغان خفیہ ایجنسی اشتراک کرے اوردیگر خفیہ کارروائیوں میں بھارتی عزائم کی تکمیل میں مدد دے، جب کہ میڈیا نے افغان خفیہ ایجنسی نیشنل ڈائریکٹوریٹ آف سیکیورٹی (این ڈی ایس) اور''را'' کے مبینہ خفیہ گٹھ جوڑ کو پاکستان کی ان کوششوں پر پانی پھیرنے سے تعبیر کیا ہے جو وہ طالبان افغان مذاکرات کے لیے خلوص نیت سے کر رہا ہے۔

بہرحال بلوچستان میں شرمناک بھارتی مداخلت کاری کا پول کلبھوشن نے اپنے اعترافی ویڈیو میں کھول دیا ہے جب کہ بھارت نے حسب سابق پوری ڈھٹائی سے کام لیتے ہوئے بلوچستان سے پکڑے جانے والے را کے افسر کلبھوشن یادیو کے اعترافی وڈیو بیان کو مسترد کردیا اور قونصلر رسائی نہ ملنے پر مایوسی کا ڈرامہ کیا ، بھارتی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ کلبھوشن ہمارے کہنے پر پاکستان میں تخریبی سرگرمیوں میں ملوث نہیں تھا ، بھارتی تحقیقاتی افسانہ کے مطابق کل بھوشن یادیو ایران میں کاروبار کر رہا تھا جسے وہاں سے اغوا کر کے لائے جانے کا خدشہ ہے۔


ادھر پاک فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ نے کہا ہے کہ بھارتی خفیہ ایجنسی را کے حاضر سروس آفیسر کلبھوشن یادیو کی گرفتاری سے واضح ہوگیا ہے کہ پاکستان میں را کا نیٹ ورک موجود ہے، اس سے بڑا ثبوت دنیا میں نہیں مل سکتا ۔ وفاقی وزیر اطلاعات سینیٹر پرویز رشید کے ہمراہ میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ بھارتی خفیہ ایجنسی را کے ایجنٹ کلبھوشن یادیو کو ایرانی سرحد عبورکرتے ہوئے گرفتار کیا گیا، پاکستانی خفیہ ایجنسیوں کی یہ بہت بڑی کامیابی ہے ۔

امریکا نے کہا ہے کہ طالبان اور انتہاپسند تنظیمیں اب بھی پاکستان کے لیے خطرہ ہیں۔ آپریشن ضرب عضب کے باعث شدت پسند دباؤ میں ہیں۔ بلوچستان اسمبلی نے بھارتی خفیہ ایجنسی ''را'' کے حاضر سروس افسر کلبھوشن یادیوکی گرفتاری پر اپوزیشن لیڈر کی تحریک التوا کو بحث کے بعد قرارداد کی صورت میں منظورکر لیا، اراکین نے اس بڑی کارروائی پر سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت اس معاملے کو عالمی اداروں اور اقوام متحدہ کے سامنے پیش کرے ۔

وزیراعلیٰ بلوچستان سردار ثنا اللہ زہری نے کہا کہ را کے افسر کلبھوشن کی گرفتاری کے بعد مزید 15 گرفتاریاں عمل میں آئی ہیں، یہ بھی خوش آیند پیش رفت ہے کہ بلوچستان سے گرفتار را کے حاضر سروس افسرکلبھوشن یادیو کے ایک عالمی کالعدم تنظیم کے پاکستان میں موجود اہم ترین فنانسر حاجی بلوچ سے تعلقات کا انکشاف بھی ہوا ہے جب کہ دوسری طرف دہشتگردی کرنے کے لیے کالعدم جہادی اورعلیحدگی پسند تنظیموں کا گٹھ جوڑ بھی کھل کر سامنے آگیا ہے، حاجی بلوچ کے بارے میں سانحہ صفورا کا اہم کردار طاہر منہاس پہلے ہی جے آئی ٹی کے سامنے انکشاف کرچکا ہے، حاجی بلوچ کے نام سے معروف کالعدم تنظیم کا یہ فنانسر عبدالباسط کریم المعروف رمزی یوسف کا سگا بھائی جب کہ خالد محمد شیخ حاجی بلوچ کے سگے چچا ہیں ۔

قرائن بتاتے ہیں کہ اب بھارت سے کلبھوشن کی گرفتاری میں برادر ایران سے پاکستان کے تعلقات میں رخنہ اندازی کی سازش بھی بعید از قیاس نہیں اور کلبھوشن کے چاہ بہار بندرگاہ کے علاقے سے مبینہ اغوا کا پروپیگنڈا اسی سلسلہ کی کڑی ہے۔ ضرورت اب اس بات کی ہے کہ پاکستان بھارتی مداخلت کے اس مسئلہ کو ٹھوس شواہد سمیت عالمی سطح پر اٹھائے۔
Load Next Story