آنکھیں لال ہیں جھپٹ پڑ

بہت بڑا انرت ہو گیا یا یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ ایک بہت بڑا ’’انرت‘‘ ہوتے ہوتے رہ گیا،

barq@email.com

بہت بڑا انرت ہو گیا یا یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ ایک بہت بڑا ''انرت'' ہوتے ہوتے رہ گیا، ورنہ نا جانے کیا کیا اور کچھ کچھ ہو جاتا، ہم نے جب اخبار میں یہ شہ سرخی دیکھی کہ ''گرین شرٹس تاریخ کا رخ موڑنے کے لیے بے چین'' تو دل دھک سے ہو گیا، اگر تاریخ کا رخ موڑ دیا گیا تو کہیں ایسا نہ ہو جائے کہیں ویسا نہ ہو جائے، لیکن خدا کو شاید اس دنیا اور اس کی ''تاریخ'' پر رحم آگیا کہ دوسرے دن کی سرخی یہ تھی ''جمود نہ ٹوٹ سکا، بھارت کولکتہ میچ جیت گیا'' آپ چاہیں ہمیں کچھ بھی سمجھیں غیر محب وطن یا جو کچھ بھی آپ کے من میں آئے کہہ دیجیے لیکن ہم یہ کہئے بغیر نہیں رہ سکتے کہ خدا نے خیر کی ورنہ تاریخ کا رخ موڑنے سے نہ جانے دنیا پر کیا گزرتی، ظاہر ہے کہ رخ موڑنے کا مطلب الٹ پلٹ ہی ہوتا ہے۔

یعنی اگر ایسا ہو جاتا جس کے لیے گرین شرٹس بے چین تھے تو آج سورج مشرق کے بجائے مغرب سے نکل رہا ہوتا، پانی نیچے کے بجائے اوپر بہہ رہا ہوتا اور سندھ و پنجاب کے بجائے ''سیلاب'' دیراور چترال میں آیا ہوتا، کیوں کہ سورج اور پانی کی تاریخ بھی ''مڑ'' چکی ہوتی، تاریخ کوئی کسی ایک چیز کی تو نہیں ہوتی اور اگر ہر چیز کا رخ مڑ جاتا تو اب تک جولکھی ہوئی تاریخ ہے اسے بھی کسی سوئیٹر یا قمیص اورشلوارکی طرح الٹنا ہوتا، باہر ''رباب'' ہو جاتا مطلب یہ سب کچھ اباؤٹ ٹرن میں چلا جاتا، لیکن وہ کسی نے کہا ہے کہ مدعی لاکھ برا چاہے ... وہ تو اچھا ہے کہ انگور کو ''بیٹا'' نہ ہوا

تمہاری بے رخی نے لاج رکھی بادہ خانے کی
تم آنکھوں سے پلا دیتے تو پیمانے کہاں جاتے

در اصل غلطی اس وقت ہوئی جب بھارت سے تحفظ کی ضمانت مانگی جا رہی تھی اور اس تحفظ کی ضمانت میں ایک خاص الخاص ''دفعہ'' شامل ہونے سے رہ گئی، اگر دوسرے تحفظات کے ساتھ ساتھ ''شکست'' سے تحفظ کا مطالبہ بھی کیا جاتا تو معاملہ پوری طرح سٹل ہو جاتا اور گرین شرٹس اب تک تاریخ کا دھارا موڑ کر کم از کم بغداد کی تباہی تک پہنچا چکے ہوتے، بغداد کی لڑائی میں ہلاکو خان ہلاک ہو چکا ہوتا اور مغلوں کا مکمل طور پر قلع قمع کیا جا چکا ہوتا اور بعد میں مغلوں نے جو کچھ دنیا کے ساتھ کیا وہ سب کچھ بالکل نہ ہوتا، یہ الگ بات ہے کہ

گھر ہمارا جو نہ روتے بھی تو ویراں ہوتا
بحر گر بحر نہ ہوتا تو بیاباں ہوتا

لیکن افسوس صد افسوس بلکہ ہائے بھی اور وائے بھی کہ تاریخ کا دھارا ہمیشہ کی طرح نہایت ہی ڈھیٹ بے شرم اور ضدی نکلا کہ مڑ کر ہی نہ دیا کم بخت نے، ارے تاریخ کے دھارے خدا مارے اگر تھوڑا سا مڑ جاتا تو تیرا کیا بگڑتا ... کیا تیرا بگڑتا جو نہ مرتا کوئی دن اور، پتہ نہیں کیوں؟ کہ کرکٹ میں اور حکومت میں اتنے بڑے افلاطونوں کے باوجود ایسی بھول کیوں ہوئی، کہ عام سیکیورٹی کی ضمانت تو لے لی لیکن اتنے بڑے ''خطرے'' کی کوئی ضمانت طلب نہ کی، جہاں تک دوسرے تحفظات کا تعلق ہے جو ٹیم کو لاحق ہو سکتے تھے زیادہ سے زیادہ سنگ زنی اور نعرہ بازی سے تعلق رکھتے تھے یعنی سب کا تعلق ''جسم'' سے تھا اس میں اگر کوئی بھول چوک ہو جاتی تو زیادہ سے زیادہ کوئی زخمی ہو جاتا ہے، اور زخمی ہونا یا دو چار پتھر کھا لینا کچھ ایسی بڑی بات بھی نہیں خاص طورپر ایسا کھیلنے والوں کو سوائے پتھروں کے اور کچھ بھی نہیں مارنا چاہیے۔

ٹھہریئے ہمارا یہ مطلب نہیں ہے کہ ایسا پھینکنے والے یا ایسی سفید ہاتھیوں کی ٹیم پالنے والے سنگ زنی کے قابل ہوتے ہیں ویسے ہمارے دل میں تو ایسا ہی ہے لیکن ظاہر ہے کہ اخلاق بھی کوئی چیز ہے۔ ہمارا مطلب صرف اس قدر ہے کہ پتھرکھانا تو ہماری روایت ہے جسے آپ سنت مجنوں بھی کہہ سکتے ہیں اور جنون لیلیٰ کا ہو یا کرکٹ کا، اس میں پتھر کھانا تو کامیابی کی دلیل ہے چاہے لیلیٰ گلا پھاڑ پھاڑ کیوں نہ گاتی پھرے کہ

حسن حاضر ہے محبت کی سزا پانے کو
کوئی پتھر سے نہ مارے مرے دیوانے کو


اور کرکٹ کے سلیکٹر اور کرتا دھرتا ''لیلیٰ'' ہیں بھی یا نہیں کہ ''مجنوں'' پر رحم کھائیں، خلاصہ اس کلام کا یہ ہے کہ جسمانی سیکیورٹی کے لیے تو ''ضمانتیں'' لے لی گئیں یا یوں کہیے کہ بھارت نے پاکستان کے تحفظات ضمانت دے کر دور کر دیے لیکن جو اصل خطرہ درپیش تھا یا سب سے بڑا دشمن گھات میں بیٹھا ہوا تھا اس کے بارے میں کوئی ضمانت حاصل نہیں کی، اگر باقی کی ساری سیکیورٹیاں یا تحفظات چھوڑ کر صرف یہ ضمانت حاصل کرتے کہ ہماری ٹیم کو ''شکست'' نہیں مارو گے یا دوسرے الفاظ میں کہنا چاہیے کہ ہماری ٹیم اس وقت تک بھارت نہیں جائے گی جب تک بھارت ہمیں شکست سے تحفظ فراہم نہ کر دے تو کتنا اچھا ہوتا، شاید اب وہ اپنی اس کوتاہی پر پچھتا رہے ہوں لیکن اب تو شکست کی چڑیاں امیدوں کی کھیتی چر چگ کر دور افق میں کھو بھی گئی ہے

مشتے کہ بعد از جنگ یاد آید
برکلہ خود بائد زند

یعنی وہ مکا جو جنگ کے بعد یاد آئے اپنے ہی جبڑے پر مارنا چاہیے، لیکن یہ بھی صرف ہماری خوش قسمتی ہے کرکٹ کے کرتا دھرتا مفت کی کھا کھا کر اور بہت زیادہ کھا کھا کر مرغی بن چکے ہیں اس لیے جو ضروری اور نمبر ون تحفظ تھا اس کی ضمانت حاصل نہیں کی۔ سچ کہا ہے کسی نے کہ اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے لوگوں کے ساتھ، اس لیے تاریخ کا وہ بے شرم اور ڈھیٹ دھارا دھرے کا دھرا رہ گیا، رخ تو کیا اس کا ایک بال بھی نہ موڑا جا سکا، زیادہ سے زیادہ ایسے مواقع پر کھسیانی بلی یوں کھمبا نوچتی ہے کہ

شکست و فتح نصیبوں سے ہے ولے اے میر
مقابلہ تو دل ناتواں نے خوب کیا

لیکن یہاں ہم یہ بھی نہیں کہہ سکتے کیوں کہ نہ تو کم بخت دل ناتواں تھا اور نہ اس نے خوب تو کیا برا مقابلہ بھی نہیں کیا، دل تو یہاں سے یوں اچھلتے اچھلتے اور پھدکتے گیا کہ تاریخ کا دھارا موڑ کے رہیں گے لیکن

دھمکی میں مر گیا جو نہ باب نبرد تھا
عشق نبرد پیشہ طلب کار مرد تھا

وہ ایک گیدڑ اور شیر کا دوستانہ ہو گیا، شیر گیدڑ کو ماموں جان کہتا تھا اور گیدڑ واقعی مامون بن گیا، گیدڑ نے اپنے بھانجے سے ایک دن پوچھا کہ تم شکار پر کیسے جھپٹتے ہو۔ شیر نے کہا ماموں جان میں جب شکار کو دیکھ لیتا ہوں تو میری آنکھیں لال ہو جاتی ہیں، آیندہ تم دیکھنا کہ جب شکار سامنے ہو اور میری آنکھیں لال ہو جائیں تو بولنا کہ جھپٹ پڑ بھانجے، اس طرح کئی دن گزر گئے شیر شکار کرتا اور دونوں خوب خوب مزے اڑاتے، گیدڑ نے سوچا یہ تو بڑا آسان کام ہے صرف آنکھیں ہی لال کرنا ہوتی ہیں۔

بولا بھانجے اگلی مرتبہ کوئی شکار نظر آئے تو تم میری آنکھوں کو دیکھنا جب لال ہو جائیں تو کہنا کہ جھپٹ پڑ ماموں، بدقسمتی سے اب کے سامنے سے ایک نوجوان اور مست سانڈ دکھائی دیا۔ شیر نے کہا ماموں شکار، گیدڑ ٹھہر کر آنکھوں پر زور دینے لگا لیکن وہ لال ہونے کے بجائے زرد ہو رہی تھیں، کافی دیر گزری تو شیر نے کہا ماموں تمہاری آنکھیں تو لال ہو کر ہی نہیں دے رہی ہیں۔ گیدڑ نے کہا چلو جو کچھ بھی ہے تم کہنا کہ تہماری آنکھیں لال ہیں ماموں جھپٹ پڑ، گیدڑ جھپٹ پڑا لیکن وہ تو مرکھنا بیل تھا اسے سینگوں پر رکھ خوب خوب رگیدنے کے بعد جب چھوڑا تو ماموں واپس لنگڑاتا اورکراہتا ہوا آرہا تو ساتھ ہی بڑبڑا بھی رہا تھا کہ آدمی کی آنکھیں لال نہیں ہوتیں اور یہ لوگ کہہ دیتے کہ جھپٹ پڑ تمہاری آنکھیں لال ہیں۔
Load Next Story