صدر اوباما کا وزیراعظم نواز شریف کو فون
امریکی صدر بارک اوباما نے بدھ کو وزیراعظم میاں محمد نوازشریف کو ٹیلی فون کرکے سانحہ لاہور پر افسوس کا اظہار کیا۔
امریکی صدر بارک اوباما نے بدھ کو وزیراعظم میاں محمد نوازشریف کو ٹیلی فون کرکے سانحہ لاہور پر افسوس کا اظہار کیا۔ فوٹو؛ فائل
امریکی صدر بارک اوباما نے بدھ کو وزیراعظم میاں محمد نوازشریف کو ٹیلی فون کرکے سانحہ لاہور پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ دکھ کی اس گھڑی میں امریکا پاکستانی حکومت اور عوام کے ساتھ ہے جب کہ مشکل وقت میں نوازشریف کا دورہ امریکا کے بجائے ملک میں رہنا قابل تحسین ہے۔
انھوں نے متاثرہ خاندانوں سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے کہا کہ دشمن معصوم شہریوں اور آسان اہداف کو نشانہ بنا رہا ہے لیکن پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابی کا مکمل یقین ہے' دہشتگردی کے خلاف جنگ میں نوازشریف کی قیادت کے معترف ہیں، ان کی قیادت میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے نمایاں کامیابیاں حاصل کیں۔ انھوں نے یقین دلایا کہ پاکستان سے دہشت گردی کو جڑسے اکھاڑ پھینکنے کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھیں اور مدد کریں گے۔
امریکی صدر سے گفتگو میں وزیراعظم میاں محمد نوازشریف نے کہا کہ چھپا ہوا دشمن اپنا ڈھانچہ تباہ ہونے کے بعد معصوم عوام کو نشانہ بنا رہا ہے لیکن پاکستانی عوام کا عزم مضبوط تر ہو رہا ہے، پاکستانی قوم انتہاپسندی اور چھپے دشمن کے خلاف ہر صورت فتح حاصل کرے گی۔ علاوہ ازیں وزیراعظم نواز شریف کو مالدیپ کے صدر عبداﷲ یامین نے بھی فون کیا اور لاہور دہشت گرد حملے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر دلی تعزیت کا اظہار کیا۔ اس موقع پر نواز شریف نے کہا کہ دہشت گردی ایک سنگین عالمی خطرہ بن چکی ہے، ہم اسے اپنی سرزمین سے ختم کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔
سانحہ لاہور کے بعد امریکا اور مالدیپ کے صدر کے علاوہ دنیا کے مختلف ممالک کے سربراہان کی جانب سے افسوس اور یکجہتی کے اظہار کے ساتھ ساتھ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی کوششوں کو بھی سراہ رہے ہیں۔ امریکا کے صدر اوباما کا وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کو فون کرنا' دہشت گردی کے خلاف جنگ کے حوالے سے اہم پیش رفت ہے' اس طرح امریکا نے موجودہ حکومت کی دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کو تسلیم کیا اور وزیراعظم کی قیادت کا اعتراف کیا ہے۔ صدر بارک اوباما نے پاکستان سے دہشت گردوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے ہر ممکن تعاون اور مدد کا یقین دلایا ہے ۔
اس حوالے سے بات یہ ہے کہ امریکا وہاں انھیں پاکستان کو دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے جدید تربیت اور ٹیکنالوجی فراہم کرے۔افغانستان میں امریکی اور نیٹو افواج موجود ہیں' اصولاً ان افواج کو بھی افغانستان کے ساتھ ملحقہ سرحد پر بھی سیکیورٹی کے انتظامات مضبوط بنانے کے لیے اقدامات کرنا چاہیے۔ دہشت گردی کے خلاف اس لڑائی میں امریکا کا پاکستان سے تعاون کرنا انتہائی ضروری ہے' دونوں ملکوں میں اس حوالے سے ابہام سے صرف دہشت گردوں کو فائدہ پہنچائے گا۔ افغانستان کے ساتھ معاملات طے کرنے میں امریکا کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
امریکا بھارت اور افغانستان پر بھی دباؤ ڈالے کہ وہ پاکستان میں دہشت گردوں کی پشت پناہی سے ہاتھ کھینچ لیں۔ یہ بات بھی منظرعام پر آئی ہے کہ پاکستان میں تحریک طالبان اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کے درمیان باہمی رابطے موجود ہیں اور وہ اپنے نیٹ ورک کو زیادہ سے زیادہ فعال کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔
ایک جانب جہاں سیکیورٹی ادارے اس نیٹ ورک کو توڑنے کے لیے اپنی جانوں پر کھیل کر ملک اور قوم کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے سرگرم ہیں وہاں نظریاتی محاذ پر بھی کام کرنے کی ضرورت ہے۔ دہشت گردی کے خلاف اس جنگ کو کمزور کرنے کے لیے اندرون ملک بھی کچھ نادیدہ قوتیں عوام میں نظریاتی الجھاؤ پھیلانے میں مصروف ہیں۔ یہی قوتیں دہشت گردوں کے سہولت کار کا کردار بھی ادا کر رہی ہیں۔
لہٰذا دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں کامیابی کے لیے نظریاتی کشمکش کو بھی ختم کرنے کے لیے حکومت اور سیاسی جماعتوں کو آگے آنا ہو گا۔ ایسے موقع پر سیاسی جماعتوں کی جانب سے خاموشی وطن کی سلامتی کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حکومت'فوج اور تمام سیکیورٹی ادارے ایک پیج پر ہیں مگر بعض قوتیں ایک خاص منصوبے کے تحت حکومت اور سیکیورٹی اداروں کے درمیان خلیج پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
ان قوتوں کو اپنے اس رویے پر غور کرنا چاہیے کہ حکومت سے سیاسی اختلافات اپنی جگہ مگر حکومت اور فوج کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کرنے کی کوششیں ملکی سلامتی کے لیے مستقل طور پر خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں۔یہ کسی کے فائدہ میں نہیں ہے' اعلیٰ سطح پر ہونے والی سرگرمیوں اور پیش رفت کا مشاہدہ کیا جائے تو یہی حقیقت سامنے آئی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ اور نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کے حوالے سے سیکیورٹی اداروں اور حکومت کے درمیان ہم آہنگی ہے اور وہ ہر معاملے پر ایک پیج پر ہیں۔
سیکیورٹی ادارے اور حکومت باہمی تعاون سے دہشت گردی کے خلاف کارروائی جاری رکھے ہوئے ہیں اور وہ دن دور نہیں جب دہشت گردی کی لعنت کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کر دیا جائے گا۔
انھوں نے متاثرہ خاندانوں سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے کہا کہ دشمن معصوم شہریوں اور آسان اہداف کو نشانہ بنا رہا ہے لیکن پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابی کا مکمل یقین ہے' دہشتگردی کے خلاف جنگ میں نوازشریف کی قیادت کے معترف ہیں، ان کی قیادت میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے نمایاں کامیابیاں حاصل کیں۔ انھوں نے یقین دلایا کہ پاکستان سے دہشت گردی کو جڑسے اکھاڑ پھینکنے کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھیں اور مدد کریں گے۔
امریکی صدر سے گفتگو میں وزیراعظم میاں محمد نوازشریف نے کہا کہ چھپا ہوا دشمن اپنا ڈھانچہ تباہ ہونے کے بعد معصوم عوام کو نشانہ بنا رہا ہے لیکن پاکستانی عوام کا عزم مضبوط تر ہو رہا ہے، پاکستانی قوم انتہاپسندی اور چھپے دشمن کے خلاف ہر صورت فتح حاصل کرے گی۔ علاوہ ازیں وزیراعظم نواز شریف کو مالدیپ کے صدر عبداﷲ یامین نے بھی فون کیا اور لاہور دہشت گرد حملے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر دلی تعزیت کا اظہار کیا۔ اس موقع پر نواز شریف نے کہا کہ دہشت گردی ایک سنگین عالمی خطرہ بن چکی ہے، ہم اسے اپنی سرزمین سے ختم کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔
سانحہ لاہور کے بعد امریکا اور مالدیپ کے صدر کے علاوہ دنیا کے مختلف ممالک کے سربراہان کی جانب سے افسوس اور یکجہتی کے اظہار کے ساتھ ساتھ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی کوششوں کو بھی سراہ رہے ہیں۔ امریکا کے صدر اوباما کا وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کو فون کرنا' دہشت گردی کے خلاف جنگ کے حوالے سے اہم پیش رفت ہے' اس طرح امریکا نے موجودہ حکومت کی دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کو تسلیم کیا اور وزیراعظم کی قیادت کا اعتراف کیا ہے۔ صدر بارک اوباما نے پاکستان سے دہشت گردوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے ہر ممکن تعاون اور مدد کا یقین دلایا ہے ۔
اس حوالے سے بات یہ ہے کہ امریکا وہاں انھیں پاکستان کو دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے جدید تربیت اور ٹیکنالوجی فراہم کرے۔افغانستان میں امریکی اور نیٹو افواج موجود ہیں' اصولاً ان افواج کو بھی افغانستان کے ساتھ ملحقہ سرحد پر بھی سیکیورٹی کے انتظامات مضبوط بنانے کے لیے اقدامات کرنا چاہیے۔ دہشت گردی کے خلاف اس لڑائی میں امریکا کا پاکستان سے تعاون کرنا انتہائی ضروری ہے' دونوں ملکوں میں اس حوالے سے ابہام سے صرف دہشت گردوں کو فائدہ پہنچائے گا۔ افغانستان کے ساتھ معاملات طے کرنے میں امریکا کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
امریکا بھارت اور افغانستان پر بھی دباؤ ڈالے کہ وہ پاکستان میں دہشت گردوں کی پشت پناہی سے ہاتھ کھینچ لیں۔ یہ بات بھی منظرعام پر آئی ہے کہ پاکستان میں تحریک طالبان اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کے درمیان باہمی رابطے موجود ہیں اور وہ اپنے نیٹ ورک کو زیادہ سے زیادہ فعال کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔
ایک جانب جہاں سیکیورٹی ادارے اس نیٹ ورک کو توڑنے کے لیے اپنی جانوں پر کھیل کر ملک اور قوم کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے سرگرم ہیں وہاں نظریاتی محاذ پر بھی کام کرنے کی ضرورت ہے۔ دہشت گردی کے خلاف اس جنگ کو کمزور کرنے کے لیے اندرون ملک بھی کچھ نادیدہ قوتیں عوام میں نظریاتی الجھاؤ پھیلانے میں مصروف ہیں۔ یہی قوتیں دہشت گردوں کے سہولت کار کا کردار بھی ادا کر رہی ہیں۔
لہٰذا دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں کامیابی کے لیے نظریاتی کشمکش کو بھی ختم کرنے کے لیے حکومت اور سیاسی جماعتوں کو آگے آنا ہو گا۔ ایسے موقع پر سیاسی جماعتوں کی جانب سے خاموشی وطن کی سلامتی کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حکومت'فوج اور تمام سیکیورٹی ادارے ایک پیج پر ہیں مگر بعض قوتیں ایک خاص منصوبے کے تحت حکومت اور سیکیورٹی اداروں کے درمیان خلیج پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
ان قوتوں کو اپنے اس رویے پر غور کرنا چاہیے کہ حکومت سے سیاسی اختلافات اپنی جگہ مگر حکومت اور فوج کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کرنے کی کوششیں ملکی سلامتی کے لیے مستقل طور پر خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں۔یہ کسی کے فائدہ میں نہیں ہے' اعلیٰ سطح پر ہونے والی سرگرمیوں اور پیش رفت کا مشاہدہ کیا جائے تو یہی حقیقت سامنے آئی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ اور نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کے حوالے سے سیکیورٹی اداروں اور حکومت کے درمیان ہم آہنگی ہے اور وہ ہر معاملے پر ایک پیج پر ہیں۔
سیکیورٹی ادارے اور حکومت باہمی تعاون سے دہشت گردی کے خلاف کارروائی جاری رکھے ہوئے ہیں اور وہ دن دور نہیں جب دہشت گردی کی لعنت کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کر دیا جائے گا۔