مذہبی گائے زندہ باد جاہل عوام پایندہ باد

لیکن آج ہم جس گائے کے بارے میں بتانے جا رہے ہیں وہ ان سب سے مختلف اور بہترین گائے ہے

barq@email.com

لاہور:
دوسری چیزوں کی طرح دنیا میں گائیں بھی بہت ساری انواع و اقسام کی پائی جاتی ہیں جیسے آسٹریلیا کی گائے، جرسی گائے، سندھی گائے، ساہیوال کی گائے، اچی گائے، مقدس گائے، اللہ میاں کی گائے اور سیاسی گائے ... ان میں سے اصل گائے کی نسلوں کو باہم ملا کر مکس گائے بھی بنائی جاتی ہے جیسے ہالینڈ مکس، سندھی مکس، ساہیوال مکس وغیرہ ... یا سیاسی و مقدس مکس، مذہبی، سیاسی مکس، جاگیر دار، سیاسی مکس، تاجر سیاسی مکس وغیرہ ... سنا ہے اس میں سب سے بہتر نسل بیورو کریسی / سیاسی مکس مانی جاتی ہے۔

لیکن آج ہم جس گائے کے بارے میں بتانے جا رہے ہیں وہ ان سب سے مختلف اور بہترین گائے ہے اور اس میں سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ دوسری گائیوں کی طرح مہنگی بھی نہیں ہے مثلاً جیسے امریکی جرسی نسل کی گائے لاکھوں کی ہوتی ہے یا آسٹریلیا کی کچھ خاص گائیں نہایت بیش قیمت ہوتی ہیں، لیکن یہ گائے جس کی ہم بات کر رہے ہیں بالکل مفت دستیاب ہے اور ہر کوئی اسے کہیں سے بھی پکڑ کر اپنے آنگن میں باندھ سکتا ہے۔

دوسری خوبی یہ ہے کہ کسی بھی گائے کا دودھ ایک خاص حد اور مقدار تک ہوتا ہے پانچ سیر، دس سیر، بیس چلیے اور بھی زیادہ لیکن پھر بھی اتنا تو نہیں ہوتا ہے کہ جتنا چاہیں جہاں چاہیں اور جب چاہیں دودھ دھو لیکن یہ گائے ایسی ہی ہے، مزے کی بات یہ ہے کہ کوئی خاص ونڈہ یا چارہ بھی نہیں کھاتی روکھی سوکھی جو رکھ دیجیے بے چاری کھا لیتی ہے۔ یہ گائے دین مذہب یا دھرم کی گائے ہے جس کی خوبیوں کی نہ کوئی حد ہے نہ حساب، سستی اتنی کہ ہاتھ بڑھا کر پکڑ لیجیے قیمتی اتنی کہ گھر آنگن بینک سب بھر جائیں اور اصیل اتنی کہ ایک احمق بھی پکڑ کر گھر میں باندھ لے۔

چنانچہ اپنے یہاں بھی اب اس گائے کو نہ صرف انفرادی طور پر پالا جاتا ہے بلکہ بڑے بڑے ''فارم'' بھی کھولے گئے ہیں، پچھلے دنوں جب ہم نے وہاں پر اس گائے کے ''دودھ'' سے بنی ہوئی نہایت گراں قیمت مصنوعات دیکھیں، لکشمی کے ''پیر'' شیو جی کا پنجہ، ہنومان کے لاکٹ اور گنیش کی مورتی۔ ہر ہر چینل پر جدھر دیکھئے ادھر تو ہی تو ہے، طرح طرح کے لاکٹ سامنے آئے۔

جن کے بارے میں لوگ اپنے اپنے تجربات بیان کرنے لگے(1) میں بالکل ہی بے روزگار تھا خودکشی کے قریب پہنچ چکا تھا لیکن پھر کسی نے ہنومان لاکٹ کے بارے میں بتایا میں نے شری ''چار سو بیس'' کا بنایا ہوا مقدس لاکٹ منگوایا آج میری چار کمپنیاں پانچ بلڈنگیں، چھ مارکیٹیں اور بے پناہ دولت ہے، دھنے واد ہنومان چالیسا۔ (2) میں بیمار تھا علاج کر کر تھک چکا تھا تمام ڈاکٹروں اور اسپتالوں نے جواب دے دیا تھا لیکن پھر اچانک میری بیوی نے اپنی سہیلی کے کہنے پر ہنومان چالیسا لاکٹ منگوا کر گلے میں پہنایا میں اسی وقت نہ صرف بھلا چنگا ہو گیا بلکہ ایک اکھاڑہ جوائن کر کے پہلوان بن گیا آج کل میں عالمی چیمپئن ہوں۔

ہمیں تو ایسا لگا جیسے پڑوسی ملک میں کوئی بھی مسئلہ باقی نہیں رہے گا نہ کوئی بیمار ہو گا نہ بے روزگار ہو گا۔ سوچا کہ ہم بھی کیوں نہ آزما لیں کیونکہ پاکستان کے لیے بھی نمبر دیے ہوئے تھے ان دنوں من موہن سنگھ جی کے آخری دن تھے اور اسی کے مقابل نریندر مودی اٹھ رہا تھا، چنانچہ ہم نے فوراً اس ٹیلی فون نمبر پر سمپرک کیا اور ان سے کہا کہ ہم قیمت بھی بھیج رہے ہیں اور ساتھ ہی ایک سو ایک روپے کی اضافی رقم بھی آپ کرپا اتنی کریں کہ ہماری طرف سے یہ لاکٹ نریندر مودی کو پہنا دیں کچھ روز بعد جواب ملا کہ ہمارا کام کر دیا گیا کیونکہ مودی جی سیاست دان ہیں اور سیاست دان مفت کی چیز ہتھیانے سے بالکل انکار نہیں کرتے۔ آپ یقین کریں کہ اس دن سے مودی کا گراف بڑھنے لگا اور پھر آپ نے دیکھا کہ ایک چائے فروش پردھان منتری بن گیا یہ سب کچھ ہنومان چالیسا کی برکت سے ممکن ہوا۔


اس بات سے ہمیں بہت دکھ پہنچا اس سے نہیں کہ پڑوس والوں پر مودی جیسا موذی مسلط ہو گیا، ہم نے تو اپنی حق حلال کی رقم اس لیے خرچی تھی کہ ہم تو ڈوبے ہیں صنم تم کو بھی لے ڈوبیں گے یعنی ہم فیل ہیں تو کوئی بات نہیں لیکن چچا زاد بھی پاس نہ ہو تو مزہ آ جائے گا لیکن آپ کو تو اس کم بخت دل کا پتہ ہے کہ

ہر خوشی میں کوئی غم یاد دلا دیتا ہے
دل کا یہ رخ میری نظروں سے نہاں تھا پہلے

اب فکر کی بات یہ ہوئی کہ ان کم بخت پڑوسیوں کے پاس اگر ایسی چیزیں موجود ہیں تو یہ تو ایٹم بم سے بھی زیادہ خطرناک بات ہے آخر ہمارے پاس ایسے تیر بہدف ہتھیار کیوں نہیں ہیں اس غم میں ہم نے ان کے چینل ہی دیکھنا چھوڑ دیے کہ ہر چینل پر ہر وقت کوئی نہ کئی رام بان نسخہ چل رہا ہوتا ہے اور لوگوں کے مسائل فٹا فٹ حل ہو رہے ہیں، ایک دن کافی عرصے کے بعد غلطی سے ایک چینل لگا تو سارے دکھ دھل گئے

چاند کے ساتھ کئی درد پرانے نکلے
کتنے غم تھے جو ترے غم کے بہانے نکلے

ایک مولانا صاحب جو مکمل طور پر کلین شیو تھے فرما رہے تھے کہ یہ جو اللہ کا لاکٹ ہے اس کے اندر اللہ کے سارے اسماء الحسنیٰ کچھ اس معجزانہ طور پر نظر آتے ہیں کہ آپ عش عش کرتے کرتے غش کھا جائیں گے، اس کے بعد ویسے ہی کچھ لوگ مسلمانوں کی وضع قطع بنائے اپنا اپنا حال سنانے لگے کہ جب سے میں نے اللہ کے نام والا لاکٹ پہنا ہے میرے گھر دولت کی برسات ہو گئی پہلے میں ایک بیوی کو ترستا تھا لیکن آج گھر میں چار چار بیویاں ہیں، بیتس بچے ہیں اور اللہ کے فضل سے میرا ''پیسہ دوگنا کرنے'' کا دھندہ زوروں پر ہے۔

کوئی کہتا ہے کہ میں بیروزگار تھا لیکن یہ اسماء الحسنیٰ کا لاکٹ پہننے کے بعد اللہ کا فضل ہو گیا آج میرے چار چار مدرسے ہیں اور سات سات مسجدیں ہیں اور میں دنیا بھر کی سیاحت کر رہا ہوں صرف ایک رسید بک ہاتھ میں لے کر، اس بات سے ہمیں جو خوشی ہوئی اسے ہم بیان نہیں کر سکتے اس لیے نعرہ مارتے ہیں آپ بھی ساتھ دیں، مذہبی گائے زندہ باد، جاہل عوام پایندہ باد، مذہب ہی وہ گائے ہے جسے آپ کہیں سے بھی مفت پکڑ کر دودھ دھو سکتے ہیں اور پھر اس دودھ سے طرح طرح کی مصنوعات بنا کر بیچ سکتے ہیں۔
Load Next Story