دہشت گردی کے خلاف وسیع اتحاد
ہمارے سیاسی کلچر میں سیاسی جماعت کی حمایت اس کے منشور کے بجائے اس کی قیادت کی خاندانی وجاہت کے حوالے سے کی جاتی ہے۔
zaheerakhtar_beedri@yahoo.com
6نومبر کو نمائش چورنگی کراچی میں دو مقتولین کی نماز جنازہ ادا کی جارہی تھی۔
اسی دوران میں ایک سیاہ رنگ کی ٹیوٹا کار وہاں پہنچنے کی کوشش کرتی ہے اورجگہ جگہ لگائے گئے بیریئرز کی وجہ سے عوام تک پہنچنے میں ناکام ہونے کے بعد ایک چھ کلو وزنی بم مزار قائد کے قریب پھینک کر بھاگ جاتی ہے۔اس پورے سفر کو ایک نوجوان لڑکا دیکھتا ہے اور قریبی کھڑے پولیس اہلکاروں کو اس کی اطلاع دیتا ہے۔ پولیس فوری بم ڈسپوزل یونٹ کو طلب کرلیتی ہے جو بم کو ناکارہ بنا دیتا ہے۔ یہ بم چھ کلو وزنی تھا اگر دہشت گرد نماز جنازہ ادا کرنے والوں تک پہنچنے میں کامیاب ہوجاتے تو یقیناً ایک بہت بڑا جانی نقصان ہوتا۔ اس نوجوان اور ذہین لڑکے نے اپنی ذہانت کی وجہ سے نماز جنازہ ادا کرنے والوںکو ایک بڑے جانی نقصان سے بچالیا۔ یوں دہشت گردوں کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔
اس وقت پاکستان جس ہمہ جہت انارکی اور خلفشار کا شکار ہے۔اس کی بنیادی وجہ ملک میں جاری دہشت گردی اور فرقہ واریت ہے۔ اس مسئلے کی سنگین اور ملک کے مستقبل پر اس کے اثرات کے پس منظر میں اس مسئلے کا جائزہ لے کر اس کے خلاف متحدہ مزاحمت کا پروگرام بنانے کے بجائے بعض موقع پرست سیاست دان اور کم فہم، تنگ نظر مذہبی رہنما مختلف بے جواز بہانوں کے ساتھ دہشت گردی کی بلا واسطہ یا بالاواسطہ حمایت کررہے ہیں۔ اس دوغلی سیاست کی وجہ سے دہشت گرد اس قدر نڈر ہوگئے ہیں کہ ہر روز سرعام بے گناہ شہریوں کا خون بہا رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ ملک کے حساس اداروں پر بھی حملہ آور ہو کر ریاستی نظام کو مفلوج کر رہے ہیں۔
ایسی سنگین صورت حال میں متحدہ قومی موومنٹ نے دہشت گردی کے خلاف جس کھلی جنگ کا اعلان کیا ہے۔ اس میں کیڑے نکال کر اپنی بزدلی چھپانے کے بجائے ان طاقتوں کو متحدہ کے ساتھ ملاکر دہشت گردی کے خلاف جنگ کا حصہ بننا چاہیے تاکہ وطن عزیز دہشت گردوں سے نجات پا سکے۔ سیاسی جماعتوں کے درمیان اختلافات پیدا ہونا کوئی نئی بات ہے نہ کوئی حیرت کی بات ہے۔ ہر ملک میں سیاسی جماعتوں کے درمیان اختلافات ہوتے ہیں، ان اختلافات کا تعلق ریاست اور حکومت کو زیادہ سے زیادہ عوام کے لیے فائدہ مند بنانے کے طریقہ کار پر ہوتا ہے لیکن جب بات ملک کو قوم کے مستقبل کو لاحق خطرات کی ہوتی ہے تو ساری جماعتیں اپنے اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر متحد ہوجاتی ہیں۔
ہمارے سیاسی کلچر میں کسی بھی سیاسی جماعت کی حمایت اس کے منشور اور پروگرام کے بجائے اس کی قیادت کی خاندانی وجاہت کے حوالے سے کی جاتی ہے۔ اس مائنڈسٹ کی وجہ سے ہمارا ملک اور ہمارا معاشرہ 65 سال سے خاندانی سیاست اور خاندانی حکمرانوں کے عذاب میں مبتلا ہے۔ اس جمود میں اگر کوئی جماعت ایک واضح منشور پروگرام کے ساتھ جو quo status توڑنے پر مبنی ہو آگے آتی ہے تو اپنے تحفظات اور اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر ایسی حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہوتی ہے جوstatus quo کو توڑنے میں معاون ثابت ہو لیکن اس پالیسی یا حمایت کے لیے یہ ضروری ہے کہ ہم status quo کو توڑنے کی اہمیت اور ضرورت سے واقف ہوں۔
کراچی کو منی پاکستان اور معاشی حب کہا جاتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ کراچی ملک کا سیاسی حب بھی ہے۔ اس کی اسی اہمیت کی وجہ سے عوام دشمن مفاد پرست طاقتوں نے اس شہر کو مختلف حوالوں سے اس طرح بانٹ کر رکھ دیا ہے کہ یہ شہر اپنی روایتی اجتماعی طاقت سے محروم ہوکر رہ گیا ہے۔ اس کمزوری سے دہشت گرد واقف بھی ہیں اور فائدہ بھی اٹھارہے ہیں۔ سیاسی اختلافات ہر جماعت کا ایک جمہوری حق ہے لیکن سیاسی اختلافات میں زبان، قومیت فقہہ وغیرہ کے عناصر شامل ہوجاتے ہیں تو یہ اختلافات نہ صرف نقصان میں بدل جاتے ہیں بلکہ جمہوریت کو کمزور اور عوامی مفادات کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ یہی کراچی میں ہورہا ہے۔
6 نومبر کو جناح صاحب کے مزار پر 6کلو بم رکھنے اور شیعہ رہنمائوں کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے، تحریک برائے امن و مذہبی رواداری کے رہنما معراج محمد خان ، اقبال حید،ر فہمیدہ ریاض، ڈاکٹر ٹیپو سلطان وغیرہ نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں دہشت گردی کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اس خدشے کا اظہارکیا ہے کہ عبادت گاہوں اور درگاہوںکے دشمن کہیں مزار قائد کو بم سے اڑانے کی کوشش نہ کریں۔
ہماری سیاست اور جمہوریت کی گاڑی 65 سالوں سے جاگیرداری نظام کی کھائی میں پھنسی ہوئی ہے۔ جب تک ہماری سیاست کو موقع پرست سیاست دانوں اور تنگ نظر مذہبی قیادت سے پاک نہیں کیا جائے گا۔ نہ ہماری سیاست عوامی ہوسکتی ہے نہ ہماری جمہوریت عوامی ہوسکتی ہے جو جماعت اس حقیقت سے واقف ہیں کیا ان کی یہ ذمے داری نہیں کہ وہ عشروں پر پھیلے ہوئے زبانی جمع خرچ سے نکل کر ان سے عوام کو نجات دلانے کے لیے آگے آئیں اور عملی سیاست کا آغاز کریں۔ دنیا کی سیاسی تاریخ یہ اہم قومی مسائل کے حل کے لیے غیر نظریاتی اتحاد بنتے رہے ہیں۔ نظریاتی سیاست کرنے والوں کی سوئی اگر صرف نظریاتی اتحاد پر اٹکی رہے گی تو گاڑی نکل جائے گی اور صرف ہاتھ ملتے رہ جانا پڑے گا۔
ہمارے ملک میں صوبائی حقوق کی پامالی سمیت کئی مسئلے حل طلب ہیں یہی مسائل 65 سال سے اس لیے حل نہیں ہورہے ہیں کہ ہم عقل مند لوگ ان مسائل کے حل کا مطالبہ ان اوتاروں سے کررہے ہیں جنھوں نے یہ مسائل پیدا کیے ہیں اور انھیں باقی رکھنے ہی میں اپنی بقا دیکھتے ہیں۔ اگر ہم ان اہم قومی مسائل کو حل کرنے میں واقعی مخلص ہیں تو سب سے پہلے دہشت گردی اور جاگیرداری کو ختم کرنا ہوگا اور یہ دونوں سنگین مسائل ایک وسیع تر سیاسی اتحاد کے متقاضی ہیں اس ممکنہ اتحاد میں نظریاتی شرط کو نرم کرکے ہر اس جماعت کے ساتھ کھڑے ہونا پڑے گا جو ان دونوں مسئلوں پر ایک واضح موقف رکھتی ہے اور عملی جدوجہد کے لیے تیار ہو۔
ہم نے اپنی زندگی کا دو تہائی سے زیادہ حصہ ظلم و استحصال کے ظالمانہ نظام کے خلاف عملی اور قلمی جدوجہد میں گزارا ہے۔ اس طویل تجرباتی زندگی کے لیے اب ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے ملک و قوم کو جن دو بڑی اور خوفناک بلائوں کو سامنا ہے ان سے نجات کے لیے ایک ایسے وسیع تر اتحاد کی ضرورت ہے جو ان تمام طاقتوں پر مشتمل ہو جو ان دو مسائل کو حل کرنے کی ضرورت سے آگاہ ہیں اور انھیں حل کرنے کے لیے عملی جدوجہد پر تیار ہیں اگر ایسا نہ کیاگیا اور نظریاتی اتحاد کی لکیر پیٹتے رہے تو آنے والی نسلیں ہماری حماقتوں کا خمیازہ بھگتی رہیںگی۔
اسی دوران میں ایک سیاہ رنگ کی ٹیوٹا کار وہاں پہنچنے کی کوشش کرتی ہے اورجگہ جگہ لگائے گئے بیریئرز کی وجہ سے عوام تک پہنچنے میں ناکام ہونے کے بعد ایک چھ کلو وزنی بم مزار قائد کے قریب پھینک کر بھاگ جاتی ہے۔اس پورے سفر کو ایک نوجوان لڑکا دیکھتا ہے اور قریبی کھڑے پولیس اہلکاروں کو اس کی اطلاع دیتا ہے۔ پولیس فوری بم ڈسپوزل یونٹ کو طلب کرلیتی ہے جو بم کو ناکارہ بنا دیتا ہے۔ یہ بم چھ کلو وزنی تھا اگر دہشت گرد نماز جنازہ ادا کرنے والوں تک پہنچنے میں کامیاب ہوجاتے تو یقیناً ایک بہت بڑا جانی نقصان ہوتا۔ اس نوجوان اور ذہین لڑکے نے اپنی ذہانت کی وجہ سے نماز جنازہ ادا کرنے والوںکو ایک بڑے جانی نقصان سے بچالیا۔ یوں دہشت گردوں کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔
اس وقت پاکستان جس ہمہ جہت انارکی اور خلفشار کا شکار ہے۔اس کی بنیادی وجہ ملک میں جاری دہشت گردی اور فرقہ واریت ہے۔ اس مسئلے کی سنگین اور ملک کے مستقبل پر اس کے اثرات کے پس منظر میں اس مسئلے کا جائزہ لے کر اس کے خلاف متحدہ مزاحمت کا پروگرام بنانے کے بجائے بعض موقع پرست سیاست دان اور کم فہم، تنگ نظر مذہبی رہنما مختلف بے جواز بہانوں کے ساتھ دہشت گردی کی بلا واسطہ یا بالاواسطہ حمایت کررہے ہیں۔ اس دوغلی سیاست کی وجہ سے دہشت گرد اس قدر نڈر ہوگئے ہیں کہ ہر روز سرعام بے گناہ شہریوں کا خون بہا رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ ملک کے حساس اداروں پر بھی حملہ آور ہو کر ریاستی نظام کو مفلوج کر رہے ہیں۔
ایسی سنگین صورت حال میں متحدہ قومی موومنٹ نے دہشت گردی کے خلاف جس کھلی جنگ کا اعلان کیا ہے۔ اس میں کیڑے نکال کر اپنی بزدلی چھپانے کے بجائے ان طاقتوں کو متحدہ کے ساتھ ملاکر دہشت گردی کے خلاف جنگ کا حصہ بننا چاہیے تاکہ وطن عزیز دہشت گردوں سے نجات پا سکے۔ سیاسی جماعتوں کے درمیان اختلافات پیدا ہونا کوئی نئی بات ہے نہ کوئی حیرت کی بات ہے۔ ہر ملک میں سیاسی جماعتوں کے درمیان اختلافات ہوتے ہیں، ان اختلافات کا تعلق ریاست اور حکومت کو زیادہ سے زیادہ عوام کے لیے فائدہ مند بنانے کے طریقہ کار پر ہوتا ہے لیکن جب بات ملک کو قوم کے مستقبل کو لاحق خطرات کی ہوتی ہے تو ساری جماعتیں اپنے اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر متحد ہوجاتی ہیں۔
ہمارے سیاسی کلچر میں کسی بھی سیاسی جماعت کی حمایت اس کے منشور اور پروگرام کے بجائے اس کی قیادت کی خاندانی وجاہت کے حوالے سے کی جاتی ہے۔ اس مائنڈسٹ کی وجہ سے ہمارا ملک اور ہمارا معاشرہ 65 سال سے خاندانی سیاست اور خاندانی حکمرانوں کے عذاب میں مبتلا ہے۔ اس جمود میں اگر کوئی جماعت ایک واضح منشور پروگرام کے ساتھ جو quo status توڑنے پر مبنی ہو آگے آتی ہے تو اپنے تحفظات اور اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر ایسی حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہوتی ہے جوstatus quo کو توڑنے میں معاون ثابت ہو لیکن اس پالیسی یا حمایت کے لیے یہ ضروری ہے کہ ہم status quo کو توڑنے کی اہمیت اور ضرورت سے واقف ہوں۔
کراچی کو منی پاکستان اور معاشی حب کہا جاتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ کراچی ملک کا سیاسی حب بھی ہے۔ اس کی اسی اہمیت کی وجہ سے عوام دشمن مفاد پرست طاقتوں نے اس شہر کو مختلف حوالوں سے اس طرح بانٹ کر رکھ دیا ہے کہ یہ شہر اپنی روایتی اجتماعی طاقت سے محروم ہوکر رہ گیا ہے۔ اس کمزوری سے دہشت گرد واقف بھی ہیں اور فائدہ بھی اٹھارہے ہیں۔ سیاسی اختلافات ہر جماعت کا ایک جمہوری حق ہے لیکن سیاسی اختلافات میں زبان، قومیت فقہہ وغیرہ کے عناصر شامل ہوجاتے ہیں تو یہ اختلافات نہ صرف نقصان میں بدل جاتے ہیں بلکہ جمہوریت کو کمزور اور عوامی مفادات کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ یہی کراچی میں ہورہا ہے۔
6 نومبر کو جناح صاحب کے مزار پر 6کلو بم رکھنے اور شیعہ رہنمائوں کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے، تحریک برائے امن و مذہبی رواداری کے رہنما معراج محمد خان ، اقبال حید،ر فہمیدہ ریاض، ڈاکٹر ٹیپو سلطان وغیرہ نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں دہشت گردی کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اس خدشے کا اظہارکیا ہے کہ عبادت گاہوں اور درگاہوںکے دشمن کہیں مزار قائد کو بم سے اڑانے کی کوشش نہ کریں۔
ہماری سیاست اور جمہوریت کی گاڑی 65 سالوں سے جاگیرداری نظام کی کھائی میں پھنسی ہوئی ہے۔ جب تک ہماری سیاست کو موقع پرست سیاست دانوں اور تنگ نظر مذہبی قیادت سے پاک نہیں کیا جائے گا۔ نہ ہماری سیاست عوامی ہوسکتی ہے نہ ہماری جمہوریت عوامی ہوسکتی ہے جو جماعت اس حقیقت سے واقف ہیں کیا ان کی یہ ذمے داری نہیں کہ وہ عشروں پر پھیلے ہوئے زبانی جمع خرچ سے نکل کر ان سے عوام کو نجات دلانے کے لیے آگے آئیں اور عملی سیاست کا آغاز کریں۔ دنیا کی سیاسی تاریخ یہ اہم قومی مسائل کے حل کے لیے غیر نظریاتی اتحاد بنتے رہے ہیں۔ نظریاتی سیاست کرنے والوں کی سوئی اگر صرف نظریاتی اتحاد پر اٹکی رہے گی تو گاڑی نکل جائے گی اور صرف ہاتھ ملتے رہ جانا پڑے گا۔
ہمارے ملک میں صوبائی حقوق کی پامالی سمیت کئی مسئلے حل طلب ہیں یہی مسائل 65 سال سے اس لیے حل نہیں ہورہے ہیں کہ ہم عقل مند لوگ ان مسائل کے حل کا مطالبہ ان اوتاروں سے کررہے ہیں جنھوں نے یہ مسائل پیدا کیے ہیں اور انھیں باقی رکھنے ہی میں اپنی بقا دیکھتے ہیں۔ اگر ہم ان اہم قومی مسائل کو حل کرنے میں واقعی مخلص ہیں تو سب سے پہلے دہشت گردی اور جاگیرداری کو ختم کرنا ہوگا اور یہ دونوں سنگین مسائل ایک وسیع تر سیاسی اتحاد کے متقاضی ہیں اس ممکنہ اتحاد میں نظریاتی شرط کو نرم کرکے ہر اس جماعت کے ساتھ کھڑے ہونا پڑے گا جو ان دونوں مسئلوں پر ایک واضح موقف رکھتی ہے اور عملی جدوجہد کے لیے تیار ہو۔
ہم نے اپنی زندگی کا دو تہائی سے زیادہ حصہ ظلم و استحصال کے ظالمانہ نظام کے خلاف عملی اور قلمی جدوجہد میں گزارا ہے۔ اس طویل تجرباتی زندگی کے لیے اب ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے ملک و قوم کو جن دو بڑی اور خوفناک بلائوں کو سامنا ہے ان سے نجات کے لیے ایک ایسے وسیع تر اتحاد کی ضرورت ہے جو ان تمام طاقتوں پر مشتمل ہو جو ان دو مسائل کو حل کرنے کی ضرورت سے آگاہ ہیں اور انھیں حل کرنے کے لیے عملی جدوجہد پر تیار ہیں اگر ایسا نہ کیاگیا اور نظریاتی اتحاد کی لکیر پیٹتے رہے تو آنے والی نسلیں ہماری حماقتوں کا خمیازہ بھگتی رہیںگی۔