نئی کاروں کی فروخت گزشتہ 4 ماہ میں 32 فیصد کم ہوگئی
جولائی تااکتوبر 39 ہزار 938 یونٹس بکے، گزشتہ ماہ 3 فیصدکمی سے 9 ہزار397 کاریں فروخت۔
جولائی تااکتوبر 39 ہزار 938 یونٹس بکے، گزشتہ ماہ 3 فیصدکمی سے 9 ہزار397 کاریں فروخت۔ فوٹو: فائل
پاکستان میں تیار کردہ کاروں کی فروخت میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 32 فیصد کمی کا سامنا ہے۔
انڈسٹری ذرائع کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے چار ماہ جولائی تا اکتوبر کے دوران کاروں (بشمول لائٹ کمرشل وہیکل، وینز اور جیپ) کی فروخت 39 ہزار 938 یونٹس رہی جبکہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں 58 ہزار 801 کاریں فروخت کی گئی تھیں، ستمبرکے مقابلے میں اکتوبر کے دوران کاروں کی فروخت میں 3 فیصد کمی ہوئی جو گزشتہ 16 ماہ میں کاروں کی فروخت کی کم ترین سطح ہے، اکتوبر کے مہینے میں مجموعی طور پر 9 ہزار 397 کاریں فروخت کی گئیں۔
ماہرین کے مطابق کاروں کی فروخت میں کمی کے پیچھے کئی عوامل کارفرما ہیں، سال کے آخر میں کاروں کی فروخت میں کمی معمول کے مطابق ہے، خریدار نئے سال کا رجسٹریشن نمبر حاصل کرنے کیلیے جنوری سے خریداری کو ترجیح دیتے ہیں، دوسری جانب مقامی سطح پر تیار کاروں کی قیمت میں مسلسل اضافے کے باعث استعمال شدہ کاروں کی فروخت بڑھ رہی ہے، مقامی سطح پر تیار کی جانے والی کورے اور آلٹو کاروں کی اسمبلنگ رکنے اور پنجاب میں ٹیکسی اسکیم کے آرڈر پورے ہونے سے بھی مقامی سطح پر تیار کاروں کی فروخت کو دبائو کا سامنا ہے۔ اعدادوشمار کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے 4 ماہ کے دوران پاک سوزوکی کی فروخت 35 فیصد کمی سے 22 ہزار 753 یونٹس رہی جبکہ اکتوبر 2012 میں کمپنی کی فروخت اکتوبر 2011 کے مقابلے میں 40 فیصد کمی سے 5094 یونٹس رہی، اسی طرح ستمبر کے مقابلے میں اکتوبر کی فروخت 16فیصد تک کم رہی، انڈس موٹر کمپنی کی فروخت 4 ماہ کے دوران 38فیصد کمی سے 11 ہزار 3 یونٹس رہی۔
انڈسٹری ذرائع کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے چار ماہ جولائی تا اکتوبر کے دوران کاروں (بشمول لائٹ کمرشل وہیکل، وینز اور جیپ) کی فروخت 39 ہزار 938 یونٹس رہی جبکہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں 58 ہزار 801 کاریں فروخت کی گئی تھیں، ستمبرکے مقابلے میں اکتوبر کے دوران کاروں کی فروخت میں 3 فیصد کمی ہوئی جو گزشتہ 16 ماہ میں کاروں کی فروخت کی کم ترین سطح ہے، اکتوبر کے مہینے میں مجموعی طور پر 9 ہزار 397 کاریں فروخت کی گئیں۔
ماہرین کے مطابق کاروں کی فروخت میں کمی کے پیچھے کئی عوامل کارفرما ہیں، سال کے آخر میں کاروں کی فروخت میں کمی معمول کے مطابق ہے، خریدار نئے سال کا رجسٹریشن نمبر حاصل کرنے کیلیے جنوری سے خریداری کو ترجیح دیتے ہیں، دوسری جانب مقامی سطح پر تیار کاروں کی قیمت میں مسلسل اضافے کے باعث استعمال شدہ کاروں کی فروخت بڑھ رہی ہے، مقامی سطح پر تیار کی جانے والی کورے اور آلٹو کاروں کی اسمبلنگ رکنے اور پنجاب میں ٹیکسی اسکیم کے آرڈر پورے ہونے سے بھی مقامی سطح پر تیار کاروں کی فروخت کو دبائو کا سامنا ہے۔ اعدادوشمار کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے 4 ماہ کے دوران پاک سوزوکی کی فروخت 35 فیصد کمی سے 22 ہزار 753 یونٹس رہی جبکہ اکتوبر 2012 میں کمپنی کی فروخت اکتوبر 2011 کے مقابلے میں 40 فیصد کمی سے 5094 یونٹس رہی، اسی طرح ستمبر کے مقابلے میں اکتوبر کی فروخت 16فیصد تک کم رہی، انڈس موٹر کمپنی کی فروخت 4 ماہ کے دوران 38فیصد کمی سے 11 ہزار 3 یونٹس رہی۔