پاک افغان سرحد پر غیرقانونی آمدورفت روکنے کی ضرورت

فوج نے صوبہ خیبرپختونخوا، شمالی، جنوبی وزیرستان اور شوال میں دہشت گردوں کے خلاف بھرپور کامیابی حاصل کی ہے

ضروری ہے کہ پاکستان اور افغانستان اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے مشترکہ پلیٹ فارم تشکیل دیں۔

آئی ایس پی آر کے مطابق خیبرپختونخوا اور فاٹا کی اپیکس کمیٹی کا اجلاس ہفتہ کو پشاور میں ہوا جس میں شوال اور صوبے میں جاری آپریشنز کی پیشرفت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے افغانستان کے ساتھ طورخم اور دیگر کراسنگ پوائنٹس پر بارڈر کراسنگ میکنزم کو پوری طرح بروئے کار لانے، سرحدی علاقہ سے پشاور کے لوگوں کو بھتہ کی کالز کے معاملہ پر وفد افغانستان بھیج کر معاملہ اٹھانے' صوبے میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشنز، عارضی بے گھر افراد کی بحالی سے متعلق امور زیر بحث لائے گئے۔

اس موقع پر آرمی چیف نے فاٹا کے قبائلیوں اور خیبرپختونخوا کے عوام کی ہمت اور حوصلے کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے فاٹا کے بہادر قبائلیوں اور خیبرپختونخوا کے عوام نے دہشتگردوں کے مظالم کا اپنے غیرمتزلزل عزم اور جرات کے ساتھ مقابلہ کیا اور انھیں واپس بھگا کر کونوں کھدروں تک محدود کر دیا جسے بھرپور انداز میں سراہا جانا چاہیے۔ آرمی چیف نے علاقہ کی تعمیر نو اور پورے سماجی اقتصادی انفرااسٹرکچر کی بحالی کے حوالے سے قبائلی بھائیوں کے ساتھ اپنے عزم کی تجدید کی۔ اجلاس کے دوران پاکستانی حدود میں نصب غیرقانونی کمیونیکیشن ٹاورز کو بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔


فوج نے صوبہ خیبرپختونخوا' شمالی، جنوبی وزیرستان اور شوال میں دہشت گردوں کے خلاف بھرپور کامیابی حاصل کی ہے لیکن ابھی بہت سے مراحل باقی ہیں جن میں افغانستان کے ساتھ بارڈر کراسنگ میکنزم کو پوری طرح بروئے کار لانا اور آپریشن سے متاثرہ افراد کی بحالی بھی شامل ہے۔

یہ بات کافی عرصے سے کہی جا رہی تھی کہ افغانستان سے دہشت گرد سرحد پار کر کے پاکستان میں داخل ہو جاتے اور اپنی مذموم کارروائیاں کر کے واپس چلے جاتے ہیں جنھیں روکنا اشد ضروری ہے جب تک اس مسئلے پر قابو نہیں پایا جاتا دہشت گردوں کو سرحد پار سے تقویت ملتی رہے گی دوسری جانب پاکستانی حدود میں غیر قانونی کمیونیکیشن ٹاورز کا موجود ہونا تشویشناک امر ہے۔ دہشت گرد صوبے کے تاجروں سے تاوان وصول کرنے کے لیے ان غیر قانونی کمیونیکیشن ٹاورز کا استعمال کر رہے ہیں۔

پاکستان تو دہشت گردی پر قابو پانے کے لیے اپنے فرائض بخوبی سرانجام دے رہا ہے لیکن افغان حکومت پر بھی یہ ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ نہ صرف داخلی سطح پر دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرے بلکہ سرحد پار ان کی کراسنگ کو بھی روکنے کے لیے اقدامات کرے۔ ضروری ہے کہ پاکستان اور افغانستان اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے مشترکہ پلیٹ فارم تشکیل دیں۔
Load Next Story