سرکاری ملازمین سیاسی شخصیات کی آمرانہ دھونس میں نہ آئیں سپریم کورٹ
سول ملازمین کوآئین کی پاسداری کرناچاہیے،ان کاتقرر،برطرفی وترقی قانونی ہونی چاہیے،تفصیلی فیصلہ
سول ملازمین کوآئین کی پاسداری کرناچاہیے،ان کاتقرر،برطرفی وترقی قانونی ہونی چاہیے،تفصیلی فیصلہ . فوٹو فائل
سپریم کورٹ نے سول ملازمین کوتحفظ دینے کے بارے آئینی درخواست نمٹاکر قراردیاہے کہ سرکاری ملازمین حکومت وقت کے زر خرید غلام نہیں وہ صرف آئین وقانون کے پابندہیں۔
چیف جسٹس نے پیرکومحفوظ فیصلہ سنایاجوجسٹس جوادایس خواجہ نے لکھاہے،فیصلے میں یہ قراردیاگیاہے کہ سول ملازمین کاتقرر،برطرفی اورترقی لازمی طورپرقانون کے مطابق ہونی چاہیے اورجہاںکوئی قانون اورضابطہ نہ ہواورفیصلہ صوابدیدی ہوتوصوابدیدسلیقے سے اورشفاف و بہترین اندازمیں اورعوامی مفادمیں استعمال کی جانی چاہیے،جہاں پرعمومی طورپرمُدتِ ملازمت قانون اورضابطوں میں بیان کردی گئی ہووہاں مذکورہ مُدت کوپوراکیاجاناضروری ہے اوراِ س میں کوئی ردوبدل نہیںکیاجاسکتاسوائے اس کے کہ کوئی اور چارہ کارنہ ہو لیکن ایسی صورت میں وجوہات کوتحریری طورپربیان کیاجاناضروری ہے اوراُس پرقانونی کارروائی کاحق محفوظ ہوناچاہیے۔
سرکاری ملازمین کی پہلی اوراہم ذمے داری قانون اورآئین کی پاسداری ہے وہ اپنے حکامِ بالاکے کسی ایسے حکم کوماننے کے پابندنہیں جوکہ صریحاًغیرقانونی، استبدادی اورعوامی مفادکے برخلاف ہو اور اِس قسم کے حالات میں اختلافی رائے کا اظہار تحریری طور پرکرناچاہیے۔افسران کو ضروری وجوہات کے بغیراو ایس ڈی نہیں بنایا جائے گایہ وجوہات عدالتی دادرسی کے تابع ہوں گی،اگر کسی وجہ سے کسی افسر کواو ایس ڈی بنایا گیا تو اُس کی وہ تقرری ممکن حدتک قلیل مدت کی ہونی چاہیے اور اگر اُس کے خلاف کوئی محکمانہ تادیبی کارروائی چل رہی ہوتواُس کو بھی جلدازجلد مکمل کیا جانا ضروری ہے۔
فیصلے میں کہاگیاہے کہ ہم توثیق کرتے ہیں کہ سرکاری ملازمین کی ذمے داری ہے کہ وہ سیاسی انتظامیہ کے احکام پرعملدرآمدکے ساتھ ساتھ قانون اورآئین کی پاسداری کریں کیونکہ آئین کی دفعہ 5کے تحت دوسرے تمام شہریوں کی طرح اُن کی بھی سب سے اہم ذمے داری''قانون اورآئین کی تابعداری کرناہے''،مگر سیاسی منتظمین کی جانب سے جاری کردہ تمام احکامات کی بلاسوچے سمجھے کہ یہ درست ہیں یاغلط اطاعت کرناضروری نہیں۔اس سلسلے میں وفاقی حکومت کی جانب سے آئین کے آرٹیکل90اور99کے تحت رائج کردہ قواعدِکارِ سرکارمجریہ 1973ء (Rules of Business)کے قاعدہ نمبر(10)کاجائزہ لینا ضروری ہے جس کے مطابق ''جب ایک سیکریٹری وزیرکے روبرو کوئی معاملہ لے کرجاتاہے تو آخر الذکراگرچاہے تو تجویزاور سیکریٹری کے خیالات سے اتفاق کرے اوراگر چاہے تواُسے ردکردے۔سیکریٹری عموماً وزیر کے فیصلے کی تائید اوراس کے نفاذ کا پابند ہے لیکن اگر سیکریٹری یہ محسوس کرے کہ وزیرکافیصلہ مکمل طورپرغلط ہے اوریہ ناانصافی اورغیر ضروری مشکلات کاباعث بنے گاتووہ اپنے تحفظات بیان کرتے ہوئے معاملے کودوبارہ وزیر کے رُوبرو پیش کرسکتاہے۔
اگروزیر پھر بھی قائل نہ ہو اورمعاملہ انتہائی اہمیت کا حامل ہو تو سیکریٹری وزیر سے درخواست کر سکتاہے کہ معاملے کو وزیرِ اعظم کے پاس بھیج دیاجائے۔وزیر مذکورہ معاملہ وزیرِ اعظم کے رُوبرو بھیج دے گا،اگرمعاملہ وزیرِ اعظم کو بھیجا نہیں جاتا تو پھرسیکریٹری انچارج وزیرکے تحفظات کے بیان کے ساتھ معاملہ براہِ راست وزیرِ اعظم کو بھیج دے''بالفاظ دیگر، یہ درست ہے کہ بعض اوقات پالیسی اور ہدایات کانفاذ کرتے ہوئے سرکاری ملازمین کواپنی رائے کے برعکس بھی جانا پڑتاہے۔اس طرح کے حالات میں سرکاری ملازم کو چاہیے کہ وہ اپنی ایماندارانہ اورعاقبت اندیش آراکابلا خوف و خطر ضروراظہار کرے۔واضح رہے کہ سرکاری ملازمین کے تقرر اورملازمت سے متعلق ایسے فیصلے جوکہ قانون کے منافی ہوں اور ظلم پرمبنی ہوں۔
اسی نوعیت کے اہم فیصلے ہیں جن میں جراٗت اوربے باکی سے اظہار رائے کیا جانا چاہیے۔سرکاری ملازمین کا فرض بنتا ہے کہ وہ آزادانہ طور پر اپنی ذمے داریوں سے نبرد آزما ہوں اورسیاسی شخصیات کی ''آمرانہ دھونس'' میں نہ آئیں، آئین کا آرٹیکل 189 وضاحت کرتا ہے کہ ''عدالتِ عظمیٰ کا کوئی بھی فیصلہ جو کہ کسی قانونی نقطے کافیصلہ کرتا ہو اورقانونی نقطہ کی بنیاد پرہو پاکستان کی تمام عدالتیں اس پر عملدرآمد کی پابند ہیں آئین کے آرٹیکل 189اور 190کے تحت سرکاری ملازمین کوحق حاصل ہے کہ وہ عدالت کی جانب سے طے کردہ اِن قانونی اصولوں کے نفاذکیلیے محکمانہ اعتراض دائر کریں یا مجاز عدالت سے قانونی چارہ جوئی کریں۔
اگرکوئی ریاستی عہدہ دار جان بوجھ کراور ڈھٹائی کے ساتھ عدالت کی جانب سے بیان کیے گئے اِن احکامات سے روگردانی کرتاہے توظاہرہے کہ اُسے اِس حرکت سے باز آنا چاہیے ورنہ یاد رہے کہ آرٹیکل 204(2)(a) اس عدالت کو اختیار دیتاہے کہ وہ کسی بھی ایسے شخص کو توہینِ عدالت کی سزادے جو ''اِس عدالت کے احکامات کی حکم عدولی کا مرتکب ہو''اپنے ایک حالیہ فیصلے میں عدالت نے توہینِ عدالت کے قانون کی اہمیت واضح کی ہے۔
چیف جسٹس نے پیرکومحفوظ فیصلہ سنایاجوجسٹس جوادایس خواجہ نے لکھاہے،فیصلے میں یہ قراردیاگیاہے کہ سول ملازمین کاتقرر،برطرفی اورترقی لازمی طورپرقانون کے مطابق ہونی چاہیے اورجہاںکوئی قانون اورضابطہ نہ ہواورفیصلہ صوابدیدی ہوتوصوابدیدسلیقے سے اورشفاف و بہترین اندازمیں اورعوامی مفادمیں استعمال کی جانی چاہیے،جہاں پرعمومی طورپرمُدتِ ملازمت قانون اورضابطوں میں بیان کردی گئی ہووہاں مذکورہ مُدت کوپوراکیاجاناضروری ہے اوراِ س میں کوئی ردوبدل نہیںکیاجاسکتاسوائے اس کے کہ کوئی اور چارہ کارنہ ہو لیکن ایسی صورت میں وجوہات کوتحریری طورپربیان کیاجاناضروری ہے اوراُس پرقانونی کارروائی کاحق محفوظ ہوناچاہیے۔
سرکاری ملازمین کی پہلی اوراہم ذمے داری قانون اورآئین کی پاسداری ہے وہ اپنے حکامِ بالاکے کسی ایسے حکم کوماننے کے پابندنہیں جوکہ صریحاًغیرقانونی، استبدادی اورعوامی مفادکے برخلاف ہو اور اِس قسم کے حالات میں اختلافی رائے کا اظہار تحریری طور پرکرناچاہیے۔افسران کو ضروری وجوہات کے بغیراو ایس ڈی نہیں بنایا جائے گایہ وجوہات عدالتی دادرسی کے تابع ہوں گی،اگر کسی وجہ سے کسی افسر کواو ایس ڈی بنایا گیا تو اُس کی وہ تقرری ممکن حدتک قلیل مدت کی ہونی چاہیے اور اگر اُس کے خلاف کوئی محکمانہ تادیبی کارروائی چل رہی ہوتواُس کو بھی جلدازجلد مکمل کیا جانا ضروری ہے۔
فیصلے میں کہاگیاہے کہ ہم توثیق کرتے ہیں کہ سرکاری ملازمین کی ذمے داری ہے کہ وہ سیاسی انتظامیہ کے احکام پرعملدرآمدکے ساتھ ساتھ قانون اورآئین کی پاسداری کریں کیونکہ آئین کی دفعہ 5کے تحت دوسرے تمام شہریوں کی طرح اُن کی بھی سب سے اہم ذمے داری''قانون اورآئین کی تابعداری کرناہے''،مگر سیاسی منتظمین کی جانب سے جاری کردہ تمام احکامات کی بلاسوچے سمجھے کہ یہ درست ہیں یاغلط اطاعت کرناضروری نہیں۔اس سلسلے میں وفاقی حکومت کی جانب سے آئین کے آرٹیکل90اور99کے تحت رائج کردہ قواعدِکارِ سرکارمجریہ 1973ء (Rules of Business)کے قاعدہ نمبر(10)کاجائزہ لینا ضروری ہے جس کے مطابق ''جب ایک سیکریٹری وزیرکے روبرو کوئی معاملہ لے کرجاتاہے تو آخر الذکراگرچاہے تو تجویزاور سیکریٹری کے خیالات سے اتفاق کرے اوراگر چاہے تواُسے ردکردے۔سیکریٹری عموماً وزیر کے فیصلے کی تائید اوراس کے نفاذ کا پابند ہے لیکن اگر سیکریٹری یہ محسوس کرے کہ وزیرکافیصلہ مکمل طورپرغلط ہے اوریہ ناانصافی اورغیر ضروری مشکلات کاباعث بنے گاتووہ اپنے تحفظات بیان کرتے ہوئے معاملے کودوبارہ وزیر کے رُوبرو پیش کرسکتاہے۔
اگروزیر پھر بھی قائل نہ ہو اورمعاملہ انتہائی اہمیت کا حامل ہو تو سیکریٹری وزیر سے درخواست کر سکتاہے کہ معاملے کو وزیرِ اعظم کے پاس بھیج دیاجائے۔وزیر مذکورہ معاملہ وزیرِ اعظم کے رُوبرو بھیج دے گا،اگرمعاملہ وزیرِ اعظم کو بھیجا نہیں جاتا تو پھرسیکریٹری انچارج وزیرکے تحفظات کے بیان کے ساتھ معاملہ براہِ راست وزیرِ اعظم کو بھیج دے''بالفاظ دیگر، یہ درست ہے کہ بعض اوقات پالیسی اور ہدایات کانفاذ کرتے ہوئے سرکاری ملازمین کواپنی رائے کے برعکس بھی جانا پڑتاہے۔اس طرح کے حالات میں سرکاری ملازم کو چاہیے کہ وہ اپنی ایماندارانہ اورعاقبت اندیش آراکابلا خوف و خطر ضروراظہار کرے۔واضح رہے کہ سرکاری ملازمین کے تقرر اورملازمت سے متعلق ایسے فیصلے جوکہ قانون کے منافی ہوں اور ظلم پرمبنی ہوں۔
اسی نوعیت کے اہم فیصلے ہیں جن میں جراٗت اوربے باکی سے اظہار رائے کیا جانا چاہیے۔سرکاری ملازمین کا فرض بنتا ہے کہ وہ آزادانہ طور پر اپنی ذمے داریوں سے نبرد آزما ہوں اورسیاسی شخصیات کی ''آمرانہ دھونس'' میں نہ آئیں، آئین کا آرٹیکل 189 وضاحت کرتا ہے کہ ''عدالتِ عظمیٰ کا کوئی بھی فیصلہ جو کہ کسی قانونی نقطے کافیصلہ کرتا ہو اورقانونی نقطہ کی بنیاد پرہو پاکستان کی تمام عدالتیں اس پر عملدرآمد کی پابند ہیں آئین کے آرٹیکل 189اور 190کے تحت سرکاری ملازمین کوحق حاصل ہے کہ وہ عدالت کی جانب سے طے کردہ اِن قانونی اصولوں کے نفاذکیلیے محکمانہ اعتراض دائر کریں یا مجاز عدالت سے قانونی چارہ جوئی کریں۔
اگرکوئی ریاستی عہدہ دار جان بوجھ کراور ڈھٹائی کے ساتھ عدالت کی جانب سے بیان کیے گئے اِن احکامات سے روگردانی کرتاہے توظاہرہے کہ اُسے اِس حرکت سے باز آنا چاہیے ورنہ یاد رہے کہ آرٹیکل 204(2)(a) اس عدالت کو اختیار دیتاہے کہ وہ کسی بھی ایسے شخص کو توہینِ عدالت کی سزادے جو ''اِس عدالت کے احکامات کی حکم عدولی کا مرتکب ہو''اپنے ایک حالیہ فیصلے میں عدالت نے توہینِ عدالت کے قانون کی اہمیت واضح کی ہے۔