غیر قانونی تارکین وطن کی واپسی
یونان میں یورپی سرحدوں کی محافظ ایجنسی فرنٹیکس ملک بدریوں کے عمل کی نگرانی کر رہی ہے
ترکی پہنچنے والے زیادہ تر مہاجرین پاکستانی ہیں جو بہتر زندگی کی تمنا اور تلاش میں بے گھر ہوئے فوٹو : فائل
ISLAMABAD:
دہشتگردی کے عالمی عفریت نے ایشیا،افریقہ اور مشرق وسطیٰ سمیت دیگر مغربی ملکوں سے یورپ اور امریکا نقل مکانی کرنے والوں کو جن مصائب و آلام کا شکار بنادیا ہے اسے کوئی درد مند انسان نظر انداز نہیں کرسکتا، اس لیے اکیسویں صدی کو بلاشبہ تارکین وطن کی بے خانمائی، بے وطنی اور بیگانگی کے بدترین دورانیہ سے تعبیر کیا جاسکتا ہے۔
جس میں جنگ ، تشدد، ایذا رسانی ، اسلحہ کی تجارت ، عالمی وسائل پر قبضہ اور سیاسی واقتصادی اجارہ داری کی جنگ نے نسل انسانی اور جمہوری نظام کے لیے خطرات میں بے پناہ اضافہ کردیا ہے جس سے ہر ملک پریشان ہے ،جرمنی نے نقل مکانی کرنے والوں کے لیے دل کے دروازے کھول دیے تھے مگر اسے بھی دیگر یورپی ملکوں کی طرح تارکین وطن کی یلغار کے سامنے بند باندھنے پر مجبور ہونا پڑا اور ملک بدری کے جبر اور اندیشہ کا اب تمام تارکین وطن کو سامنا ہے۔
چنانچہ یورپی یونین اور ترکی کے مابین گزشتہ ماہ طے پانے والے معاہدے کے تحت یونان سے غیر قانونی تارکین وطن کی ترکی واپسی کا عمل شروع ہو گیا ہے اور پہلی کشتی میں50 پاکستانیوں سمیت تقریباً131مہاجرین کو یونان سے ترکی بھیجا گیا جو ترک علاقے دکیلی پہنچ گئے' جزائر لیس بوس اور شیوش سے یونانی حکام نے سخت سیکیورٹی میں روانہ کیا گیا جب کہ یونانی حکام نے اعلان کیا ہے کہ منگل اور کل بدھ کو مزید 250 پاکستانی، سری لنکن، افریقی اور بنگلہ دیشی تارکین وطن کو ترکی بھیجا جائیگا۔ ترک حکام کے بقول ان پناہ گزینوں کو ترک علاقے دکیلی میں عارضی قیام کے بعد چشمے نامی ایک اور ساحلی شہر منتقل کر دیا جائے گا اور وہاں سے انھیں مزید آگے روانہ کیا جائے گا۔
یونان میں یورپی سرحدوں کی محافظ ایجنسی فرنٹیکس ملک بدریوں کے عمل کی نگرانی کر رہی ہے۔ ترک وزیر داخلہ افکان آلا نے کہا کہ یونان سے واپس آنے والے ایسے غیر قانونی تارکین وطن جن کا تعلق پاکستان، افغانستان یا عراق سے ہو گا، انھیں ان کے آبائی وطنوں کی جانب واپس بھیج دیا جائے گا جب کہ شامی مہاجرین کو ترکی کے مختلف شہروں میں قائم پناہ گزینوں کے کیمپوں میں بھیج دیا جائے گا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ترکی پہنچنے والے زیادہ تر مہاجرین پاکستانی ہیں جو بہتر زندگی کی تمنا اور تلاش میں بے گھر ہوئے۔ نقل مکانی ایک اذیت ناک انسانی المیہ ہے، جب کہ جنگوں اور دہشتگردی و پرتشدد واقعات کے بھنور میں پھنسے ممالک کے بے آسرا اور ترک وطن پر مجبور خاندان جن مشکلات کا شکار ہیں ان کی آبادکاری و بحالی پر عالمی برادری کو فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
دہشتگردی کے عالمی عفریت نے ایشیا،افریقہ اور مشرق وسطیٰ سمیت دیگر مغربی ملکوں سے یورپ اور امریکا نقل مکانی کرنے والوں کو جن مصائب و آلام کا شکار بنادیا ہے اسے کوئی درد مند انسان نظر انداز نہیں کرسکتا، اس لیے اکیسویں صدی کو بلاشبہ تارکین وطن کی بے خانمائی، بے وطنی اور بیگانگی کے بدترین دورانیہ سے تعبیر کیا جاسکتا ہے۔
جس میں جنگ ، تشدد، ایذا رسانی ، اسلحہ کی تجارت ، عالمی وسائل پر قبضہ اور سیاسی واقتصادی اجارہ داری کی جنگ نے نسل انسانی اور جمہوری نظام کے لیے خطرات میں بے پناہ اضافہ کردیا ہے جس سے ہر ملک پریشان ہے ،جرمنی نے نقل مکانی کرنے والوں کے لیے دل کے دروازے کھول دیے تھے مگر اسے بھی دیگر یورپی ملکوں کی طرح تارکین وطن کی یلغار کے سامنے بند باندھنے پر مجبور ہونا پڑا اور ملک بدری کے جبر اور اندیشہ کا اب تمام تارکین وطن کو سامنا ہے۔
چنانچہ یورپی یونین اور ترکی کے مابین گزشتہ ماہ طے پانے والے معاہدے کے تحت یونان سے غیر قانونی تارکین وطن کی ترکی واپسی کا عمل شروع ہو گیا ہے اور پہلی کشتی میں50 پاکستانیوں سمیت تقریباً131مہاجرین کو یونان سے ترکی بھیجا گیا جو ترک علاقے دکیلی پہنچ گئے' جزائر لیس بوس اور شیوش سے یونانی حکام نے سخت سیکیورٹی میں روانہ کیا گیا جب کہ یونانی حکام نے اعلان کیا ہے کہ منگل اور کل بدھ کو مزید 250 پاکستانی، سری لنکن، افریقی اور بنگلہ دیشی تارکین وطن کو ترکی بھیجا جائیگا۔ ترک حکام کے بقول ان پناہ گزینوں کو ترک علاقے دکیلی میں عارضی قیام کے بعد چشمے نامی ایک اور ساحلی شہر منتقل کر دیا جائے گا اور وہاں سے انھیں مزید آگے روانہ کیا جائے گا۔
یونان میں یورپی سرحدوں کی محافظ ایجنسی فرنٹیکس ملک بدریوں کے عمل کی نگرانی کر رہی ہے۔ ترک وزیر داخلہ افکان آلا نے کہا کہ یونان سے واپس آنے والے ایسے غیر قانونی تارکین وطن جن کا تعلق پاکستان، افغانستان یا عراق سے ہو گا، انھیں ان کے آبائی وطنوں کی جانب واپس بھیج دیا جائے گا جب کہ شامی مہاجرین کو ترکی کے مختلف شہروں میں قائم پناہ گزینوں کے کیمپوں میں بھیج دیا جائے گا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ترکی پہنچنے والے زیادہ تر مہاجرین پاکستانی ہیں جو بہتر زندگی کی تمنا اور تلاش میں بے گھر ہوئے۔ نقل مکانی ایک اذیت ناک انسانی المیہ ہے، جب کہ جنگوں اور دہشتگردی و پرتشدد واقعات کے بھنور میں پھنسے ممالک کے بے آسرا اور ترک وطن پر مجبور خاندان جن مشکلات کا شکار ہیں ان کی آبادکاری و بحالی پر عالمی برادری کو فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔