کثرت اور قلت کے جلوے
دنیا میں اس وقت جہاں جایے قلت قلت کی صدائیں گونج رہی ہیں
barq@email.com
ایک عجیب اور ساتھ ہی غریب سی بات یہ ہے کہ دنیا میں اس وقت جہاں جایے قلت قلت کی صدائیں گونج رہی ہیں بلکہ بہت سارے ملکوں میں سے تو خطرہ خطرہ چلانے کی آوازیں بھی آرہی ہیں۔ خوراک کم ہو رہی ہے، پانی کی قلت ہو رہی ہے، جنگل کم ہو رہے ہیں، درختوں کی اور سبزہ و گل کی کمی واقع ہو رہی ہے، شیر کی نسل کو خطرہ ہے، ہاتھی تیزی سے ختم ہو رہے ہیں، بطخیں مرغیاں حتیٰ کہ کوے چیل بھی کم ہو رہے ہیں، ''فاختے'' تو تقریباً ختم ہی ہو چکی ہیں اور بے چارا خلیل خان فاختاؤں کے بجائے کوے اڑا رہا ہے حتیٰ کہ ''الو'' اور الو کے ''پٹھے'' بھی ناپید ہو رہے ہیں۔
یورپ اور امریکا میں تو ''الوؤں اور الوؤں کے پٹھوں'' کا نام و نشان تک مٹ چکا ہے، چنانچہ وہ بے چارے مشرقی ملکوں اور ان کے لیڈروں کو الو بنا کر گزارہ کر رہے ہیں یا شوق پورا کر رہے ہیں جس کے ردعمل میں الو ''ممالک'' کے الو ''لیڈر'' اپنے عوام کو بڑے پیمانے پر ''الو'' بنا رہے ہیں، حالانکہ اس الو در الو اور پٹھے در پٹھے در پٹھے بنانے میں ان امریکی اور یورپی ممالک کو زرکثیر بھی خرچ کرنا پڑ رہا ہے لیکن کیا کیا جائے مجبوری ہے ان کے ہاں الو نامہ اور الو کے پٹھے ناپید جو ہو گئے ہیں۔
مطلب کہنے کا یہ ہے کہ دنیا کے بیشتر ممالک ''قلت'' کا رونا رو رہے ہیں لیکن یہ کتنی خوش بختی کی بات ہے کہ ہمارے ہاں کسی بھی چیز کی نہ قلت ہے نہ کمی ۔۔۔ سب کچھ خدا نے اتنا وافر دے رکھا ہے کہ اپنی ضروریات بھی پوری ہو جاتی ہے اور دساور کو بھیج کر اچھا خاصا زرکثیر بھی کما لیتے ہیں، پانی بہت ہے، مٹی بہت ہے، غذائی اشیاء اتنی ہیں کہ کوڑے کے ڈرم تک بھر جاتے ہیں، دنیا کی ساری حیوان پرجاتیاں جسے چرند پرند اور ورند تک شکم سیر ہو جاتے ہیں اور پیسہ؟ ۔۔۔۔ پیسہ تو اتنا زیادہ ہے کہ گوپھن لے کر چاروں طرف پھینکیں تو بھی ختم نہ ہو گا بلکہ سچ تو یہ ہے کہ آج کل ہم یہی تو کر رہے ہیں۔
خصوصاً حکومتیں تو سارے کام چھوڑ چھاڑ کر اس کام کو پہلی بلکہ پہلی سے بھی کچھ اور پہلی اور پھر اس سے بھی پہلی ترجیح اس بات کو بنائے بیٹھی ہیں کہ کس طرح اس کم بخت پیس کو ٹھکانے لگانے کے لیے تگ و دو کریں۔ یوں کہیے کہ خدا کے فضل و کرم، امریکا کے دم قدم اور آئی ایم ایف کے دام و درہم کی وجہ سے ہر چیز میں برکت ہی برکت، کثرت ہی کثرت اور اضافت ہی اضافت ہے۔
پیسے کے بعد لیڈروں کا درجہ آتا ہے جو ہماری دوسری بڑی کیش کراپ ہے جو ہمارے ہاں اتنی کثرت سے ہیں کہ اگر روزانہ ہزار دو ہزار مختلف آلات آتشین سے ٹھکانے بھی لگانا شروع کر دیں تو کوئی بھی کمی واقع نہیں ہو گی بلکہ ہو سکتا ہے اور بھی زیادہ کثرت ہو جائے کیوں کہ اس جنس میں ایک کی جگہ دو اور دو کی جگہ چار بلکہ زیادہ ''پھٹ'' آنے کا رجحان بھی ہوتا ہے اور شہادت کے لیے کسی بھی پارٹی کو دیکھیں جہاں کبھی ایک تھا آج وہاں انیک ہیں، ارے ہاں پارٹیوں سے یاد آیا تو تو پہلی دو فصلوں سے بھی زیادہ اضافہ خیز فصل ہے۔
قریب قریب لیڈروں سے دگنی تو پارٹیوں کی تعداد ہو گی اور ابھی یہ سلسلہ رکا ہوا نہیں ہے کیوں کہ اس مٹی کی زرخیزی کے بارے میں تو علامہ اقبال کو بھی پتہ تھا لیکن ''شر خیزی'' کا پتہ صرف ہمیں ہی ہے کیوں کہ ہم ایسے بہت سے لوگوں کو جانتے ہیں بلکہ جانتے بھی ہیں جو بیک وقت کئی کئی پارٹیاں ''استعمال'' کر رہے ہیں، قصہ مختصر یہ کہ اگر دو لفظوں میں کہا جائے تو ہمارا ملک ان خوش نصیب ملکوں میں سے ایک بلکہ صرف ایک ہے جہاں کسی بھی چیز کی قلت نہیں ہے، یوں کہیے کہ اس کی مثال ''گوہر بائی'' جیسی ہے جس کے بارے میں اکبر الہ آبادی نے کہا تھا
خوش نصیب اور یہاں کون ہے گوہر کے سوا
سب کچھ اللہ نے دے رکھا ہے شوہر کے سوا
گوہر بائی کے پاس سب کچھ ہونے کے باوجود ایک شوہر کی کمی تھی لیکن اپنی مملکت گوہر جان سے بھی زیادہ خوش قسمت ہے کہ ایک تو کیا انیک شوہروں کی اکیلی اور بلا شرکت غیرے نتھو خیرے مالک ہے، بلکہ کہیے کہ یہاں بھی قلت کے بجائے کثرت ہی کثرت کے جلوے ہیں، فارسی میں ایسی خوش نصیب خاتون کو عروس ہزار داماد کہا جاتا ہے جیسے حافظ نے کہا ہے کہ
مجو درستی عہد از جہان ست نہاد
کہ این عجوزہ عروس ہزار داماد است
''داماد'' فارسی میں شوہر کو بھی کہا جاتا ہے اور حافظ شیرازی نے اس دنیا کے بارے میں کہا ہے کہ اس سے وفا کی امید مت رکھ کہ یہ ہزار شوہروں کی منکوحہ ہے، حساب کی رو سے کہا جائے تو اپنی مملکت اس پوری دنیا سے بھی زیادہ مالدار بل کہ ''شوہر دار'' ہے کیوں کہ اس کے جائز اور ناجائز شوہروں کی تعداد ہزاروں سے بڑھ کر لاکھوں تک ہے اور مزید خوش بختی کی بات یہ ہے کہ ہر ایک اس سے وہی سلوک کرتا ہے جو اپنے ہاں بیوی کے ساتھ کرنے کا رجحان عام ہے، یعنی اسے پاؤں کی جوتی سے زیادہ حیثیت ملی ہی نہیں ہے۔
یورپ اور امریکا میں تو ''الوؤں اور الوؤں کے پٹھوں'' کا نام و نشان تک مٹ چکا ہے، چنانچہ وہ بے چارے مشرقی ملکوں اور ان کے لیڈروں کو الو بنا کر گزارہ کر رہے ہیں یا شوق پورا کر رہے ہیں جس کے ردعمل میں الو ''ممالک'' کے الو ''لیڈر'' اپنے عوام کو بڑے پیمانے پر ''الو'' بنا رہے ہیں، حالانکہ اس الو در الو اور پٹھے در پٹھے در پٹھے بنانے میں ان امریکی اور یورپی ممالک کو زرکثیر بھی خرچ کرنا پڑ رہا ہے لیکن کیا کیا جائے مجبوری ہے ان کے ہاں الو نامہ اور الو کے پٹھے ناپید جو ہو گئے ہیں۔
مطلب کہنے کا یہ ہے کہ دنیا کے بیشتر ممالک ''قلت'' کا رونا رو رہے ہیں لیکن یہ کتنی خوش بختی کی بات ہے کہ ہمارے ہاں کسی بھی چیز کی نہ قلت ہے نہ کمی ۔۔۔ سب کچھ خدا نے اتنا وافر دے رکھا ہے کہ اپنی ضروریات بھی پوری ہو جاتی ہے اور دساور کو بھیج کر اچھا خاصا زرکثیر بھی کما لیتے ہیں، پانی بہت ہے، مٹی بہت ہے، غذائی اشیاء اتنی ہیں کہ کوڑے کے ڈرم تک بھر جاتے ہیں، دنیا کی ساری حیوان پرجاتیاں جسے چرند پرند اور ورند تک شکم سیر ہو جاتے ہیں اور پیسہ؟ ۔۔۔۔ پیسہ تو اتنا زیادہ ہے کہ گوپھن لے کر چاروں طرف پھینکیں تو بھی ختم نہ ہو گا بلکہ سچ تو یہ ہے کہ آج کل ہم یہی تو کر رہے ہیں۔
خصوصاً حکومتیں تو سارے کام چھوڑ چھاڑ کر اس کام کو پہلی بلکہ پہلی سے بھی کچھ اور پہلی اور پھر اس سے بھی پہلی ترجیح اس بات کو بنائے بیٹھی ہیں کہ کس طرح اس کم بخت پیس کو ٹھکانے لگانے کے لیے تگ و دو کریں۔ یوں کہیے کہ خدا کے فضل و کرم، امریکا کے دم قدم اور آئی ایم ایف کے دام و درہم کی وجہ سے ہر چیز میں برکت ہی برکت، کثرت ہی کثرت اور اضافت ہی اضافت ہے۔
پیسے کے بعد لیڈروں کا درجہ آتا ہے جو ہماری دوسری بڑی کیش کراپ ہے جو ہمارے ہاں اتنی کثرت سے ہیں کہ اگر روزانہ ہزار دو ہزار مختلف آلات آتشین سے ٹھکانے بھی لگانا شروع کر دیں تو کوئی بھی کمی واقع نہیں ہو گی بلکہ ہو سکتا ہے اور بھی زیادہ کثرت ہو جائے کیوں کہ اس جنس میں ایک کی جگہ دو اور دو کی جگہ چار بلکہ زیادہ ''پھٹ'' آنے کا رجحان بھی ہوتا ہے اور شہادت کے لیے کسی بھی پارٹی کو دیکھیں جہاں کبھی ایک تھا آج وہاں انیک ہیں، ارے ہاں پارٹیوں سے یاد آیا تو تو پہلی دو فصلوں سے بھی زیادہ اضافہ خیز فصل ہے۔
قریب قریب لیڈروں سے دگنی تو پارٹیوں کی تعداد ہو گی اور ابھی یہ سلسلہ رکا ہوا نہیں ہے کیوں کہ اس مٹی کی زرخیزی کے بارے میں تو علامہ اقبال کو بھی پتہ تھا لیکن ''شر خیزی'' کا پتہ صرف ہمیں ہی ہے کیوں کہ ہم ایسے بہت سے لوگوں کو جانتے ہیں بلکہ جانتے بھی ہیں جو بیک وقت کئی کئی پارٹیاں ''استعمال'' کر رہے ہیں، قصہ مختصر یہ کہ اگر دو لفظوں میں کہا جائے تو ہمارا ملک ان خوش نصیب ملکوں میں سے ایک بلکہ صرف ایک ہے جہاں کسی بھی چیز کی قلت نہیں ہے، یوں کہیے کہ اس کی مثال ''گوہر بائی'' جیسی ہے جس کے بارے میں اکبر الہ آبادی نے کہا تھا
خوش نصیب اور یہاں کون ہے گوہر کے سوا
سب کچھ اللہ نے دے رکھا ہے شوہر کے سوا
گوہر بائی کے پاس سب کچھ ہونے کے باوجود ایک شوہر کی کمی تھی لیکن اپنی مملکت گوہر جان سے بھی زیادہ خوش قسمت ہے کہ ایک تو کیا انیک شوہروں کی اکیلی اور بلا شرکت غیرے نتھو خیرے مالک ہے، بلکہ کہیے کہ یہاں بھی قلت کے بجائے کثرت ہی کثرت کے جلوے ہیں، فارسی میں ایسی خوش نصیب خاتون کو عروس ہزار داماد کہا جاتا ہے جیسے حافظ نے کہا ہے کہ
مجو درستی عہد از جہان ست نہاد
کہ این عجوزہ عروس ہزار داماد است
''داماد'' فارسی میں شوہر کو بھی کہا جاتا ہے اور حافظ شیرازی نے اس دنیا کے بارے میں کہا ہے کہ اس سے وفا کی امید مت رکھ کہ یہ ہزار شوہروں کی منکوحہ ہے، حساب کی رو سے کہا جائے تو اپنی مملکت اس پوری دنیا سے بھی زیادہ مالدار بل کہ ''شوہر دار'' ہے کیوں کہ اس کے جائز اور ناجائز شوہروں کی تعداد ہزاروں سے بڑھ کر لاکھوں تک ہے اور مزید خوش بختی کی بات یہ ہے کہ ہر ایک اس سے وہی سلوک کرتا ہے جو اپنے ہاں بیوی کے ساتھ کرنے کا رجحان عام ہے، یعنی اسے پاؤں کی جوتی سے زیادہ حیثیت ملی ہی نہیں ہے۔