مذہبی یکجہتی انسان کی ضرورت
یہ پچاس سال سے زائد عرصے پہلے کی بات ہے اگرچہ ہندوستان تقسیم ہو چکا تھا
zaheer_akhter_beedri@yahoo.com
یہ پچاس سال سے زائد عرصے پہلے کی بات ہے اگرچہ ہندوستان تقسیم ہو چکا تھا اور بڑے پیمانے پر قتل و غارت کا ارتکاب بھی کر لیا گیا تھا لیکن بھارتی ہندوؤں کی اکثریت مذہبی بھائی چارے کی حامی تھی۔
اس حوالے سے عملی اقدامات کے طور پر ہندو مسلمانوں کی مذہبی تقریبات میں حصہ لیتے تھے اور مسلمان بھی ہندوؤں کی مذہبی تقریبات میں شریک ہوتے تھے۔ خاص طور پر دیوالی اور راکھی بندھن کی تقریبات میں شرکت عام تھی۔ اسی طرح ہندو برادری محرم، عیدالفطر اور شب برأت کی تقریبات میں شامل رہتی تھی۔ ہندو دھرم میں چھوت چھات کی روایتیں بڑی مضبوط تھیں اگر کسی نام نہاد اونچی جاتی کے ہندو کے پانی کے مٹکے کو مسلمان کا ہاتھ لگ جاتا تو مٹکے کا سارا پانی پھینک دیا جاتا تھا اگر کسی مسلمان کا ہاتھ نام نہاد اونچی جاتی کے کسی ہندو کو لگ جائے تو اشنان (غسل) ضروری ہو جاتا تھا۔
اس زمانے میں اناج راشن کارڈ پر ملتا تھا ہماری راشن کی دو دکانیں تھیں اور دونوں میں ہماری ہندو دوستوں سے پارٹنر شپ تھی ایک کا نام پانڈیا دوسرے کا ایشوریا تھا۔ میں یہ بات پارٹیشن کے بعد کی بتا رہا ہوں ہمارے درمیان مذہبی یکجہتی کا عالم یہ تھا کہ ہم ہندو دوستوں کے کچن میں بیٹھ کر کھانا کھاتے تھے اور ہندو دوست ہمارے ڈائننگ ٹیبل پر ہمارے ساتھ ہوتے تھے عیدین اور محرم کا چاند ہندو مسلمان ساتھ ساتھ دیکھتے تھے اور چاند کی مبارکباد پیش کرتے تھے جب میں 1980ء میں انڈیا گیا تو میں نے ان دونوں قوموں میں اور زیادہ یکجہتی کا مظاہرہ دیکھا۔
پاکستان کے دیہی علاقوں میں بھی ان مذاہب کے پیروکاروں کے درمیان اتحاد اور یکجہتی موجود تھی لیکن پچھلے کچھ عرصے سے حکمرانوں اور سیاستدانوں کی طرف سے مذہبی یکجہتی کے مظاہرے اس طرح کیے جا رہے ہیں کہ یہ حضرات دیوالی، ہولی وغیرہ کی ہندوؤں کی مذہبی تقاریب کے ساتھ ساتھ عیسائی بھائیوں کی مذہبی تقریبات مثلاً کرسمس، ایسٹر وغیرہ میں شرکت کر رہے ہیں ۔ حکومت سندھ نے تو اس حوالے سے یہ بہتر اور قابل تعریف اقدام یہ کیا ہے کہ ہندوؤں کی مذہبی تقریبات پر عام تعطیل کا اعلان کر دیا ہے، جس کی ابتدا حال ہی میں منائی والی ہولی سے کی گئی ہے۔
ہو سکتا ہے کچھ مذہبی انتہا پسندوں کو یہ روایات پسند نہ آئیں لیکن عام آدمی کی یہی خواہش ہے کہ پاکستان کی مذہبی اقلیتوں کے ساتھ مذہبی رواداری میں اضافہ ہو اور ان کے درمیان نفرتوں تعصبات کا خاتمہ ہو۔ کیتھولک عیسائیوں کے رہنما پوپ فرانسس نے مسلمان مہاجرین کے پاؤں دھو کر اور ان کے پاؤں پر بوسہ دے کر جس مذہبی فراخدلی کا مظاہرہ کیا ہے وہ قابل قدر ہے۔
ہو سکتا ہے بعض حلقے پوپ فرانسس کے اس اقدام کو اپنے مذہب کے لیے پروپیگنڈے سے تعبیر کریں، اگر یہ اقدام پوپ فرانسس نے اپنے مذہب کے پروپیگنڈے کے لیے بھی کیا ہے تو اس کے عام آدمی تک پہنچنے والے مثبت اثرات سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ بدقسمتی سے کرہ ارض کے انسانوں کا ماضی مذہب کے حوالے سے بڑا مایوس کن رہا ہے اور صلیبی جنگوں نے مذہب کے حوالے سے مسلمانوں کے ذہنوں میں تحفظات اور خدشات بھی پیدا کیے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ماضی کے یہ دلخراش واقعات یادوں سے محو ہوتے گئے لیکن سیاستدانوں اور حکمرانوں کے مفادات نے ابھی تک ایسے مسائل کھڑے کر رکھے ہیں جو عوام میں مذہبی مخاصمت اور مذہبی انتہا پسندوں میں دہشت گردی کے کلچر کو فروغ دینے میں آسانیاں فراہم کر دی ہیں۔
اس حوالے سے ہم کشمیر اور فلسطین کے مسائل کا حوالہ دے سکتے ہیں جو ہندوؤں اور مسلمانوں میں عدم اعتماد اور شکوک و شبہات پیدا کرنے کا سبب بن رہے ہیں جن کا ازالہ انسانوں کی اجتماعی بھلائی کے لیے ضروری ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مذہبی انتہا پسندوں کی تعداد اعتدال پسند عوام میں آٹے میں نمک کے برابر ہے لیکن مذہب کے نام پر یہ گروہ تیزی کے ساتھ اعتدال پسند اکثریت کو ہر جگہ یرغمال بنائے ہوئے ہیں۔
مسلم انتہا پسندی کے بعد انسانی تہذیب کو ہندو انتہا پسندی سے خطرہ لاحق ہو رہا ہے۔ بھارت میں بی جے پی کی حکومت کے آنے کے بعد بھارت میں تیزی کے ساتھ ہندو انتہا پسندی فروغ پا رہی ہے۔ بی جے پی، آر ایس ایس اور شیو سینا جیسی سفاک جماعتیں بھارت میں مذہبی انتہا پسندی کا زہر پھیلا رہی ہیں لیکن یقین کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ یہ شیطانی طاقتیں اپنے ناپاک مقاصد میں اس لیے کامیاب نہیں ہو سکتیں کہ بھارت میں اہل علم اہل دانش بیدار ہیں اور بی جے پی کی سیاست کے خلاف شدت سے آواز اٹھا رہی ہیں۔
ان کے علاوہ سول سوسائٹی اور پاک بھارت دوستی کی علمبردار طاقتیں اور اعتدال پسند عوام کی اکثریت مذہبی انتہا پسندوں کی راہ میں آہنی دیوار کی طرح کھڑی ہے۔ بدقسمتی سے بھارتی میڈیا کا کردار اس حوالے سے بہت مایوس کن ہے۔ آج کی جدید دنیا میں میڈیا خاص طور پر الیکٹرانک میڈیا مثبت سمت میں رائے عامہ کی تشکیل میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے لیکن دنیا کے سرمایہ داروں کی طرح بھارتی سرمایہ داروں کے مفادات کا یہی تقاضا ہے کہ عوام ایک دوسرے کے ساتھ برسر پیکار رہیں اور انھیں مذہب و ملت کے نام پر تقسیم کر کے رکھا جائے۔
مذہبی انتہا پسندی اگرچہ آج کی ایک بدنما حقیقت ہے لیکن بیسویں صدی کی ترقی خاص کر سائنس اور ٹیکنالوجی اور آئی ٹی کے شعبوں میں ہونے والی ترقی نے ہزاروں سال پر مشتمل نظریات اور عقائد کو بے جواز بنا کر رکھ دیا ہے، اب انسان عقائد و نظریات کی نئی تقسیم پر مجبور ہو رہا ہے۔ چاند کی تسخیر کے بعد اب انسان مریخ کے سفر پر روانہ ہو گیا ہے مریخ زمین سے کس قدر دور ہے اس کا اندازہ یوں لگایا جا سکتا ہے کہ ہزاروں کلو میٹر فی منٹ کی رفتار سے خلائی گاڑی کو مریخ کی طرف لے جانے والے راکٹ کو مریخ تک پہنچنے کے لیے 7 ماہ لگیں گے۔
خلائی مشن پر جانے والے یہ دو انسان مریخ کی زمین اور مریخ پر ہوا، پانی کی موجودگی کا جائزہ لیں گے اگر مریخ پر زندگی کے لوازمات موجود ہوں تو پھر انسان مریخ پر بستیاں بسانے میں مصروف ہو جائے گا۔ مریخ کے اس مشن کا حوالہ ہم نے اس لیے دیا ہے کہ زمین ہی کو کل کائنات سمجھنے اور اس حوالے سے اپنے نظریات و عقائد کی تشکیل دینے والے انسان کو یہ احساس ہو کہ ''آسمان سے آگے جہاں اور بھی ہیں۔'' اس حقیقت کو ماننے کے بعد مذہبی انتہا پسندی کا تصور حرف غلط کی طرح مٹ جائے گا۔ اور انسان کو یہ احساس ہو گا کہ کرہ ارض پر رہنے والے انسان کے پاس مذہبی بھائی چارے محبت یگانگت کے علاوہ دوسرے تمام جذبات بے معنی اور انسان دشمنی کے علاوہ کچھ نہیں۔
ہزاروں سالوں سے انسان مذہب کے حوالے سے ایک دوسرے سے تعصب اور نفرت کرتا چلا آ رہا ہے اب اس کلچر کا کوئی جواز باقی نہیں رہتا لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ ہماری درسی کتابوں میں کائناتی حقیقتوں کو شامل کیا جائے اور نوجوان نسل کو یہ بتایا جائے کہ زمین ہی کل کائنات ہے کے مفروضے پر تشکیل دیے جانے والے عقائد و نظریات بے معنی اور بے جواز ہیں کرہ ارض پر رہنے والے انسان کے لیے پرسکون اور محبت اور بھائی چارے کی زندگی کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں ہے۔
مذہبی انتہا پسندی اور مختلف حوالوں سے انسانی تقسیم بے معنی اور بے جواز ہے۔ کرہ ارض پر انسانی زندگی کو جہنم بنانے میں انسانوں کی مختلف حوالوں سے تقسیم سب سے بڑا فیکٹر ہے ہر انسان کو اپنے مذہب کا احترام کرنے کا حق ہے لیکن یہ حق دوسرے مذاہب کا احترام کرنے سے مشروط ہے یہی کلچر کرہ ارض کو انسان کے لیے جنت بنا سکتا ہے۔
اس حوالے سے عملی اقدامات کے طور پر ہندو مسلمانوں کی مذہبی تقریبات میں حصہ لیتے تھے اور مسلمان بھی ہندوؤں کی مذہبی تقریبات میں شریک ہوتے تھے۔ خاص طور پر دیوالی اور راکھی بندھن کی تقریبات میں شرکت عام تھی۔ اسی طرح ہندو برادری محرم، عیدالفطر اور شب برأت کی تقریبات میں شامل رہتی تھی۔ ہندو دھرم میں چھوت چھات کی روایتیں بڑی مضبوط تھیں اگر کسی نام نہاد اونچی جاتی کے ہندو کے پانی کے مٹکے کو مسلمان کا ہاتھ لگ جاتا تو مٹکے کا سارا پانی پھینک دیا جاتا تھا اگر کسی مسلمان کا ہاتھ نام نہاد اونچی جاتی کے کسی ہندو کو لگ جائے تو اشنان (غسل) ضروری ہو جاتا تھا۔
اس زمانے میں اناج راشن کارڈ پر ملتا تھا ہماری راشن کی دو دکانیں تھیں اور دونوں میں ہماری ہندو دوستوں سے پارٹنر شپ تھی ایک کا نام پانڈیا دوسرے کا ایشوریا تھا۔ میں یہ بات پارٹیشن کے بعد کی بتا رہا ہوں ہمارے درمیان مذہبی یکجہتی کا عالم یہ تھا کہ ہم ہندو دوستوں کے کچن میں بیٹھ کر کھانا کھاتے تھے اور ہندو دوست ہمارے ڈائننگ ٹیبل پر ہمارے ساتھ ہوتے تھے عیدین اور محرم کا چاند ہندو مسلمان ساتھ ساتھ دیکھتے تھے اور چاند کی مبارکباد پیش کرتے تھے جب میں 1980ء میں انڈیا گیا تو میں نے ان دونوں قوموں میں اور زیادہ یکجہتی کا مظاہرہ دیکھا۔
پاکستان کے دیہی علاقوں میں بھی ان مذاہب کے پیروکاروں کے درمیان اتحاد اور یکجہتی موجود تھی لیکن پچھلے کچھ عرصے سے حکمرانوں اور سیاستدانوں کی طرف سے مذہبی یکجہتی کے مظاہرے اس طرح کیے جا رہے ہیں کہ یہ حضرات دیوالی، ہولی وغیرہ کی ہندوؤں کی مذہبی تقاریب کے ساتھ ساتھ عیسائی بھائیوں کی مذہبی تقریبات مثلاً کرسمس، ایسٹر وغیرہ میں شرکت کر رہے ہیں ۔ حکومت سندھ نے تو اس حوالے سے یہ بہتر اور قابل تعریف اقدام یہ کیا ہے کہ ہندوؤں کی مذہبی تقریبات پر عام تعطیل کا اعلان کر دیا ہے، جس کی ابتدا حال ہی میں منائی والی ہولی سے کی گئی ہے۔
ہو سکتا ہے کچھ مذہبی انتہا پسندوں کو یہ روایات پسند نہ آئیں لیکن عام آدمی کی یہی خواہش ہے کہ پاکستان کی مذہبی اقلیتوں کے ساتھ مذہبی رواداری میں اضافہ ہو اور ان کے درمیان نفرتوں تعصبات کا خاتمہ ہو۔ کیتھولک عیسائیوں کے رہنما پوپ فرانسس نے مسلمان مہاجرین کے پاؤں دھو کر اور ان کے پاؤں پر بوسہ دے کر جس مذہبی فراخدلی کا مظاہرہ کیا ہے وہ قابل قدر ہے۔
ہو سکتا ہے بعض حلقے پوپ فرانسس کے اس اقدام کو اپنے مذہب کے لیے پروپیگنڈے سے تعبیر کریں، اگر یہ اقدام پوپ فرانسس نے اپنے مذہب کے پروپیگنڈے کے لیے بھی کیا ہے تو اس کے عام آدمی تک پہنچنے والے مثبت اثرات سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ بدقسمتی سے کرہ ارض کے انسانوں کا ماضی مذہب کے حوالے سے بڑا مایوس کن رہا ہے اور صلیبی جنگوں نے مذہب کے حوالے سے مسلمانوں کے ذہنوں میں تحفظات اور خدشات بھی پیدا کیے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ماضی کے یہ دلخراش واقعات یادوں سے محو ہوتے گئے لیکن سیاستدانوں اور حکمرانوں کے مفادات نے ابھی تک ایسے مسائل کھڑے کر رکھے ہیں جو عوام میں مذہبی مخاصمت اور مذہبی انتہا پسندوں میں دہشت گردی کے کلچر کو فروغ دینے میں آسانیاں فراہم کر دی ہیں۔
اس حوالے سے ہم کشمیر اور فلسطین کے مسائل کا حوالہ دے سکتے ہیں جو ہندوؤں اور مسلمانوں میں عدم اعتماد اور شکوک و شبہات پیدا کرنے کا سبب بن رہے ہیں جن کا ازالہ انسانوں کی اجتماعی بھلائی کے لیے ضروری ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مذہبی انتہا پسندوں کی تعداد اعتدال پسند عوام میں آٹے میں نمک کے برابر ہے لیکن مذہب کے نام پر یہ گروہ تیزی کے ساتھ اعتدال پسند اکثریت کو ہر جگہ یرغمال بنائے ہوئے ہیں۔
مسلم انتہا پسندی کے بعد انسانی تہذیب کو ہندو انتہا پسندی سے خطرہ لاحق ہو رہا ہے۔ بھارت میں بی جے پی کی حکومت کے آنے کے بعد بھارت میں تیزی کے ساتھ ہندو انتہا پسندی فروغ پا رہی ہے۔ بی جے پی، آر ایس ایس اور شیو سینا جیسی سفاک جماعتیں بھارت میں مذہبی انتہا پسندی کا زہر پھیلا رہی ہیں لیکن یقین کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ یہ شیطانی طاقتیں اپنے ناپاک مقاصد میں اس لیے کامیاب نہیں ہو سکتیں کہ بھارت میں اہل علم اہل دانش بیدار ہیں اور بی جے پی کی سیاست کے خلاف شدت سے آواز اٹھا رہی ہیں۔
ان کے علاوہ سول سوسائٹی اور پاک بھارت دوستی کی علمبردار طاقتیں اور اعتدال پسند عوام کی اکثریت مذہبی انتہا پسندوں کی راہ میں آہنی دیوار کی طرح کھڑی ہے۔ بدقسمتی سے بھارتی میڈیا کا کردار اس حوالے سے بہت مایوس کن ہے۔ آج کی جدید دنیا میں میڈیا خاص طور پر الیکٹرانک میڈیا مثبت سمت میں رائے عامہ کی تشکیل میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے لیکن دنیا کے سرمایہ داروں کی طرح بھارتی سرمایہ داروں کے مفادات کا یہی تقاضا ہے کہ عوام ایک دوسرے کے ساتھ برسر پیکار رہیں اور انھیں مذہب و ملت کے نام پر تقسیم کر کے رکھا جائے۔
مذہبی انتہا پسندی اگرچہ آج کی ایک بدنما حقیقت ہے لیکن بیسویں صدی کی ترقی خاص کر سائنس اور ٹیکنالوجی اور آئی ٹی کے شعبوں میں ہونے والی ترقی نے ہزاروں سال پر مشتمل نظریات اور عقائد کو بے جواز بنا کر رکھ دیا ہے، اب انسان عقائد و نظریات کی نئی تقسیم پر مجبور ہو رہا ہے۔ چاند کی تسخیر کے بعد اب انسان مریخ کے سفر پر روانہ ہو گیا ہے مریخ زمین سے کس قدر دور ہے اس کا اندازہ یوں لگایا جا سکتا ہے کہ ہزاروں کلو میٹر فی منٹ کی رفتار سے خلائی گاڑی کو مریخ کی طرف لے جانے والے راکٹ کو مریخ تک پہنچنے کے لیے 7 ماہ لگیں گے۔
خلائی مشن پر جانے والے یہ دو انسان مریخ کی زمین اور مریخ پر ہوا، پانی کی موجودگی کا جائزہ لیں گے اگر مریخ پر زندگی کے لوازمات موجود ہوں تو پھر انسان مریخ پر بستیاں بسانے میں مصروف ہو جائے گا۔ مریخ کے اس مشن کا حوالہ ہم نے اس لیے دیا ہے کہ زمین ہی کو کل کائنات سمجھنے اور اس حوالے سے اپنے نظریات و عقائد کی تشکیل دینے والے انسان کو یہ احساس ہو کہ ''آسمان سے آگے جہاں اور بھی ہیں۔'' اس حقیقت کو ماننے کے بعد مذہبی انتہا پسندی کا تصور حرف غلط کی طرح مٹ جائے گا۔ اور انسان کو یہ احساس ہو گا کہ کرہ ارض پر رہنے والے انسان کے پاس مذہبی بھائی چارے محبت یگانگت کے علاوہ دوسرے تمام جذبات بے معنی اور انسان دشمنی کے علاوہ کچھ نہیں۔
ہزاروں سالوں سے انسان مذہب کے حوالے سے ایک دوسرے سے تعصب اور نفرت کرتا چلا آ رہا ہے اب اس کلچر کا کوئی جواز باقی نہیں رہتا لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ ہماری درسی کتابوں میں کائناتی حقیقتوں کو شامل کیا جائے اور نوجوان نسل کو یہ بتایا جائے کہ زمین ہی کل کائنات ہے کے مفروضے پر تشکیل دیے جانے والے عقائد و نظریات بے معنی اور بے جواز ہیں کرہ ارض پر رہنے والے انسان کے لیے پرسکون اور محبت اور بھائی چارے کی زندگی کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں ہے۔
مذہبی انتہا پسندی اور مختلف حوالوں سے انسانی تقسیم بے معنی اور بے جواز ہے۔ کرہ ارض پر انسانی زندگی کو جہنم بنانے میں انسانوں کی مختلف حوالوں سے تقسیم سب سے بڑا فیکٹر ہے ہر انسان کو اپنے مذہب کا احترام کرنے کا حق ہے لیکن یہ حق دوسرے مذاہب کا احترام کرنے سے مشروط ہے یہی کلچر کرہ ارض کو انسان کے لیے جنت بنا سکتا ہے۔