طاقت کی غیر منتخب عناصرکو منتقلی
سابق صدر زرداری نے موجودہ جمہوری نظام کی سب سے بڑی کمزوری کی طرف توجہ مبذول کرائی
tauceeph@gmail.com
طاقت عوام کے بجائے غیر منتخب عناصر کو منتقل ہو رہی ہے، اختیار گولی سے نہیں، بیلٹ بکس سے آتا ہے عوام کے سیاسی شعور کی وجہ سے ملک میں ڈکٹیٹر شپ کی جڑیں مضبوط نہیں ہو سکیں۔
آصف علی زرداری نے پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقارعلی بھٹو کے37 ویں یوم شہادت کے موقعے پر اپنے پیغام میں موجودہ جمہوری نظام کی ایک بڑی کمزوری کی نشاندہی کی۔ دوسرے ہی دن بین الاقوامی صحافیوں کے ایک نیٹ ورک کی جاری کردہ رپورٹ میں پاناما میں رجسٹرڈ آف شور کمپنیوں کی فہرست جاری کر دی گئی۔ وزیراعظم نواز شریف کا خاندان بے نظیر بھٹو، رحمان ملک ، جسٹس (ر) قیوم سمیت بہت سے افرادکی آف شور کمپنیوں کے نام اس فہرست میں شامل ہیں۔
وزیراعظم نواز شریف کے صاحبزادے حسین شریف نے ایک ٹی وی انٹرویو میں اقرار کیا کہ وہ 1992 ء میں ملک سے چلے گئے تھے اور اس وقت سے بیرونی دنیا میں کاروبارکر رہے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ سعودی عرب کے اسٹیل ملز کو فروخت کر کے انھوں نے یہ آف شورکمپنیاں قائم کیں۔ وزیراعظم نواز شریف نے اس اہم مسئلے پر سرکاری ٹی وی پر قوم سے خطاب کیا۔
اپنے خطاب میں وزیراعظم نے آف شور کمپنیوں کے اسکینڈل کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ کے سابق جج پر مشتمل تحقیقاتی کمیشن کے قیام کا اعلان کیا، انھوں نے ٹی وی خطاب میں کہا کہ ان کے والد نے قیام پاکستان سے پہلے اتفاق فاؤنڈری قائم کی تھی۔
ان کے خاندان کے خلاف پہلے بھی جھوٹے الزامات ثابت نہیں ہو سکے، وزیراعظم نے شکوہ کیا کہ ان کے بچے ملک میں کاروبارکریں یا بیرون ملک کچھ لوگوں کو کچھ پسند نہیں آتا۔ پنجاب کے وزیراعلیٰ کی دوسری اہلیہ تہمینہ درانی نے اپنے ٹویٹ میں لکھا کہ شریف خاندان کو تمام دولت غریبوں میں تقسیم کر دینی چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ آف شورکمپنیاں قانونی ہو سکتی ہیں اخلاقی نہیں ہو سکتیں۔
سابق صدر زرداری نے موجودہ جمہوری نظام کی سب سے بڑی کمزوری کی طرف توجہ مبذول کرائی مگر اس کی وجوہات بیان کرنا پسند نہیں کیا۔ 1988ء سے ہی اگر تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو 1988ء میں ہونے والے انتخابات میں بینظیر بھٹو جنرل اسلم بیگ کے ساتھ ایک مفاہمت پر متفق ہونے کے بعد اقتدار میں آئیں۔ اس مفاہمت کے تحت خارجہ اور دفاع کی وزارتوں کو منتخب حکومت سے دور کر دیا گیا۔ پنجاب میں میاں نواز شریف کو وزیراعلیٰ بن گئے۔
بینظیر بھٹوکے پاس کام کرنے کے مواقعے کم تھے، مگر ان محدود مواقعوں میں تعلیم، صحت، انسانی وسائل شہروں، دیہات کی ترقی مزدوروں کسانوں کی بہبود کے لیے اصلاحات، عدالتی اور پولیس کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے وسیع مواقعے موجود تھے۔ بینظیر بھٹو ایک نئے وژن کے ساتھ اقتدار میں آئی تھیں۔ عوام کی ان سے بڑی امیدیں تھیں مگر پیپلز پارٹی کی حکومت عوام کے بنیادی مسائل پر توجہ نہیں دے پائی تھی اور نہ اچھی طرز حکومت کا ماڈل قائم کر سکی۔
ان کے شوہر آصف زرداری اور دوسرے وزراء کے اسکینڈل اخبارات کی زینت بننے لگے۔ بینظیر حکومت ایم کیو ایم کے ساتھ خوشگوار تعلقات قائم نہ کر سکی۔ اسی دور میں سرے محل کا اسکینڈل برطانوی اخبارکی زینت بنا۔ غلام اسحاق خان نے اٹھارہ مہینے بعد بینظیر حکومت کو برطرف کر دیا۔ مسلم لیگ کے سربراہ نواز شریف نے انتخابات میں واضح اکثریت سے کامیابی حاصل کی ان کی خوش قسمتی یہ تھی کہ چاروں صوبوں میں ان کی حامی صوبائی حکومتیں قائم ہوئی تھیں۔
میاں صاحب کے پاس کام کرنے کے بہت زیادہ مواقعے تھے۔ اسی دور میں لاہور، اسلام آباد موٹر وے کا پروجیکٹ شروع ہوا۔ بھارت سے خوشگوار تعلقات کی ابتدا ہوئی مگر پھر کوآپریٹواسکینڈل اخبارات کی زینت بنا۔ مگر حکومت نے اس اسکینڈل کی کبھی تحقیقات نہیں کرائیں۔ کچھ عرصے بعد یہ محسوس ہونے لگا کہ مسلم لیگ کی حکومت کو محض پنجاب سے دلچسپی ہے، باقی صوبے ان کی ترجیحات میں شامل نہیں ہیں۔
اختیارات کے معاملے پر میاں صاحب اور غلام اسحاق میں جھگڑے شروع ہوئے، پیپلز پارٹی اور دوسرے گروہوں سے غلام اسحاق خان نے روابط قائم کیے اور ایک دن نوازحکومت کو برطرف کر دیا۔ میاں صاحب کو سپریم کورٹ سے مدد ملی اور وہ اپنے عہدے پر بحال ہوئے مگر مقتدرہ کے دباؤ پر انھیں عام انتخابات کرانے کا فیصلہ کرنا پڑا۔ ڈاکٹر معین قریشی مختصر عرصے کے لیے ملک کے نگران وزیراعظم بنے اور نوے دن کے اندر بعض بنیادی اصلاحات کیں، انھوں نے ان تمام افراد کی فہرستیں شایع کیں جو بینکوں اور یوٹیلیٹی اداروں کے مقروض تھے۔ ریڈیو ٹی وی کو آزاد ادارہ بنانے کے لیے ایک ایڈہاک نظام بنایا گیا پہلی دفعہ بہت سے خاندانی لوگ مقروض ہونے کی بناء پر انتخابات میں حصہ نہ لے سکے۔
بینظیر دوبارہ اقتدار میں آئیں، اس دفعہ پنجاب میں بھی پیپلزپارٹی حکومت کا حصہ بنی۔بینظیر بھٹو کے سامنے ڈاکٹر معین قریشی کا شفاف نظام کا ایک ماڈل موجود تھا مگر بینظیر حکومت نے اس ماڈل کو فائلوں میں بند کر کے وزیر اعظم ہاؤس سے دور کر دیا۔آصف زرداری خود اس حکومت میں وزیر بن گئے ملکی و غیرملکی اخبارات میں سوئٹزر لینڈ میں حکمرانوں کے اکاؤنٹ کھولنے اور مختلف یورپی ممالک میں جائیدادیں خریدنے کی خبریں شایع ہونے لگیں۔
بینظیر حکومت نے کراچی میں ایم کیو ایم کے خلاف آپریشن کیا جس کے شروع میں مثبت نتائج برآمد ہونے شروع ہوئے پھر ماورائے عدالت قتل کے الزامات سپریم کورٹ کے ایجنڈے میں شامل ہو گئے۔ ایک وقت ایسا آیا اگر پیپلز پارٹی ایم کیو ایم کی قیادت سے مذاکرات کرتی اور اس کو قومی دھارے میں واپسی کا راستہ دیا جاتا تو حالات بہتر ہوتے مگر بینظیر کوئی جرات مندانہ قدم نہیں اٹھا سکیں۔ بینظیر بھٹو کے اپنے سابق صدر فاروق لغاری سے تضادات پیدا ہوئے اور کراچی آپریشن متنازع بن گیا۔
مرتضیٰ بھٹو کے قتل کے بعد صدر فاروق لغاری نے بینظیر حکومت کو برطرف کر دیا، بینظیر حکومت کی کارکردگی اتنی مایوس کن تھی کہ سندھ میں بھی اس برطرفی کے خلاف احتجاج نہیں ہوا۔ ایک دفعہ پھر ملک میں انتخابات ہوئے، نواز شریف قطعی اکثریت سے اقتدار میں آ گئے۔ عبوری حکومت کے سربراہ ملک معراج خالد نے پہلی دفعہ ملک میں عوام کے جاننے کے حق کو تسلیم کرنے کے لیے ایک آرڈیننس نافذ کیا۔ انتخابی مہم کے دوران میاں نواز شریف نے وعدہ کیا کہ اس آرڈیننس کو زیادہ بہتر بنا کر پارلیمنٹ سے منظور کروا کر قانون کی شکل میں نافذ کریں گے۔
اطلاعات کے حصول کے اس قانون کے ذریعے سرکاری اداروں میں بدعنوانی کو خاصی حد تک روکا جا سکتا تھا مگر میاں صاحب اقتدار میں آنے کے بعد اس وعدے کو بھول گئے۔ انھوں نے پنجاب میں بہت سے ترقیاتی کام شروع کیے بھارت سے دوستی کا سلسلہ شروع ہوا واجپائی بس میں بیٹھ کر لاہور آئے اور یادگار پاکستان پر پاکستان سے یکجہتی کا اظہارکیا۔ اچانک کارگل کا واقعہ ہوا مقتدرہ نے منتخب حکومت کو پیچھے دھکیل دیا اور 1999ء میں جنرل مشرف اقتدار میں آ گئے۔
2008ء میں پیپلز پارٹی کی حکومت مفاہمت کی پالیسی کے تحت اقتدار میں آئی۔ پہلی دفعہ مسلم لیگ، پیپلزپارٹی کے ساتھ وفاقی کابینہ کا حصہ بنی اور پارلیمنٹ کے اتحادکی بنا پر پرویز مشرف کو اقتدار چھوڑنا پڑا اور آصف زرداری صدر منتخب ہو گئے۔ صدر زرداری نے چیف جسٹس افتخار چوہدری کی بحالی کے مسئلے پر مسلم لیگ سے معاہدہ توڑ دیا، وفاق مکمل طور پر پیپلز پارٹی کی حکومت کے پاس آ گیا۔ سپریم کورٹ نے سوئس بینکوں میں رکھے ہوئے اکاؤنٹس کے بارے میں تحقیقات شروع کر دی حکومت ہر ہفتے نیا موقف اختیار کرتی رہی اور اس لڑائی میں اپنے وزیراعظم گیلانی کو بھی ضایع کر دیا۔
پیپلز پارٹی کے وفاقی اور صوبائی وزراء کے اسکینڈل عام سی بات بن گئے پیپلز پارٹی کی حکومت نے اچھی طرز حکومت کو اپنی ترجیحات سے خارج کر دیا ۔ پیپلزپارٹی کے رہنما جو 2002ء میں پارلیمنٹ کے رکن تھے انھوں نے عوام کے جاننے کے حق کی توثیق کے لیے وفاق کے قانون کو بہتر بنانے کے لیے بڑی مضبوط مہم شروع کی تھی۔
ان رہنماؤں میں آصف زرداری کے پریس سیکریٹری فرحت اللہ بابر اور شیری رحمان قابل ذکر تھیں۔ مگر 2008ء میں پیپلز پارٹی کے اقتدار میں آنے کے بعد بدعنوانی کے موثر علاج کے قانون کا معاملہ پس پشت ڈال دیا گیا۔ 2013ء میں پنجاب اور خیبرپختونخوا میں عوام کو اطلاعات کی فراہمی کے جامع قوانین بنے مگر پیپلز پارٹی مرکز اور صوبوں میں یہ قانون نافذ کرنے پر تیار نہ ہوئی۔
2013 ء کے انتخابات میں پیپلز پارٹی اندرون سندھ تک محدود ہو گئی مگر پیپلز پارٹی اب بھی اچھی طرز حکومت اور میرٹ کو اپنانے کو تیار نہیں، سول سوسائٹی کی کوششوں کے باوجود پیپلز پارٹی سندھ میں اطلاعات کے حصول کے قانون کو بہتر بنانے کو اپنے مفاد کے خلاف سمجھتی ہے۔ آصف زرداری 10 برس جیل میں رہے انھیں کسی مقدمے میں سزا نہیں ہوئی مگر سزا نہ ہونے کے باوجودوہMr Clean کا خطاب حاصل نہیں کر سکے۔
میاں نواز شریف تین برس قبل اقتدار میں آئے تو ان کے خلاف بظاہر کوئی بڑا اسکینڈل نہیں تھا مگر نیب کے معاملے پر تلخی سامنے آ گئی۔ عجیب صورتحال ہے کہ وفاقی حکومت نے نیب، ایف آئی اے اور رینجرز کو دہشت گردی کے خاتمے اور بد عنوانی کی تحقیقات کے لیے جو اختیارات سندھ میں دیے ہیں وہ یہ اختیارات پنجاب میں دینے کو تیار نہیں۔
اگرچہ وزیراعظم نے دوسرے ملکوں کی پیروی کرتے ہوئے آف شور کمپنیوں کے معاملے کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ کے ایک ریٹائرڈ جج پر مشتمل کمیشن قائم کیا ہے مگر کسی تحقیقاتی ادارے کو اس معاملے کی تحقیقات کی اجازت نہ دے کر کمیشن کے ناک کان بندکر دیے ہیں۔ اس اسکینڈل کی کوئی حقیقت ہو نہ ہو مگر یہ بات واضح ہے کہ سول گورنمنٹ کا اختیار مزید کمزور ہو گا پاکستان کے مختلف نظاموں پر تحقیق کرنے والے ماہرین کی متفقہ رائے ہے کہ غیر منتخب عناصر کو ریاست میں بنیادی کردار سے روکنے میں کامیابی اسی وقت ہو سکتی ہے جب منتخب نمایندے اچھی طرز حکومت اور میرٹ کو بنیاد بنائیں۔
آصف علی زرداری نے پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقارعلی بھٹو کے37 ویں یوم شہادت کے موقعے پر اپنے پیغام میں موجودہ جمہوری نظام کی ایک بڑی کمزوری کی نشاندہی کی۔ دوسرے ہی دن بین الاقوامی صحافیوں کے ایک نیٹ ورک کی جاری کردہ رپورٹ میں پاناما میں رجسٹرڈ آف شور کمپنیوں کی فہرست جاری کر دی گئی۔ وزیراعظم نواز شریف کا خاندان بے نظیر بھٹو، رحمان ملک ، جسٹس (ر) قیوم سمیت بہت سے افرادکی آف شور کمپنیوں کے نام اس فہرست میں شامل ہیں۔
وزیراعظم نواز شریف کے صاحبزادے حسین شریف نے ایک ٹی وی انٹرویو میں اقرار کیا کہ وہ 1992 ء میں ملک سے چلے گئے تھے اور اس وقت سے بیرونی دنیا میں کاروبارکر رہے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ سعودی عرب کے اسٹیل ملز کو فروخت کر کے انھوں نے یہ آف شورکمپنیاں قائم کیں۔ وزیراعظم نواز شریف نے اس اہم مسئلے پر سرکاری ٹی وی پر قوم سے خطاب کیا۔
اپنے خطاب میں وزیراعظم نے آف شور کمپنیوں کے اسکینڈل کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ کے سابق جج پر مشتمل تحقیقاتی کمیشن کے قیام کا اعلان کیا، انھوں نے ٹی وی خطاب میں کہا کہ ان کے والد نے قیام پاکستان سے پہلے اتفاق فاؤنڈری قائم کی تھی۔
ان کے خاندان کے خلاف پہلے بھی جھوٹے الزامات ثابت نہیں ہو سکے، وزیراعظم نے شکوہ کیا کہ ان کے بچے ملک میں کاروبارکریں یا بیرون ملک کچھ لوگوں کو کچھ پسند نہیں آتا۔ پنجاب کے وزیراعلیٰ کی دوسری اہلیہ تہمینہ درانی نے اپنے ٹویٹ میں لکھا کہ شریف خاندان کو تمام دولت غریبوں میں تقسیم کر دینی چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ آف شورکمپنیاں قانونی ہو سکتی ہیں اخلاقی نہیں ہو سکتیں۔
سابق صدر زرداری نے موجودہ جمہوری نظام کی سب سے بڑی کمزوری کی طرف توجہ مبذول کرائی مگر اس کی وجوہات بیان کرنا پسند نہیں کیا۔ 1988ء سے ہی اگر تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو 1988ء میں ہونے والے انتخابات میں بینظیر بھٹو جنرل اسلم بیگ کے ساتھ ایک مفاہمت پر متفق ہونے کے بعد اقتدار میں آئیں۔ اس مفاہمت کے تحت خارجہ اور دفاع کی وزارتوں کو منتخب حکومت سے دور کر دیا گیا۔ پنجاب میں میاں نواز شریف کو وزیراعلیٰ بن گئے۔
بینظیر بھٹوکے پاس کام کرنے کے مواقعے کم تھے، مگر ان محدود مواقعوں میں تعلیم، صحت، انسانی وسائل شہروں، دیہات کی ترقی مزدوروں کسانوں کی بہبود کے لیے اصلاحات، عدالتی اور پولیس کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے وسیع مواقعے موجود تھے۔ بینظیر بھٹو ایک نئے وژن کے ساتھ اقتدار میں آئی تھیں۔ عوام کی ان سے بڑی امیدیں تھیں مگر پیپلز پارٹی کی حکومت عوام کے بنیادی مسائل پر توجہ نہیں دے پائی تھی اور نہ اچھی طرز حکومت کا ماڈل قائم کر سکی۔
ان کے شوہر آصف زرداری اور دوسرے وزراء کے اسکینڈل اخبارات کی زینت بننے لگے۔ بینظیر حکومت ایم کیو ایم کے ساتھ خوشگوار تعلقات قائم نہ کر سکی۔ اسی دور میں سرے محل کا اسکینڈل برطانوی اخبارکی زینت بنا۔ غلام اسحاق خان نے اٹھارہ مہینے بعد بینظیر حکومت کو برطرف کر دیا۔ مسلم لیگ کے سربراہ نواز شریف نے انتخابات میں واضح اکثریت سے کامیابی حاصل کی ان کی خوش قسمتی یہ تھی کہ چاروں صوبوں میں ان کی حامی صوبائی حکومتیں قائم ہوئی تھیں۔
میاں صاحب کے پاس کام کرنے کے بہت زیادہ مواقعے تھے۔ اسی دور میں لاہور، اسلام آباد موٹر وے کا پروجیکٹ شروع ہوا۔ بھارت سے خوشگوار تعلقات کی ابتدا ہوئی مگر پھر کوآپریٹواسکینڈل اخبارات کی زینت بنا۔ مگر حکومت نے اس اسکینڈل کی کبھی تحقیقات نہیں کرائیں۔ کچھ عرصے بعد یہ محسوس ہونے لگا کہ مسلم لیگ کی حکومت کو محض پنجاب سے دلچسپی ہے، باقی صوبے ان کی ترجیحات میں شامل نہیں ہیں۔
اختیارات کے معاملے پر میاں صاحب اور غلام اسحاق میں جھگڑے شروع ہوئے، پیپلز پارٹی اور دوسرے گروہوں سے غلام اسحاق خان نے روابط قائم کیے اور ایک دن نوازحکومت کو برطرف کر دیا۔ میاں صاحب کو سپریم کورٹ سے مدد ملی اور وہ اپنے عہدے پر بحال ہوئے مگر مقتدرہ کے دباؤ پر انھیں عام انتخابات کرانے کا فیصلہ کرنا پڑا۔ ڈاکٹر معین قریشی مختصر عرصے کے لیے ملک کے نگران وزیراعظم بنے اور نوے دن کے اندر بعض بنیادی اصلاحات کیں، انھوں نے ان تمام افراد کی فہرستیں شایع کیں جو بینکوں اور یوٹیلیٹی اداروں کے مقروض تھے۔ ریڈیو ٹی وی کو آزاد ادارہ بنانے کے لیے ایک ایڈہاک نظام بنایا گیا پہلی دفعہ بہت سے خاندانی لوگ مقروض ہونے کی بناء پر انتخابات میں حصہ نہ لے سکے۔
بینظیر دوبارہ اقتدار میں آئیں، اس دفعہ پنجاب میں بھی پیپلزپارٹی حکومت کا حصہ بنی۔بینظیر بھٹو کے سامنے ڈاکٹر معین قریشی کا شفاف نظام کا ایک ماڈل موجود تھا مگر بینظیر حکومت نے اس ماڈل کو فائلوں میں بند کر کے وزیر اعظم ہاؤس سے دور کر دیا۔آصف زرداری خود اس حکومت میں وزیر بن گئے ملکی و غیرملکی اخبارات میں سوئٹزر لینڈ میں حکمرانوں کے اکاؤنٹ کھولنے اور مختلف یورپی ممالک میں جائیدادیں خریدنے کی خبریں شایع ہونے لگیں۔
بینظیر حکومت نے کراچی میں ایم کیو ایم کے خلاف آپریشن کیا جس کے شروع میں مثبت نتائج برآمد ہونے شروع ہوئے پھر ماورائے عدالت قتل کے الزامات سپریم کورٹ کے ایجنڈے میں شامل ہو گئے۔ ایک وقت ایسا آیا اگر پیپلز پارٹی ایم کیو ایم کی قیادت سے مذاکرات کرتی اور اس کو قومی دھارے میں واپسی کا راستہ دیا جاتا تو حالات بہتر ہوتے مگر بینظیر کوئی جرات مندانہ قدم نہیں اٹھا سکیں۔ بینظیر بھٹو کے اپنے سابق صدر فاروق لغاری سے تضادات پیدا ہوئے اور کراچی آپریشن متنازع بن گیا۔
مرتضیٰ بھٹو کے قتل کے بعد صدر فاروق لغاری نے بینظیر حکومت کو برطرف کر دیا، بینظیر حکومت کی کارکردگی اتنی مایوس کن تھی کہ سندھ میں بھی اس برطرفی کے خلاف احتجاج نہیں ہوا۔ ایک دفعہ پھر ملک میں انتخابات ہوئے، نواز شریف قطعی اکثریت سے اقتدار میں آ گئے۔ عبوری حکومت کے سربراہ ملک معراج خالد نے پہلی دفعہ ملک میں عوام کے جاننے کے حق کو تسلیم کرنے کے لیے ایک آرڈیننس نافذ کیا۔ انتخابی مہم کے دوران میاں نواز شریف نے وعدہ کیا کہ اس آرڈیننس کو زیادہ بہتر بنا کر پارلیمنٹ سے منظور کروا کر قانون کی شکل میں نافذ کریں گے۔
اطلاعات کے حصول کے اس قانون کے ذریعے سرکاری اداروں میں بدعنوانی کو خاصی حد تک روکا جا سکتا تھا مگر میاں صاحب اقتدار میں آنے کے بعد اس وعدے کو بھول گئے۔ انھوں نے پنجاب میں بہت سے ترقیاتی کام شروع کیے بھارت سے دوستی کا سلسلہ شروع ہوا واجپائی بس میں بیٹھ کر لاہور آئے اور یادگار پاکستان پر پاکستان سے یکجہتی کا اظہارکیا۔ اچانک کارگل کا واقعہ ہوا مقتدرہ نے منتخب حکومت کو پیچھے دھکیل دیا اور 1999ء میں جنرل مشرف اقتدار میں آ گئے۔
2008ء میں پیپلز پارٹی کی حکومت مفاہمت کی پالیسی کے تحت اقتدار میں آئی۔ پہلی دفعہ مسلم لیگ، پیپلزپارٹی کے ساتھ وفاقی کابینہ کا حصہ بنی اور پارلیمنٹ کے اتحادکی بنا پر پرویز مشرف کو اقتدار چھوڑنا پڑا اور آصف زرداری صدر منتخب ہو گئے۔ صدر زرداری نے چیف جسٹس افتخار چوہدری کی بحالی کے مسئلے پر مسلم لیگ سے معاہدہ توڑ دیا، وفاق مکمل طور پر پیپلز پارٹی کی حکومت کے پاس آ گیا۔ سپریم کورٹ نے سوئس بینکوں میں رکھے ہوئے اکاؤنٹس کے بارے میں تحقیقات شروع کر دی حکومت ہر ہفتے نیا موقف اختیار کرتی رہی اور اس لڑائی میں اپنے وزیراعظم گیلانی کو بھی ضایع کر دیا۔
پیپلز پارٹی کے وفاقی اور صوبائی وزراء کے اسکینڈل عام سی بات بن گئے پیپلز پارٹی کی حکومت نے اچھی طرز حکومت کو اپنی ترجیحات سے خارج کر دیا ۔ پیپلزپارٹی کے رہنما جو 2002ء میں پارلیمنٹ کے رکن تھے انھوں نے عوام کے جاننے کے حق کی توثیق کے لیے وفاق کے قانون کو بہتر بنانے کے لیے بڑی مضبوط مہم شروع کی تھی۔
ان رہنماؤں میں آصف زرداری کے پریس سیکریٹری فرحت اللہ بابر اور شیری رحمان قابل ذکر تھیں۔ مگر 2008ء میں پیپلز پارٹی کے اقتدار میں آنے کے بعد بدعنوانی کے موثر علاج کے قانون کا معاملہ پس پشت ڈال دیا گیا۔ 2013ء میں پنجاب اور خیبرپختونخوا میں عوام کو اطلاعات کی فراہمی کے جامع قوانین بنے مگر پیپلز پارٹی مرکز اور صوبوں میں یہ قانون نافذ کرنے پر تیار نہ ہوئی۔
2013 ء کے انتخابات میں پیپلز پارٹی اندرون سندھ تک محدود ہو گئی مگر پیپلز پارٹی اب بھی اچھی طرز حکومت اور میرٹ کو اپنانے کو تیار نہیں، سول سوسائٹی کی کوششوں کے باوجود پیپلز پارٹی سندھ میں اطلاعات کے حصول کے قانون کو بہتر بنانے کو اپنے مفاد کے خلاف سمجھتی ہے۔ آصف زرداری 10 برس جیل میں رہے انھیں کسی مقدمے میں سزا نہیں ہوئی مگر سزا نہ ہونے کے باوجودوہMr Clean کا خطاب حاصل نہیں کر سکے۔
میاں نواز شریف تین برس قبل اقتدار میں آئے تو ان کے خلاف بظاہر کوئی بڑا اسکینڈل نہیں تھا مگر نیب کے معاملے پر تلخی سامنے آ گئی۔ عجیب صورتحال ہے کہ وفاقی حکومت نے نیب، ایف آئی اے اور رینجرز کو دہشت گردی کے خاتمے اور بد عنوانی کی تحقیقات کے لیے جو اختیارات سندھ میں دیے ہیں وہ یہ اختیارات پنجاب میں دینے کو تیار نہیں۔
اگرچہ وزیراعظم نے دوسرے ملکوں کی پیروی کرتے ہوئے آف شور کمپنیوں کے معاملے کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ کے ایک ریٹائرڈ جج پر مشتمل کمیشن قائم کیا ہے مگر کسی تحقیقاتی ادارے کو اس معاملے کی تحقیقات کی اجازت نہ دے کر کمیشن کے ناک کان بندکر دیے ہیں۔ اس اسکینڈل کی کوئی حقیقت ہو نہ ہو مگر یہ بات واضح ہے کہ سول گورنمنٹ کا اختیار مزید کمزور ہو گا پاکستان کے مختلف نظاموں پر تحقیق کرنے والے ماہرین کی متفقہ رائے ہے کہ غیر منتخب عناصر کو ریاست میں بنیادی کردار سے روکنے میں کامیابی اسی وقت ہو سکتی ہے جب منتخب نمایندے اچھی طرز حکومت اور میرٹ کو بنیاد بنائیں۔