’’یو ٹو باسط‘‘ برے وقت میں اپنے بھی بورڈ پر نشتر برسانے لگے
چیئرمین کومستعفی ہونے کا مشورہ دینے والے جونیئرچیف سلیکٹرکوشوکاز نوٹس جاری
چیئرمین کومستعفی ہونے کا مشورہ دینے والے جونیئرچیف سلیکٹرکوشوکاز نوٹس جاری۔ فوٹو: فائل
برے وقت میں اپنے بھی پی سی بی حکام پر نشتر برسانے لگے، باسط علی کو جونیئر چیف سلیکٹر اس لیے بنایا گیا تھا کہ میڈیا پر گرجتی ایک توپ کو خاموش کیا جا سکے مگر وہ بھی ٹی وی پر سخت تجزیے کر رہے ہیں جو بورڈ کو ایک آنکھ نہ بھائے۔
تفصیلات کے مطابق ورلڈ ٹوئنٹی 20 میں پاکستان ٹیم کی غیرمعیاری کارکردگی نے بورڈ حکام کو شدید دباؤ کا شکار کیا ہوا ہے، سابق کرکٹرز اور میڈیا کی توپوں کا رخ انہی کی جانب ہے۔ باسط علی کو یہ سوچ کر جونیئر چیف سلیکٹر مقرر کیا گیا تھاکہ وہ بورڈ پر تنقید کے بجائے دفاع کیا کریں گے، مگر معاملہ اس کے الٹ ہوا، میگا ایونٹ کے دوران سابق ٹیسٹ بیٹسمین ایک ٹی وی چینل کے شو میں شریک ہوتے رہے، بعد میں بھی انھوں نے بعض انٹرویوز دیے جس میں بورڈ حکام کو تنقید کا نشانہ بنایا، پھر جب باسط علی نے چیئرمین شہریارخان کو مستعفی ہونے کا مشورہ دیا تو ان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا، گذشتہ دنوں جونیئر چیف سلیکٹر کو شوکاز نوٹس جاری کر دیا گیا، انھوں نے اس کا جواب بھی دے دیا جس میں لکھا کہ شہریارخان ان کیلیے والد کی طرح ہیں۔
انٹرویو کے دوران روانی میں کچھ جملے منہ سے نکل گئے،ان کا مقصد کسی کی تضحیک کرنا نہیں تھا، دوسری جانب ذرائع کہتے ہیں کہ باسط علی کو بورڈ کے ایک طاقتور افسر بہت پسند کرتے ہیں لہذا ان کے خلاف کارروائی کا زیادہ امکان نہیں لگتا، انھوں نے سلیکشن میں بعض فوائد پہنچا کر بورڈ کے چند دیگر بڑے افسران کو بھی کنٹرول میں رکھا ہوا ہے۔
تفصیلات کے مطابق ورلڈ ٹوئنٹی 20 میں پاکستان ٹیم کی غیرمعیاری کارکردگی نے بورڈ حکام کو شدید دباؤ کا شکار کیا ہوا ہے، سابق کرکٹرز اور میڈیا کی توپوں کا رخ انہی کی جانب ہے۔ باسط علی کو یہ سوچ کر جونیئر چیف سلیکٹر مقرر کیا گیا تھاکہ وہ بورڈ پر تنقید کے بجائے دفاع کیا کریں گے، مگر معاملہ اس کے الٹ ہوا، میگا ایونٹ کے دوران سابق ٹیسٹ بیٹسمین ایک ٹی وی چینل کے شو میں شریک ہوتے رہے، بعد میں بھی انھوں نے بعض انٹرویوز دیے جس میں بورڈ حکام کو تنقید کا نشانہ بنایا، پھر جب باسط علی نے چیئرمین شہریارخان کو مستعفی ہونے کا مشورہ دیا تو ان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا، گذشتہ دنوں جونیئر چیف سلیکٹر کو شوکاز نوٹس جاری کر دیا گیا، انھوں نے اس کا جواب بھی دے دیا جس میں لکھا کہ شہریارخان ان کیلیے والد کی طرح ہیں۔
انٹرویو کے دوران روانی میں کچھ جملے منہ سے نکل گئے،ان کا مقصد کسی کی تضحیک کرنا نہیں تھا، دوسری جانب ذرائع کہتے ہیں کہ باسط علی کو بورڈ کے ایک طاقتور افسر بہت پسند کرتے ہیں لہذا ان کے خلاف کارروائی کا زیادہ امکان نہیں لگتا، انھوں نے سلیکشن میں بعض فوائد پہنچا کر بورڈ کے چند دیگر بڑے افسران کو بھی کنٹرول میں رکھا ہوا ہے۔