ورزش سے نزلہ زکام کے امکانات کم ہوجاتے ہیں ماہرین
زیادہ عمر، مرد اور شادی شدہ ہونے سے نزلے کی فریکوینسی کم ہو جاتی ہے۔
متحرک زندگی گزارنے والوں میں نزلے کے امکانات آدھے ہو جاتے ہیں. فوٹو : فائل
KARACHI:
ماہرین کا کہنا ہے کہ ورزش کرنے سے نزلے زکام کے امکانات کام ہو جاتے ہیں۔ایک تحقیق کے مطابق جو لوگ باقاعدگی سے ورزش کرتے ہیں انھیں نزلہ زکام کم ہوتا ہے۔
ایک ہزار افراد پر کی گئی اس تحقیق کے مطابق جو لوگ 'اکٹیو' یا متحرک زندگی گزارتے ہیں ان میں نزلے زکام کا وائرس لگنے کے امکانات آدھے ہو جاتے ہیں۔ماہرین نے برٹش جرنل آف اسپورٹس میڈیسن کو بتایا کہ اس کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ ورزش جسم کے مدافعتی نظام کو مضبوط کرتی ہے۔لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ کو بہت سی ورزش کرنا ہے۔ جو افراد فٹ ہیں ان میں بھی اس کا رسک کم ہوتا ہے ۔تحقیق کے مطابق یہ فیصلہ کرنا آپ کا کام ہے کہ آپ نے کس طرح کا طرز زندگی گزارنا ہے۔
ایسا کہ آپ کو یہ (نزلہ زکام) بالکل نہ ہو یا پھر ایسا کہ آپ اس میں بری طرح مبتلا رہیں۔اس تحقیق کے لیے ماہرین نے تندرست رضاکاروں سے کہا کہ وہ اپنے پاس اس بات کا ریکارڈ رکھیں کہ انھیں موسمِ سرما اور خزاں کے دوران تین ماہ کے عرصے میں کتنی مرتبہ کھانسی یا نزلہ ہوا۔ان سے یہ بھی پوچھا گیا کہ اس دوران کسی بھی ہفتے میں انھوں نے کتنی مرتبہ بیس منٹ سے زیادہ ورزش کی جس سے انھیں کم از کم پسینہ آیا ہو۔تحقیق سے پتہ چلا کہ زیادہ عمر، مرد اور شادی شدہ ہونے سے نزلے کی فریکوینسی کم ہو جاتی ہے۔ یہی حال زیادہ پھل کھانے سے بھی ہوتا ہے۔لیکن جو سب سے اہم چیز دیکھنے میں آئی وہ یہ تھی کہ کون کتنی ورزش کرتا تھا یا اپنے آپ کو فٹ محسوس کرتا تھا۔فٹ محسوس کرنے اور متحرک زندگی گزارنے سے نزلے زکام کے پچاس فیصد امکانات کم ہو جاتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ورزش کرنے سے نزلے زکام کے امکانات کام ہو جاتے ہیں۔ایک تحقیق کے مطابق جو لوگ باقاعدگی سے ورزش کرتے ہیں انھیں نزلہ زکام کم ہوتا ہے۔
ایک ہزار افراد پر کی گئی اس تحقیق کے مطابق جو لوگ 'اکٹیو' یا متحرک زندگی گزارتے ہیں ان میں نزلے زکام کا وائرس لگنے کے امکانات آدھے ہو جاتے ہیں۔ماہرین نے برٹش جرنل آف اسپورٹس میڈیسن کو بتایا کہ اس کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ ورزش جسم کے مدافعتی نظام کو مضبوط کرتی ہے۔لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ کو بہت سی ورزش کرنا ہے۔ جو افراد فٹ ہیں ان میں بھی اس کا رسک کم ہوتا ہے ۔تحقیق کے مطابق یہ فیصلہ کرنا آپ کا کام ہے کہ آپ نے کس طرح کا طرز زندگی گزارنا ہے۔
ایسا کہ آپ کو یہ (نزلہ زکام) بالکل نہ ہو یا پھر ایسا کہ آپ اس میں بری طرح مبتلا رہیں۔اس تحقیق کے لیے ماہرین نے تندرست رضاکاروں سے کہا کہ وہ اپنے پاس اس بات کا ریکارڈ رکھیں کہ انھیں موسمِ سرما اور خزاں کے دوران تین ماہ کے عرصے میں کتنی مرتبہ کھانسی یا نزلہ ہوا۔ان سے یہ بھی پوچھا گیا کہ اس دوران کسی بھی ہفتے میں انھوں نے کتنی مرتبہ بیس منٹ سے زیادہ ورزش کی جس سے انھیں کم از کم پسینہ آیا ہو۔تحقیق سے پتہ چلا کہ زیادہ عمر، مرد اور شادی شدہ ہونے سے نزلے کی فریکوینسی کم ہو جاتی ہے۔ یہی حال زیادہ پھل کھانے سے بھی ہوتا ہے۔لیکن جو سب سے اہم چیز دیکھنے میں آئی وہ یہ تھی کہ کون کتنی ورزش کرتا تھا یا اپنے آپ کو فٹ محسوس کرتا تھا۔فٹ محسوس کرنے اور متحرک زندگی گزارنے سے نزلے زکام کے پچاس فیصد امکانات کم ہو جاتے ہیں۔