ایسی بیماری جس کا علاج صرف ’چھترول‘

اس غرور و تکبر کے مرض کا متفق علیہ علاج صرف پنجابی کا چھتر ہے، وہ چاہے کسی بھی سائز، کسی بھی ٹائپ کا ہو۔

غصہ ناک پر دھرا رہتا ہے جیسے ہی کوئی خلاف مرضی کام ہوتا ہے یہ بہنے لگتا ہے، جیسے بچپن میں انکی ناک بہتی تھی، فرق یہ ہے کہ بہتی ناک کو یہ چاٹ لیتے تھے لیکن غصہ غریب کو چاٹ جاتا ہے۔

ایک خطرناک دماغی بیماری پاکستان میں تیزی سے پھیلتی جارہی ہے، اس مرض کے جرثومہ پہلے صرف اقتداری جگہوں پر پائے جاتے تھے، اب تقریباً ہر پوش علاقے میں پھیل گئے ہیں۔ یہ خطرناک جرثومے اچھے بھلے انسان کا دماغ خراب کردیتے ہیں۔ جیسے ہی دل و دماغ میں گھستے ہیں، مرض کی شدت نمایاں ہوجاتی ہے۔ اس مرض کی علامات میں فوری اثر دماغ پر ہوتا ہے، عقل رخصت ہوجاتی ہے۔ خالی دماغ میں غرور و تکبر، انا پرستی، خود ستائشی و نمائشی، جہالت، بے شرمی، ڈھٹائی، حسد، نفرت جیسی اقسام پر مشتمل بھوسہ بھر جاتا ہے۔

مریض خود کو انسان سمجھنا چھوڑ دیتا ہے، دوسرے انسان اُسے کیڑے مکوڑوں سے بھی کم تر مخلوق دکھائی دینے لگتے ہیں۔ جسمانی اثر سب سے زیادہ گردن اور چہرے پر دکھائی دیتا ہے۔ گردن کے پٹھوں میں ایسا اکڑاؤ آجاتا ہے مانو جیسے سریا گھس گیا ہو۔ دل سے انسانیت، رحم دلی، ہمدردی، خدا ترسی، خدا خوفی، عفو و درگزر اور معاف کرنے کے جذبات ایسے غائب ہوجاتے ہیں جیسے گدھے کے سر سے سینگ، دوسروں کو گدھا خیال کرتا ہے مگر ضرورت پڑنے پر اسے باپ بنانے کو بھی تیار ہوجاتا ہے۔ اکثر مریضوں کا منہ ایسا بن جاتا جسے پنجابی میں فٹے منہ کہتے ہیں، ہونٹ ایسے زبردستی بند رکھنے کی عادت پڑجاتی ہے جیسے منہ میں غلاظت بھری ہے۔

کچھ مریضوں کے تو ناک کے نتھنے بھی ایسے پھولنے لگتے ہیں گویا بھینسا کسی کو ٹکر مارنے سے پہلے پھلاتا ہے۔ اکثر مریض تو دوسروں کو دیکھ کر سر بھی جھٹکنے لگتے ہیں۔ ردعمل ایسا ہوتا ہے جیسے چاروں طرف گندگی، غلاظت پھیلی ہے اور با امر مجبوری اس پر آلتی پالتی مارے بیٹھے ہیں، حالانکہ معاشرے کی سب سے بڑی غلاطت اور گندگی یہ خود ہوتے ہیں۔ غصہ ناک پر دھرا رہتا ہے جیسے ہی کوئی خلاف مرضی کام ہوتا ہے یہ بہنے لگتا ہے، جیسے بچپن میں ان کی ناک بہتی تھی، فرق صرف یہ ہے کہ اس بہتی ناک کو تو یہ چاٹ لیتے تھے لیکن غصہ کسی غریب کو چاٹ جاتا ہے۔

بیشتر مریضوں کے ماتھے پر تیوریاں بھی دیکھی گئی ہیں، ایسے مریضوں کی آنکھیں پھٹ کر ایسے باہر نکلی ہوتی ہیں جیسے پھانسی پانے والے مجرم کی آنکھیں باہر نکل آتی ہیں۔ انہیں ہنستا مسکراتا ویسے کم ہی دیکھا گیا ہے، مگر دوسروں کو دکھ، تکلیف، درد دے کر مصیبت میں دیکھ کر سکون محسوس کرتے ہیں، انا کو تسکین ہوتی ہے، باچھیں کھل کھل جاتی ہیں۔ تنہائی میں گھبراتے ہیں اور خلقت میں گھبرانے کی اداکاری کرتے ہیں۔ اطبا کے نزدیک ایسوں کی صحبت بھی مضر ہے جو ایسے مریضوں سے میل جول رکھتا ہے اور ان کی صحبت میں اٹھتا بیٹھتا ہے۔ اس کے پاس مرض میں مبتلا ہونے کے وسائل نہ بھی ہو پھر بھی کچھ علامات ظاہر ہونا شروع ہوجاتی ہیں، سو حکما کا عوام کو مشورہ یہی ہے کہ ایسے افراد کی صحبت سے بچا جائے۔


مرض کی علامات پڑھ کر اندازہ تو یقیناً ہو ہی گیا ہوگا کہ یہاں کس سنگین بیماری کی بات ہورہی ہے کیونکہ یہ علامات تو ہم روزانہ کی بنیاد پر اپنے گرد و نواح میں دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ اس بیماری کو ہم غرور و تکبر بھی کہہ سکتے ہیں اور وی آئی اے بھی کہہ سکتے ہیں۔ اب آتے ہیں علاج کی طرف۔ تو مرض کا متفق علیہ علاج صرف پنجابی کا چھتر ہے، وہ چاہے کسی بھی سائز، کسی بھی ٹائپ کا ہو۔ وقت کے ہاتھوں پڑے یا پھر انقلابِ زمانہ یا عوام کے ہاتھوں، مرض میں خاطر خواہ افاقہ ہوتا ہے۔ کچھ مریض پہلے چھتر پر چوں چوں کی آواز نکال کر کاٹنے کی کوشش بھی کرسکتے ہیں، مگر علاج پر اصرار اور تسلسل جاری رہے تو تمام خطرناک جرثوموں کا خاتمہ کردیتا ہے۔ دوا کی موزوں و موافق جگہ سر ہی بتایا جاتا ہے۔ جہاں پڑنے سےعقل فوراً ٹھکانے آتی ہے مگر انقلابی حالات میں تو جہاں بھی پڑے زود اثر دیکھا گیا ہے۔

[poll id="1063"]

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اوراپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کریں۔ بلاگ کے ساتھ تصاویر اورویڈیو لنکس۔
Load Next Story