بحران ٹلا نہیں وزیروں کی فوج معیشت پر بوجھ ہے حفیظ شیخ
شرح نمو متاثر کن ہے نہ برآمدات، پرامن انتقال اقتدارنہیں ہوا تو معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔
وفاقی وزیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے کہا ہے کہ کالے دھن کو سفید کرنے کیلیے مجوزہ ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کو پارلیمنٹ سے منظوری کے دوران ٹانگ کھینچنے والوں سے اصل خطرہ ہے۔
پاکستان سوسائٹی آف ڈیولپمنٹ اکنامکس کے زیرانتظام پائیڈ کے اشتراک سے ''پیداوار، جدت و نمو کیلیے اقتصادی اصلاحات'' کے موضوع پر منعقدہ کانفرنس اور سالانہ اجلاس سے خطاب اور میڈیا سے گفتگو میں ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ معیشت کو بہتر کرنے کیلیے دولت مندوں کو ٹیکس ادا کرنا ہو گا، حکومت نے ٹیکس چوری سے نمٹنے کیلیے جامع میکنزم تیار کیا ہے،یہ بات ماننے والی ہے کہ معیشت اب تک بحران میں چل رہی ہے، چند سال سے جی ڈی پی نموکی شرح ہرگز متاثر کن نہیں جبکہ رواں مالی سال گروتھ ریٹ 4فیصد سے زائد رہنے کی امید ہے۔
ایک سوال پر عبدالحفیظ شیخ نے کہا کہ معیشت کے استحکام و ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ حکومت کا حجم بڑھ جانا ہے، بیورو کریٹوں اور وزیروں ، مشیروں کی ایک فوج ظفر موج ہے جو سرکاری خزانے پر بہت بڑا بوجھ بن چکی ہے نیز دنیا بھر میں ہماری برآمدات کا حصہ مایوس کن حد تک کم ہے، ہمیں برآمدات میں اضافہ کرنا ہوگا،معاشی استحکام کیلیے ضروری ہے کہ پاکستان میں آنے والے چند ماہ کے دوران پرامن انتقال اقتدار ہو، اگر یہ نہ ہوا تو معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا اور ہم ایک بار پھر 2008 والی پوزیشن پر کھڑے ہوں گے، ہمارا سب سے بڑا المیہ کمزور گورننس کا ہے تاہم امید افزا بات یہ ہے کہ کرپشن کیخلاف اب ادارے ایکشن لے رہے ہیں۔
پاکستان سوسائٹی آف ڈیولپمنٹ اکنامکس کے زیرانتظام پائیڈ کے اشتراک سے ''پیداوار، جدت و نمو کیلیے اقتصادی اصلاحات'' کے موضوع پر منعقدہ کانفرنس اور سالانہ اجلاس سے خطاب اور میڈیا سے گفتگو میں ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ معیشت کو بہتر کرنے کیلیے دولت مندوں کو ٹیکس ادا کرنا ہو گا، حکومت نے ٹیکس چوری سے نمٹنے کیلیے جامع میکنزم تیار کیا ہے،یہ بات ماننے والی ہے کہ معیشت اب تک بحران میں چل رہی ہے، چند سال سے جی ڈی پی نموکی شرح ہرگز متاثر کن نہیں جبکہ رواں مالی سال گروتھ ریٹ 4فیصد سے زائد رہنے کی امید ہے۔
ایک سوال پر عبدالحفیظ شیخ نے کہا کہ معیشت کے استحکام و ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ حکومت کا حجم بڑھ جانا ہے، بیورو کریٹوں اور وزیروں ، مشیروں کی ایک فوج ظفر موج ہے جو سرکاری خزانے پر بہت بڑا بوجھ بن چکی ہے نیز دنیا بھر میں ہماری برآمدات کا حصہ مایوس کن حد تک کم ہے، ہمیں برآمدات میں اضافہ کرنا ہوگا،معاشی استحکام کیلیے ضروری ہے کہ پاکستان میں آنے والے چند ماہ کے دوران پرامن انتقال اقتدار ہو، اگر یہ نہ ہوا تو معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا اور ہم ایک بار پھر 2008 والی پوزیشن پر کھڑے ہوں گے، ہمارا سب سے بڑا المیہ کمزور گورننس کا ہے تاہم امید افزا بات یہ ہے کہ کرپشن کیخلاف اب ادارے ایکشن لے رہے ہیں۔